Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زیور کا ڈبہ

پریم چند

زیور کا ڈبہ

پریم چند

MORE BYپریم چند

    بی۔ اے پاس کرنے کے بعد چندر پرکاش کو ایک ٹیوشن کرنے کے سوا کچھ نہ سوجھا۔ ان کی ماں پہلے ہی مر چکی تھی۔ اسی سال والد بھی چل بسے۔ اور پرکاش زندگی کے جو شیریں خواب دیکھا کرتا تھا، وہ مٹی میں مل گئے۔ والد اعلٰی عہدے پر تھے۔ ان کی وساطت سے چندر پرکاش کوئی اچھی جگہ ملنے کی پوری امید تھی، مگر وہ سب منصوبے دھرے ہی رہ گئے۔ اور اب گزر اوقات کے لئے صرف تیس روپے ماہوار کی ٹیوشن ہی رہ گئی ہے۔ والد نے کوئی جائداد نہ چھوڑی الٹا بھوک کا بوجھ اور سر پر لاد دیا۔ اور بیوی بھی ملی تو تعلیم یافتہ، شوقین، زبان کی طرار جسے موٹا کھانے اور موٹے پہننے کی نسبت مر جانا قبول تھا۔

    چندر پرکاش کو تیس کی نوکری کرتے شرم آتی تھی۔ لیکن ٹھاکر صاحب نے رہنے کے لئے مکان دے کر ان کے آنسو پونچھ دیئے۔ یہ مکان ٹھاکر صاحب کے مکان سے ملا ہوا تھا۔ پختہ ہوا دار صاف ستھرا اور ضروری سامان سےآراستہ۔ ایسا مکان بیس روپے ماہوار سے کم میں نہ مل سکتا تھا۔ لڑکا تو لگ بھگ انھیں کی عمر کا تھا مگر بڑا کند ذہن، کام چور، ابھی نویں درجہ میں پڑھتا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ٹھاکر اور ٹھکرائن دونوں پرکاش کی بڑی عزت کرتے تھے بلکہ اپنا ہی لڑکا سمجھتے تھے۔ گویا ملازم نہیں، گھر کا آدمی تھا اور گھر کے ہر ایک معاملے میں اس سے مشورہ لیا جاتا تھا۔

    شام کا وقت تھا۔ پرکاش نے اپنے شاگرد ویریندر کو پڑھا کر چلنے کے لئے چھڑی اٹھائی تو ٹھکرائن نے کہا، ’’ابھی نہ جاؤ بیٹا، ذرا میرے ساتھ آؤ، تم سے کچھ کہنا ہے۔‘‘

    پرکاش نے دل میں سوچا، وہ کیا بات ہے جو ویریندر کے سامنے نہیں کہی جا سکتی۔ پرکاش کو علاحدہ لے جا کر امادیوی نے کہا، ’’تمہاری کیا صلاح ہے۔؟ ویرو کا بیاہ کر دوں ایک بہت اچھے گھر کا پیغام آیا ہے۔‘‘

    پرکاش نے مسکرا کر کہا، ’’یہ تو ویرو بابو ہی سے پوچھیے۔‘‘

    ’’نہیں میں تم سے پوچھتی ہوں۔‘‘

    پرکاش نے ذرا تذبذب سے کہا، ’’میں اس معاملے میں کیا صلاح دے سکتا ہوں؟ ان کا بیسواں سال تو ہے۔ لیکن یہ سمجھ لیجیے کہ بیاہ کے بعد پڑھنا ہو چکا۔‘‘

    ’’تو ابھی نہ کروں۔ تمہاری یہی صلاح ہے‘‘

    ’’جیسا آپ مناسب خیال فرمائیں۔ میں نے تو دونوں باتیں عرض کر دیں۔‘‘

    ’’تو کر ڈالوں؟ مجھے یہ ڈر لگتا ہے کہ لڑکا کہیں بہک نہ جائے پھر پچھتانا پڑےگا‘‘

    ’’میرے رہتے ہوئے تو آپ اس کی فکر نہ کریں۔ ہاں مرضی ہو تو کر ڈالیے کوئی حرج بھی نہیں ہے۔‘‘

    ’’سب تیاریاں تمہیں کرنی پڑیں گی یہ سمجھ لو۔‘‘

    ’’تو میں کب انکار کرتا ہوں۔‘‘

    روٹی کی خیر منانے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں ایک کمزوری ہوتی ہےجو انہیں تلخ سچائی کے اظہار سے روکتی ہے۔ پرکاش میں بھی یہی کمزوری تھی۔

    بات پکی ہو گئی اور شادی کا سامان ہونے لگا۔ ٹھاکر صاحب ان اصحاب میں سے تھے جنہیں اپنے اوپر بھروسہ نہیں ہوتا۔ ان کی نگاہ میں پرکاش کی ڈگری اپنے ساٹھ سالہ تجربے سے زیادہ قیمتی تھی۔ شادی کا سارا انتظام پرکاش کے ہاتھوں میں تھا۔ دس بارہ ہزار روپے خرچ کرنے کا اختیار کچھ تھوڑی عزت کی بات نہیں تھی۔ دیکھتے دیکھتے ایک خستہ حال نوجوان ذمہ دار منیجر بن بیٹھا۔ کہیں بزاز اسے سلام کرنے آیا ہے۔ کہیں محلے کا بنیا گھیرے ہوئے ہے۔ کہیں گیس اور شامیانے والا خوشامد کر رہا ہے۔ وہ چاہتا تو دو چار سو روپے آسانی سے اڑا سکتا تھا، لیکن اتنا کمینہ نہ تھا۔ پھر اس کے ساتھ کیا دغا کرے جس نے سب کچھ اسی پر چھوڑ دیا ہو۔ مگر جس دن اس نے پانچ ہزار کے زیورات خریدے اس کے کلیجہ پر سانپ لوٹنے لگا۔

    گھر آ کر چمپا سے بولا، ’’ہم تو یہاں روٹیوں کے محتاج ہیں، اور دنیا میں ایسے ایسے آدمی پڑے ہیں جو ہزاروں لاکھوں روپے کے زیورات بنوا ڈالتے ہیں۔ ٹھاکر صاحب نے آج بہو کے چڑھاوے کے لئے پانچ ہزار کے زیور خریدے۔ ایسی ایسی چیزوں کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں سچ کہتا ہوں۔ بعض چیزوں پر تو آنکھ نہیں ٹھہرتی تھی۔‘‘

    چمپا حاسدانہ لہجے میں بولی، “اونہہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ جنہیں ایشور نے دیا ہے وہ پہنیں یہاں تو رو رو کر مرنے کو پیدا ہوئے ہیں۔‘‘

    چندر پرکاش: ’’یہی لوگ مزے اڑاتے ہیں۔ نہ کمانا نہ دھمانا باپ دادا چھوڑ گئے ہیں۔ مزے سے کھاتے اور چین کرتے ہیں۔ اسی لئے کہتا ہوں، ایشور بڑا غیر منصف ہے۔‘‘

    چمپا: ’’اپنا اپنا مقدر ہے۔ ایشور کا کیا قصور ہے۔ تمہارے باپ دادا چھوڑ گئے ہوتے تو تم بھی مزے اڑاتے۔ یہاں تو روزمرہ کا خرچ چلانا مشکل ہے۔ گہنے کپڑے کون روئے؟ کوئی ڈھنگ کی ساڑی بھی نہیں کہ کسی بھلے آدمی کے گھر جانا ہو تو پہن لوں۔ میں تو اسی سوچ میں ہوں کہ ٹھکرائن کے یہاں شادی میں کیسے جاؤں گی۔ سوچتی ہوں بیمار پڑ جاتی تو جان بچتی۔‘‘

    یہ کہتے کہتے اس کی آنکھیں بھر آئیں پرکاش نے تسلی دی، ’’ساڑی تمہارے لئے ضرور لاؤں گا۔ یہ مصیبت کے دن ہمیشہ نہ رہیں گے۔ زندہ رہا تو ایک دن تم سر سے پاؤں تک زیور سے لدی ہوگی۔‘‘

    چمپا مسکراکر بولی، ’’چلو ایسی من کی مٹھائی میں نہیں کھاتی۔ گزر ہوتی جائے یہی بہت ہے۔‘‘

    پرکاش نےچمپا کی بات سن کر شرم اور حیا سے سر جھکا لیا۔ چمپا اسے اتنا کاہل الو جود سمجھتی ہے۔

    رات کو دونوں کھانا کھا کر سوئے تو پرکاش نے پھر زیوروں کا ذکر چھیڑا۔ زیور اس کی آنکھوں میں بسے ہوئے تھے۔ ’’اس شہر میں ایسے بڑھیا زیور بنتے ہیں۔ مجھے اس کی امید نہ تھی۔‘‘

    چمپا نے کہا، ’’کوئی اور بات کرو۔ زیوروں کی بات سن کر دل جلتا ہے۔‘‘

    ’’ایسی چیزیں تم پہنو تو رانی معلوم ہونے لگو۔‘‘

    ’’زیوروں سے کیا خوبصورتی معلوم ہوتی ہے۔ میں نے تو ایسی بہت سی عورتیں دیکھی ہیں، جو زیور پہن کر بھی بھدی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

    ٹھاکر صاحب مطلب کے یار معلوم ہوتے ہیں، یہ نہ ہوا کہ کہتے، ’’تم اس میں سے کوئی چمپا کے لئے لیتے جاؤ۔‘‘

    ’’تم کیسی بچوں کی سی باتیں کرتے ہو۔‘‘

    ’’اس میں بچپن کی کیا بات ہے کوئی فراخ دل آدمی کبھی اتنی کنجوسی نہ کرتا۔‘‘

    ’’میں نے سخی کوئی نہیں دیکھا۔ جو اپنی بہو کے زیور کسی غیر کو بخش دے۔‘‘

    ’’میں غیر نہیں ہوں۔ ہم دونوں ایک ہی مکان میں رہتے ہیں۔ میں ان کے لڑکے کو پڑھاتا ہوں اور شادی کا سارا انتظام کر رہا ہوں۔ اگر سو دو سو کی چیز دے دیتے تو کون سی بڑی بات تھی۔ مگر اہل ثروت کا دل دولت کے بوجھ سے دب کر سکڑ جاتا ہے۔ اس میں سخاوت اور فراخ حوصلگی کے لئے جگہ ہی نہیں رہتی۔‘‘

    یکایک پرکاش چارپائی سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔ آہ چمپا کے نازک جسم پر ایک گہنا بھی نہیں پھر بھی وہ کتنی شاکر ہے۔ اسے چمپا پر رحم آ گیا۔ یہی تو کھانے پینے کی عمر ہے اور اس عمر میں اس بیچاری کو ہر ایک چیز کے لئے ترسنا پڑتا ہے۔ وہ دبے پاؤں گھر سے باہر چھت پر آیا۔ ٹھاکر صاحب کی چھت اس چھت سے ملی ہوئی تھی۔ بیچ میں ایک پانچ فٹ اونچی دیوار تھی۔ وہ دیوار پر چڑھ گیا اور ٹھاکر صاحب کی چھت پر آہستہ سے اتر گیا۔ گھر میں بالکل سناٹا تھا۔

    اس نے سوچا پہلے زینہ سے اتر کر کمرہ میں چلوں۔ اگر وہ جاگ گئے تو زور سے ہنس دوں گا اور کہوں گا، کیا چرکا دیا۔ کہہ دوں گا۔ میرے گھر کی چھت سے کوئی آدمی ادھر آتا دکھائی دیا اس لئے میں بھی اس کے پیچھے پیچھے آیا کہ دیکھوں یہ کیا کر رہا ہے؟ کسی کو مجھ پر شک ہی نہیں ہوگا۔ اگر صندوق کی کنجی مل گئی تو پو بارہ ہیں۔ سب نوکروں پر شبہ کریں گے۔ میں بھی کہوں گا صاحب نوکروں کی حرکت ہے ان کے سوا اور کون لے جا سکتا ہے۔ میں نلوہ نکل جاؤں گا۔ شادی کے بعد کوئی دوسرا گھر لے لوں گا۔ پھر آہستہ آہستہ ایک ایک زیور چمپا کو دوں گا جس سے کوئی شک نہ گزرے۔ پھر بھی وہ جب زینے سے اترنے لگا تو اس کا دل دھڑک رہا تھا۔

    دھوپ نکل آئی تھی پرکاش ابھی سو رہا تھا کہ چمپا نے اسے جگا کر کہا، ’’بڑا غضب ہو گیا رات کو ٹھاکر صاحب کے گھر میں چوری ہو گئی۔ چور زیوروں کا ڈبہ اٹھا کر لے گئے۔‘‘

    پرکاش نے پڑے پڑے پوچھا، ’’کسی نے پکڑا نہیں چور کو۔‘‘

    ’’کسی کو خبر بھی نہیں، وہی ڈبے لے گئے جس میں شادی کے زیور رکھے تھے نہ جانے کیسے چابی اڑا لی۔ اور انہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس صندوق میں ڈبہ رکھا ہے۔‘‘

    ’’نوکروں کی کارستانی ہوگی۔ باہر کے آدمی کا یہ کام نہیں ہے۔‘‘

    ’’نوکر تو ان کے تینوں پرانے ہیں۔‘‘

    ’’نیت بدلتے کیا دیر لگتی ہے۔ آج موقع دیکھا اڑا لے گئے۔‘‘

    ’’تم جا کر ان کو تسلی دو۔ ٹھکرائن بے چاری رو رہی تھی۔ تمہارا نام لیکر کہتی تھیں کہ بیچارہ مہینوں ان زیوروں کے لئے دوڑا۔ ایک ایک چیز اپنے سامنے بنوائی اور چور مونڈی کاٹے نے اس کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔‘‘

    پرکاش جھٹ پٹ اٹھ بیٹھا اور گھبرایا ہوا سا جا کر ٹھکرائن سے بولا، ’’یہ تو بڑا غضب ہو گیا ماتا جی، مجھے تو ابھی ابھی چمپا نے بتلایا۔‘‘

    ٹھاکر صاحب سر پر ہاتھ رکھے ہوئے بیٹھے تھے۔ بولے، ’’کہیں سیندھ نہیں کوئی تالا نہیں ٹوٹا۔ کسی دروازے کی چول نہیں اتری سمجھ میں نہیں آیا کہ چور کدھر سے آیا؟‘‘

    ٹھکرائن نے رو کر کہا، ’’میں تو لٹ گئی بھیا! بیاہ سر پر ہے، کیا ہوگابھگوان! تم نے کتنی دوڑ دھوپ کی تھی، تب کہیں جا کر چیزیں تیار ہو کر آئی تھیں نہ جانے کس منحوس ساعت میں بنوائی تھیں۔‘‘

    پرکاش نے ٹھاکر صاحب کی کان میں کہا، ’’مجھے تو نوکروں کی شرارت معلوم ہوتی ہے۔‘‘

    ٹھکرائن نے مخالفت کی، ’’ارے نہیں بھیا۔ نوکروں میں کوئی نہیں۔ دس ہزار روپے یوں ہی اوپر رکھے رہتے ہیں۔ کبھی ایک پائی کا نقصان نہیں ہوا۔‘‘

    ٹھاکر صاحب نے ناک سکوڑ کر کہا، ’’تم کیا جانو آدمی کا دل کتنی جلدی بدل جاتا ہے۔ جس نے ابھی تک چوری نہیں کی وہ چوری نہیں کرے گا، یہ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ میں پولیس میں رپورٹ کروں گا اور ایک ایک نوکر کی تلاشی کراؤں گا۔ کہیں مال اڑا دیا ہوگا۔ جب پولیس کے جوتے پڑیں گے تو آپ اقبال کریں گے۔‘‘

    پرکاش نے پولیس کا گھر میں آنا خطرناک سمجھا۔ کہیں ان کے گھر کی تلاشی لیں تو ستم ہی ہو جائے گا۔ بولے، ’’پولیس میں رپورٹ کرنا اور تحقیقات کرنا بالکل بے فائدہ ہے۔‘‘

    ٹھاکر صاحب نے منھ بنا کر کہا، ’’تم بھی کیا بچوں کی سی بات کر رہے ہو پرکاش بابو۔ بھلا چوری کرنے والا خود بخود اقبال کرے گا۔ تم زد و کوب بھی نہیں کر سکتے۔ ہاں پولیس میں رپورٹ کرنا مجھے بھی فضول معلوم ہوتا ہے۔ ال چلا گیا، اب کیا ملے گا۔‘‘

    پرکاش، ’’لیکن کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑےگا۔‘‘

    ٹھاکر: ’’کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں اگر کوئی خفیہ پولیس کا آدمی ہو جو چپکے چپکے پتہ لگا دے تو البتہ مال نکل آئے۔ لیکن یہاں ایسے آدمی کہاں۔ نصیبوں کو رو کر بیٹھ رہو اور کیا۔‘‘

    پرکاش، ’’آپ بیٹھے رہیے۔ لیکن میں بیٹھنے والا نہیں۔ میں انہیں نوکروں کے سامنے چور کا نام نکلواؤں گا۔‘‘

    ٹھکرائن: ’’نوکروں پر مجھے پورا یقین ہے۔ کسی کا نام بھی نکل آئے تو مجھے یہی خیال رہے گا کہ یہ کسی باہر کے آدمی کا کام ہے۔ چاہے جدھر سے آیا ہو پر چور آیا باہر سے۔ تمہارے کوٹھے سے بھی تو آ سکتا ہے۔‘‘

    ٹھاکر: ’’ہاں ذرا اپنے کوٹھے پر دیکھو شاید کچھ نشان ملے۔ کل دروازہ تو کھلا ہوا نہیں رہ گیا؟‘‘

    پرکاش کا دل دھڑکنے لگا۔ بولا، ’’میں تو دس بجے دروازہ بند کر لیتا ہوں، ہاں کوئی پہلے سے موقع پا کر کوٹھے پر چلا گیا ہو۔ وہاں چھپا بیٹھا رہا ہو تو دوسری بات ہے۔‘‘

    تینوں آدمی چھت پر گئے۔ تو بیچ کی منڈیر پر کسی کے پاؤں کے نشان دکھائی دیئے جہاں پرکاش کا پاؤں پڑا تھا وہاں کا چونا لگ جانے سے چھت پر پاؤں کا نشان پڑ گیا تھا۔ پرکاش کی چھت پر جا کر منڈیر کی دوسری طرف دیکھا تو ویسے ہی نشان وہاں بھی دکھائی دیئے۔ ٹھاکر صاحب سر جھکائے کھڑے تھے۔ لحاظ کے مارے کچھ نہ کہہ سکے تھے۔ پرکاش نے ان کے دل کی بات کھول دی، ’’اب تو کوئی شک ہی نہیں رہا۔‘‘

    ٹھاکر صاحب نے کہا، ’’ہاں میں بھی یہی سمجھتا ہوں۔ لیکن اتنا پتہ لگ جانے سے کیا، مال تو جانا تھاوہ گیا، اب چلو آرام سے بیٹھو، آج روپے کی کوئی تجویز کرنی ہوگی۔‘‘

    پرکاش: ’’میں آج ہی یہ گھر چھوڑ دوں گا۔‘‘

    ٹھاکر: ’’کیوں ہمیں تمہارا۔۔۔‘‘

    پرکاش: ’’آپ نہ کہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں۔ میرے سر پر بہت بڑی جواب دہی آ گئی۔ میرا دروازہ نو دس بجے تک کھلا ہی رہتا ہے۔ چور نے راستہ دیکھ لیا ہے۔ ممکن ہے دو چار دن میں پھر آ گھسے۔ گھر میں اکیلی ایک عورت ہے سارے گھر کی نگرانی نہیں کر سکتی۔ ادھر وہ تو باورچی خانے میں بیٹھی ہے ادھر کوئی آدمی چپکے سے اوپر چڑھ گیا تو ذرا بھی آہٹ نہیں مل سکتی۔ میں گھوم گھوم کر کبھی نو بجے آیا کبھی دس بجے اور شادی کے دنوں میں دیر ہوتی رہے گی۔ ادھر کا راستہ بند ہی ہو جانا چاہیئے۔ میں تو سمجھتا ہوں چوری ساری میرے سر ہے۔‘‘

    ٹھکرائن ڈریں، ’’تم چلے جاؤ گے بھیا تب تو گھر اور پھاڑ کھائے گا۔‘‘

    پرکاش: ’’کچھ بھی ہو ماتا جی۔ مجھے بہت جلد گھر چھوڑ دینا پڑےگا۔ میری غفلت سے چوری ہو گئی۔ اس کا مجھے خمیازہ اٹھانا پڑےگا۔‘‘

    پرکاش چلا گیا تو ٹھاکر کی عورت نے کہا، ’’بڑا لائق آدمی ہے چور ادھر سے آیا یہی بات اسے کھا گئی کہیں یہ چور کو پکڑ پائے تو کچا ہی کھائے۔‘‘

    ’’مار ہی ڈالے۔‘‘

    ’’دیکھ لینا کبھی نہ کبھی مال برآمد کرے گا۔‘‘

    ’’اب اس گھر میں ہرگز نہ رہےگا۔ کتنا ہی سمجھاؤ۔‘‘

    ’’کرایہ کے بیس روپے دینے پڑیں گے۔‘‘

    ’’ہم کیوں کرایہ دیں۔ وہ آپ ہی گھر چھوڑ رہے ہیں، ہم تو کچھ کہے نہیں۔‘‘

    ’’کرایہ تو دینا ہی پڑےگا، ایسے آدمی کے لئے کچھ غم بھی کھانا پڑے تو برا نہیں لگتا۔‘‘

    ’’میں تو سمجھتی ہوں کرایہ لیں گے بھی نہیں۔‘‘

    ’’تیس روپے میں گزر بھی تو نہ ہوگی۔‘‘

    پرکاش نے اسی دن وہ گھر چھوڑ دیا۔ اس گھر میں رہنے میں خدشہ تھا۔ لیکن جب تک شادی کی دھوم دھام رہی، اکثر تمام دن وہیں رہتے تھے۔ پیش بندی کے لئے چمپا سے کہا، ’’ایک سیٹھ جی کےہاں پچاس روپے ماہوار کا کام مل گیا، مگر وہ روپے انہیں کے پاس جمع کرتا جاؤں گا۔ وہ آمدنی صرف زیوروں میں خرچ ہوگی اس میں سے ایک پیسہ گھر کے خرچ میں نہ آنے دوں گا۔‘‘ خاوند کی محبت کا یہ ثبوت پا کر اسے اپنی قسمت پر ناز ہوا دیوتاؤں میں اس کا اعتقاد اور بھی پختہ ہو گیا۔

    اب تک پرکاش اور چمپا میں کوئی راز نہ تھا۔ پرکاش کے پاس جو کچھ تھا وہ چمپا کا تھا۔ چمپا ہی کے پاس اس کے ٹرنک، صندوق اور الماری کی چابیاں رہتی تھیں۔ مگر جب پرکاش کا ایک صندوق ہمیشہ بند رہتا تھا اس کی چابی کہاں ہے؟ اس کا چمپا کو پتہ نہیں۔ وہ پوچھتی ہے، اس صندوق میں کیا ہے۔ تو وہ کہہ دیتے ہیں، ’’کچھ نہیں پرانی کتابیں ہیں ماری ماری پھرتی تھیں اٹھا کے صندوق میں بند کر دی ہیں۔‘‘ چمپا کو شک کی گنجائش نہ تھی۔

    ایک دن چمپا انہیں پان دینے گئی۔ تو دیکھا وہ اس صندوق کو کھولے کچھ دیکھ رہے ہیں۔ اسے دیکھتے ہی ان کا چہرہ فق ہو گیا۔ شبہے کا اکھوا سا نکلا مگر پانی بہہ کر سوکھ گیا۔ چمپا کسی ایسے راز کا خیال ہی نہ کر سکی جس سے شبہے کو غذا ملتی۔ لیکن پانچ ہزار کی پونجی کو اس طرح چھوڑ دینا کہ اس کا دھیان ہی نہ آئے، پرکاش کے لئے ناممکن تھا۔ وہ کہیں باہر جاتا تو ایک بار صندوق کو ضرور کھولتا۔

    ایک دن پڑوس میں چوری ہو گئی۔ اس دن سے پرکاش کمرے ہی میں سونے لگا۔ جون کا مہینہ تھا۔ گرمی کے مارے دم گھٹتا تھا۔ چمپا نے باہر سونے کے لئے کہا مگر پرکاش نہ مانا، اکیلا گھر کیسے چھوڑ دے۔

    چمپا نے کہا، ’’چوری ایسوں کے گھر نہیں ہوتی۔ چور کچھ دیکھ کر ہی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہاں کیا رکھا ہے۔‘‘

    پرکاش نے غصے سے کہا، ’’کچھ نہیں، برتن تو ہیں، غریب کے لئے تو اپنی ہنڈیا ہی بہت ہے۔‘‘

    ایک دن چمپا نے کمرے میں جھاڑو لگائی تو صندوق کھسکا کر ایک طرف رکھ دیا۔ پرکاش نے صندوق کی جگہ بدلی ہوئی دیکھی تو بولا، ’’صندوق تم نے ہٹایا تھا؟‘‘

    یہ پوچھنے کی بات نہ تھی۔ جھاڑو لگاتے وقت اکثر چیزیں ادھر ادھر کھسکا دی جاتی ہیں بولی، ’’میں کیوں ہٹا نے لگی۔‘‘

    ’’پھر کس نے ہٹایا۔‘‘

    ’’گھر میں تم رہتی ہو جانے کون۔‘‘

    ’’اچھا اگر میں نے ہی ہٹا دیا تو اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے۔‘‘

    ’’کچھ یونہی پوچھا تھا۔‘‘

    مگر جب تک صندوق کھول کر تمام چیزیں دیکھ نہ لے پرکاش کو چین کہاں۔ چمپا جیسے ہی کھانا پکانے لگی۔ <