ابد شاعری

ادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیں

ازل میں پھٹ پڑا جوبن کسی کا

بیان میرٹھی

میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں

ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

شبلی نعمانی

دست جنوں نے پھاڑ کے پھینکا ادھر ادھر

دامن ابد میں ہے تو گریباں ازل میں ہے

ارشد علی خان قلق

متعلقہ موضوعات