ADVERTISEMENT

افسانے پرانگارے

نیند نہیں آتی

سجاد ظہیر

’’ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو غریبی، بے بسی، بھٹکاؤ اور نیم خوابیدگی کے شعور کا شکار ہے۔ وہ اپنی معاشی اور معاشرتی حالت سدھارنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے مگر کامیاب نہیں ہو پاتا۔ رات میں چارپائی پر لیٹے ہوئے مچھروں کی بھنبھناہٹ اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سنتا ہوا وہ اپنی بیتی زندگی کے کئی واقعات یاد کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس نے اس زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کتنی جد و جہد کی ہے۔‘‘

مہاوٹوں کی ایک رات

احمد علی

مہاوٹوں کی رات ہے اور زبردست بارش ہو رہی ہے۔ ایک غریب کنبہ جس میں تین چھوٹے بچے بھی شامل ہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں سمٹے سکڑے لیٹے ہوئے ہیں۔ گھر کی چھت ٹپک رہی ہے، انھیں ٹھنڈ لگ رہی ہے اور وہ بھوک سے بدحال ہیں۔ بچوں کی ماں اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتی ہے اور سوچتی ہے کہ شاید وہ جنت میں ہے۔ جب بچے باربار اس سے کھانے کے لیے کہتے ہیں تو وہ اس کے بارے میں سوچتی اور کہتی ہے اگر وہ ہوتا تو کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ لاتا۔

دلی کی سیر

رشید جہاں

یہ فریدآباد سے دہلی کی سیر کو آئی ایک عورت کے ساتھ ہوے واقعات کا قصہ ہے۔ ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ دہلی کی سیر کے لیے آتی ہے۔ دہلی میں اس کے ساتھ جوکچھ واقع ہوتا ہے واپس جاکر انہیں وہ اپنی سہیلیوں کو سناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہوئے سبھی واقعات اتنے دلچسپ ہوتے ہیں کہ اس کی سہیلیاں جب بھی اس کے گھر جمع ہوتی ہیں، ہر بار اس سے دہلی کی سیر کا قصہ سنانے کے لیے کہتی ہیں۔

گرمیوں کی ایک رات

سجاد ظہیر

’’کہانی میں سماجی ناہمواری کی بہت باریکی سے عکاسی کی گئی ہے۔ ایک ہی دفتر میں کام کرنے والے منشی برکت علی اور جمن میاں کے ذریعے ہندوستانی سماج کے پسماندہ متوسط طبقہ کے لوگوں کی محرومیوں، بے بسی، بناؤٹی زندگی اور دوہرے کردار کی بہت دل نشیں انداز سے عکاسی کی گئ ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

جنت کی بشارت

سجاد ظہیر

’’کہانی ایک مولانا کے ذریعے مذہبی روایات اور مولویوں کے ڈھونگ اور فریب کے اخلاق پر تلخ حملہ کرتی ہے۔ رمضان کے مہینے میں خدا کی عبادت میں ڈوبے مولانا صبح کی نماز پڑھتے ہوئے ایک خواب دیکھتے ہیں۔ خواب میں انہیں ایک عالیشان کمرا دکھائی دیتا ہے اور اس کمرے کی ہر کھلی کھڑکی میں ایک حور نظر آتی ہے۔‘‘

جواں مردی

محمود الظفر

یہ ایک ایسے فرد کی کہانی ہے جو خود کو اپنے نو زائیدہ کی موت کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ اس کی جب شادی ہوئی تھی تو اسے اپنی بیوی پسند نہیں آئی تھی۔ وہ اسے چھوڑکر ودیش چلا گیا تھا۔ وہاں ایک عرصہ تک رہنے کے بعد جب اسے بیوی کی یاد ستانے لگی تو وہ واپس چلا آیا۔ ان دنوں وہ بیمار تھی اور اس کی بیماری میں ہی اس نے اپنی جوانمردی کو ثابت کرنے کے لیے اس کے ساتھ سونے کا فیصلہ کیا۔

پھر یہ ہنگامہ۔۔۔

سجاد ظہیر

یہ کہانی کئی آزاد افسانوں کا مجموعہ ہے، جن کے ذریعے مذہبی روایتوں اور اس کے تضادات، رئیسوں کی رئیسانہ حرکتوں، متوسط طبقہ کے مسلم خاندانوں کے تضاد سے بھرپور رشتوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ کہانی سماج اور اس میں موجود مذہبی جنونیت پر شدید وار کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ جب سب کچھ پہلے سے طے ہے تو پھر یہ ہنگامہ کیوں برپا ہے؟

دلاری

سجاد ظہیر

’’یہ ایک غیر مساوی معاشعرتی نظام میں خواتین کے جنسی استحصال کی ایک دردناک کہانی ہے۔ دلاری بچپن سے ہی اس گھر میں پلی بڑھی تھی۔ اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔ چھٹیوں میں گھر آئے مالکن کے بیٹے کے ساتھ اس کی آنکھ لڑ جاتی ہے اور وہ محبت کے نام پر اس کا استحصال کرتا ہے۔ وہ اس سے شادی کا وعدہ تو کرتا ہے مگر شادی ماں باپ کی پسند کی ہوئی لڑکی سے کر لیتا ہے۔ اس شادی کے بعد ہی دلاری گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT