ADVERTISEMENT

افسانے پرمعاشرتی مسائل

ADVERTISEMENT
ADVERTISEMENT
ADVERTISEMENT

یہ پری چہرہ لوگ

غلام عباس

ہر انسان اپنے مزاج اور کردار سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ سخت مزاج بیگم بلقیس طراب علی ایک دن مالی سے بغیچے کی صفائی کرا رہی تھیں کہ وہ مہترانی اور اس کی بیٹی کی بات چیت سن لیتی ہیں۔ بات چیت میں ماں بیٹی بیگموں کے اصل نام نہ لے کر انھیں مختلف ناموں سے بلاتی ہیں۔ یہ سن کر بلقیس بانو ان دونوں کو اپنے پاس بلاتی ہیں۔ وہ ان ناموں کے اصلی نام پوچھتی ہیں اور جاننا چاہتی ہیں کہ انھوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ مہترانی ان کے سامنے تو منع کر دیتی ہے لیکن اس نے بیگم بلقیس کا جو نام رکھا ہوتا ہے،وہ اپنے شوپر کے سامنے لے دیتی ہے۔

دس منٹ بارش میں

راجندر سنگھ بیدی

بارش میں بھیگتی ایک ایسی غریب عورت کی داستان ہے جس کا شوہر اسے چھوڑ کر چلا گیا ہے اور اس کی گھوڑی بھی گم ہو گئی ہے۔ اس کا ایک کم عقل بیٹا ہے جو جھونپڑی میں پڑا رہتا ہے۔ تیز بارش کی وجہ سے جھونپڑی کی چھت اڑ گئی ہے جسے وہ عورت اکیلے ٹھیک کر رہی ہے اور دور کھڑے دو مرد آپس میں باتیں کر رہے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ وہ کب مدد کے لیے انھیں بلاتی ہے۔

چھوکری کی لوٹ

راجندر سنگھ بیدی

کہانی میں شادی جیسے روایتی سنسکار کو ایک دوسری ہی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ بیٹیوں کے جوان ہونے پر مائیں اپنی چھوکریوں کی لوٹ مچاتی ہیں جس سے ان کا رشتہ پکا ہو جاتا ہے۔ پرسادی کی بہن کی جب لوٹ مچی تو اسے بہت غصہ آیا، کیونکہ رتنا خوب روئی تھی۔ بعد میں اس نے دیکھا کہ رتنا اپنے کالے کلوٹے پتی ساتھ خوش ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ رتنا کی شادی زبردستی کی شادی نہیں تھی بلکہ وہ تو خود سے اپنا لوٹ مچوانا چاہتی تھی۔

پرواز کے بعد

قرۃ العین حیدر

یہ دلی احساسات اور خواہشات کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ اس میں حادثات کم اور واقعات زیادہ ہیں۔ دو لڑکیاں جو ساتھ پڑھتی ہیں ان میں سے ایک کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے مگر وہ شخص اسے مل کر بھی مل نہیں پاتا اور بچھڑنے کے بعد بھی جدا نہیں ہوتا۔ کہا جائے تو یہ وصال و ہجر کی کہانی ہے، جسے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیئے۔

ADVERTISEMENT

منزل

واجدہ تبسم

’’یہ ایسے بچے کی کہانی ہے جسے لگتا ہے کہ اس کے ماں باپ اس سے پیار نہیں کرتے۔ اس نے اپنے ماں باپ کا پیار حاصل کرنے کے لیے ان کی خدمتیں کی تھی۔ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بنٹایا تھا۔ کتا پالا تھا۔ آڑی ترچھی لکیریں کھینچی تھیں۔ بھائیوں سے دوستی کی، بلی پالی۔ مگر کوئی بھی اپنا نہ ہو سکا۔ مٹی کے کھلونوں میں جی لگانا چاہا وہ بھی دور ہو گئے۔ سب طرف سے مایوس ہوکر اس نے مرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر تبھی اس کی زندگی میں ایک لڑکی آئی اور سب کچھ بدل گیا۔‘‘

ہڈیاں اور پھول

راجندر سنگھ بیدی

حاصل کی ناقدری اور لاحاصل کے لئے  گلہ شکوہ  کی انسانی فطرت کو اس کہانی میں اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کہانی میں میاں بیوی کے درمیان شک و شبہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تلخی کا بیان ہے۔ ملم ایک چڑچڑا موچی ہے، گوری اس کی خوبصورت بیوی ہے، ملم کے ظلم و زیادتی سے عاجز آ کر گوری اپنے مائکے چلی جاتی ہے تو ملم کو اپنی زیادتیوں کا احساس ہوتا ہے اور وہ بے خودی کے عالم میں عجیب عجیب حرکتیں کرتا ہے لیکن جب وہی گوری واپس آتی ہے تو اسیشن پر بھیڑ کی وجہ سے ایک اجنبی سے ٹکرا جاتی ہے اور ملم غصے سے ہکلاتے ہوئے کہتا ہے, یہ نئے ڈھنگ سیکھ آئی ہو۔۔۔ پھر آ گئیں میری جان کو دکھ دینے۔

ازدواج محبت

سجاد حیدر یلدرم

یہ ایک ایسے فرد کی کی کہانی ہے، جو کبھی حیدرآباد کی ریاست میں ڈاکٹر ہوا کرتا تھا۔ وہاں اسے لیڈیز ڈسپینسری میں کام کرنے والی ایک لیڈی ڈاکٹر سے محبت ہو جاتی ہے۔ وہ اس سے شادی کر لیتا ہے۔ مگر اس شادی سے ناراض ہوکر ریاست کے حکام اسے 48 گھنٹے میں ریاست چھوڑنے کا حکم سنا دیتے ہیں۔ اس حکم سے ان کی زندگی پوری طرح بدل جاتی ہے۔

کارمن

قرۃ العین حیدر

امیر اور متمول خاندان کے ایک نوجوان کے ذریعے ایک غریب لڑکی کے استحصال کی روایتی کہانی ہے جو لڑکی کے بے غرض محبت کی ٹریجڈی ہے۔ کہانی میں سادگی، دلکشی اور جاذبیت ہے۔ قاری آخر میں کہانی کے انجام سے واقف تو ہو جاتا ہے لیکن اس کی تسلی نہیں ہوتی، شاید یہ کہانی کی خوبصورتی ہے۔

ADVERTISEMENT

اندھی محبت

حجاب امتیاز علی

کسی حادثے میں نابینا ہوئی ایک لڑکی کی داستان ہے۔ جو ڈاکٹر اس کا علاج کر رہا ہے، لڑکی کو اس ڈاکٹر سے محبت ہو جاتی ہے اور بالآخر ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ لڑکی کے آنکھوں کے آپریشن کے بعد جب وہ اپنے شوہر کو دیکھتی ہے تو اسے دیکھ کر اتنی حیران ہوتی ہے کہ وہ دل ہی دل میں دعا کرتی ہے کہ کاش اسکی آنکھیں ٹھیک نہیں ہوئی ہوتیں۔ لڑکی کی یہ حالات دیکھ کر اس کا ڈاکٹر شوہر اسے اپنے معاون کے حوالے کر اس کی زندگی سے چلا جاتا ہے۔

نا مراد

راجندر سنگھ بیدی

صفدر ایک مذہبی گھرانے کا روشن خیال فرد ہے، رابعہ اس کی منگیتر ہے جس کا اچانک انتقال ہو جاتا ہے۔ رابعہ کی ماں صفدر کو آخری دیدار کے لئے بلوا بھیجتی ہے۔۔۔ صفدر راستے بھر فرسودہ خیالات کے نقصانات کے بارے میں غور کرتا رہتا ہے۔ اسے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت نہ اس سے کوئی مشورہ کیا گیا نہ رابعہ کو ہونے والا شوہر دکھایا گیا تو پھر اس تکلف کی کیا ضرورت۔ وہ رابعہ کے گھر پہنچتا ہے تو رابعہ کی ماں ہائے واویلا کرتی ہے اور بار بار رابعہ کو نامراد کہتی رہتی ہے۔ رابعہ کا چہرہ دیکھنے کے بعد صفدر فیصلہ نہیں کر پاتا ہے کہ رابعہ نا مراد ہے یا صفدر یا رابعہ کی ماں جو دونوں سے واقف تھی۔

صحبت نا جنس

سجاد حیدر یلدرم

’’افسانہ غیر برابری کی شادی کی داستان ہے، جس میں ایک لڑکی کی شادی ایک ایسے شخص سے ہو جاتی ہے، جس کے عادات و اطوار، آداب اور پسند ناپسند اس سے بالکل مختلف ہیں۔ اپنے شوہر کی ان حرکتوں سے تنگ آکر وہ اپنی ایک سہیلی کو خط لکھتی ہے اور اس سے اس پریشانی سے نجات پانے کا طریقہ پوچھتی ہے۔‘‘

وقار محل کا سایہ

ممتاز مفتی

وقار محل کے معرفت ایک گھر اور اس میں رہنے والے لوگوں کے ٹوٹتے بنتے رشتوں کی داستان کو بیان کیا گیا ہے۔ وقار محل کالونی کے وسط میں واقع ہے۔ ہر کالونی والا اس سے نفرت بھی کرتا ہے اور ایک طرح سے اس پر فخر بھی۔ مگر وقار محل کو پچھلے کئی سالوں سے گرایا جا رہا ہے اور وہ اب بھی ویسے کا ویسا کھڑا ہے۔ مزدور دن رات کام میں لگے ٹھک ٹھک کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ٹھک ٹھک کی اس آواز سے ماڈرن خیال کی ماڈرن لڑکی زفی کے بدن میں سہرن سی ہونے لگتی ہے۔ اور یہی سہرن اسے کئی لوگوں کے پاس لے جاتی ہے اور ان سے دور بھی کرتی ہے۔

ADVERTISEMENT

منگل اشٹکا

راجندر سنگھ بیدی

یہ ایک برہمچاری پنڈت کی داستان ہے جسے اپنے برہمچریہ پر ناز ہے ساتھ ہی اس کا جیون ساتھی نہ ہونے کا دکھ بھی ہے۔ اپنے ایک ججمان کی شادی کی رسم ادا کراتے ہوئے اپنی تنہائی کا احساس ہوتا ہے اور اس کی طبیعت بھی خراب ہو جاتی ہے۔ اپنی دیکھ بھال کے لیے اپنی بھابھی کو خط لکھتا ہے مگر بھابھی دھان کی کٹائی میں مصروف ہونے کے باعث اس کی عیادت کو نہیں آ پاتی ہے۔ پنڈت کا ایک عزیز پنڈت سے اپنی بیوی کی تعریف کرتا ہے اور بیوی ہونے کے فائدے کے بارے میں بتاتا ہے اور پنڈت کو شادی کرنے کی صلاح دیتا ہے جسے پنڈت قبول کر لیتا ہے۔

جنازہ

حجاب امتیاز علی

یہ مسجد کے ایک موذن کی کہانی ہے جسکا قیام مسجد میں ہی رہتا ہے۔ ایک روز مسجد میں نماز جنازہ کے لیے ایک جنازہ لایا جاتا ہے کہ اسی وقت تیز بارش ہونے لگتی ہے۔ لوگ جنازے کو اس کی تحویل میں دے کر چلے گیے کہ بارش کھلنے پر جنازہ کو دفن کیا جائے گا۔ رات کو جنازے کے پاس تنہا بیٹھے موذن کے سامنے ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ صبح ہوتے ہی اس کی بھی موت ہو گئی۔

ایوا لانش

راجندر سنگھ بیدی

جہیز کی لعنت پر لکھا گیا افسانہ ہے۔ کہانی کا راوی ایک واش لائن انسپکٹر ہے، معاشی قلت کی وجہ سے اس کی دو بیٹیوں کے رشتے طے نہیں ہو پا رہے ہیں۔ راوی کے کنبہ میں چھ لوگ ہیں، جن کی ذمہ داریوں کا بوجھ اس کے کاندھے پر ہے۔ جہیز پورا کرنے کے لئے وہ رشوتیں بھی لیتا ہے لیکن پھر بھی لڑکے والوں کی فرمائشیں پوری ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ راوی غم سے نجات پانے کے لئے اخبار میں پناہ لیتا ہے۔ ایک دن اس نے پڑھا کہ ایوالانش آجانے کی وجہ سے ایک پارٹی دب کر رہ گئی۔ اسی دوران رشوت کے الزام میں راوی برطرف کر دیا جاتا ہے۔ اسی دن اس کی چھوٹی بیٹی دوڑتی ہوئی آتی ہے اور  بتاتی ہے ایک رسیکیو پارٹی نے سب لوگوں کو بچا لیا۔ راوی اپنی بیٹی سے پوچھتا ہے: کیا کوئی ریسکیو پارٹی آئے گی۔۔۔ رقو۔۔۔ کیا وہ ہمیشہ آتی ہے؟

کنول

اعظم کریوی

’’ایک برہمن لڑکی کی کہانی ہے، جسے ایک مسلم لڑکے سے محبت ہو جاتی ہے۔ چونکہ لڑکا الگ مذہب اور ذات کا تھا اسلیے لڑکی اس سے شادی کرنے سے انکار تو کر دیتی ہے لیکن وہ ایک پل کے لیے بھی اسے بھول نہیں پاتی۔ اس لڑکی کی شادی کہیں اور ہو جاتی ہے تو وہ اپنے شوہر کو بھی اپنی اس محبت کے بارے میں سچ سچ بتا دیتی ہے۔ یہ سچائی جان کر اس کے شوہر کی اس صدمے سے موت ہو جاتی ہے اور وہ لڑکی اپنے عاشق کے پاس لوٹ جاتی ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

محبت کی یادگار

اعظم کریوی

’’ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے، جسے گاؤں کے زمیندار کے بیٹے سے محبت ہو جاتی ہے۔ لڑکا جب بنارس میں پڑھنے جاتا ہے تو وہ وہاں سے اس کے لیے ایک تحفہ لاتا ہے، جسے وہ اپنے گلے میں پہن لیتی ہے۔ جب لڑکی کی شادی کسی اور کے ساتھ ہو جاتی ہے تب بھی وہ اس یادگار کو اپنے گلے سے نہیں اتارتی۔ اس یادگار نشان کی حسد میں اس کے شوہر کی موت ہو جاتی ہے۔‘‘