ADVERTISEMENT

افسانے پرجرم

ٹھنڈا گوشت

سعادت حسن منٹو

بے حس ہو چکے معاشرے میں بھی انسانیت کی رمق باقی رہتی ہے۔ ٹھنڈا گوشت ایک مرد کے جنسی جذبات سرد ہو جانے یا نفسیاتی طور پر نامرد ہو جانے کی کہانی ہے۔ فسادات میں لوٹ مار، عصمت دری، قتل و غارت گری میں پیش پیش رہنے والا ایشر سنگھ جب ایک لڑکی پر ہاتھ صاف کرنے کے ارادے سے اسے اٹھا کر لاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ مر چکی ہے۔ اس شدید صدمے سے وہ اپنی مردانگی کھو بیٹھتا ہے۔ لڑکی کو وہیں چھوڑ کر وہ ہوٹل میں اپنی داشتہ کلونت کے پاس جاتا ہے۔ کلونت کے لاکھ کوشش کے باوجود وہ خود کو جنسی طور پر تیار نہیں کر پاتا۔ جب وہ کلونت کو اپنے جنسی جذبات سرد ہوجانے کی کہانی سناتا ہے تو کلونت آگ بگولہ ہوجاتی ہے اور اسے خنجر گھونپ دیتی ہے۔

عزت کے لیے

سعادت حسن منٹو

چونی لال کو بڑے آدمیوں سے تعلق پیدا کرنے میں ایک عجیب قسم کا سکون ملتا تھا۔ اس کا گھر بھی ہر قسم کی تفریح  اور سہولت کے لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ ہربنس ایک بڑے افسر کا بیٹا تھا۔ فسادات کے زمانے میں اس نے چونی لال کی بہن روپا کی عصمت دری کی تھی۔ جب خون بہنا بند نہیں ہوا تو اس نے چونی لال سے مدد مانگی تھی۔ چونی لال نے اپنی بہن کو دیکھا لیکن اس پر بے حسی طاری رہی اور وہ یہ سوچنے میں  مصروف رہا کہ کس طرح ایک بڑے آدمی کی عزت بچائی جائے۔ اس کے برعکس ہربنس پر جنون طاری ہو جاتا ہے اور وہ چونی لال کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔ اخباروں میں خبر چھپتی ہے کہ چونی لال نے اپنی بہن سے منہ کالا کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

ممد بھائی

سعادت حسن منٹو

ممد بھائی بمبئی میں اپنے علاقے کے لوگوں کے خیرخواہ ہیں۔ انھیں اپنے پورے علاقے کی خبر ہوتی ہے اور جہاں کوئی ضرورت مند ہوتا ہے، وہ اس کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ کسی عورت کے اکسانے پر ممد بھائی ایک شخص کا خون کر دیتا ہے۔ حالانکہ اس خون کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے پھر بھی اسے اپنی مونچھوں کی وجہ سے شناخت ہو جانے کا ڈر ہے۔ اسے صلاح دی جاتی ہے کہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے وہ اپنی مونچھیں صاف کرادے۔ ممد بھائی ایسا ہی کرتا ہے پھر بھی عدالت اسے قتل کرنے کے جرم میں سزا دیتی ہے۔

ADVERTISEMENT

ہرنام کور

سعادت حسن منٹو

جھوٹی کہانی

سعادت حسن منٹو

اس کہانی میں ایک مفروضہ بدمعاشوں کی انجمن کی وساطت سے سیاست دانوں پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ بدمعاشوں کی انجمن قائم ہوتی ہے اور بدمعاش اخباروں کے ذریعہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کی روک تھام کے لیے ایک بڑے ہال میں جلسہ کیا جاتا ہے جس میں سیاست داں اور عمائدین شہر بدمعاشوں کی انجمن کے خلاف تقریریں کرتے ہیں۔ اخیر میں پچھلی صف سے انجمن کا ایک نمائندہ کھڑا ہوتا ہے اور غالب کے اشعار کی مدد سے اپنی دلچسپ تقریر سے سیاست دانوں پر طنز کرتا ہے اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔

چوری

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسےبوڑھے بابا کی کہانی ہے جو الاؤ کے گرد بیٹھ کر بچوں کو اپنی زندگی سے وابستہ کہانی سناتا ہے۔ کہانی اس وقت کی ہے جب اسے جاسوسی ناول پڑھنے کا دیوانگی کی حد تک شوق تھا اور اس شوق کو پورا کرنےکے لیے اس نے کتابوں کی ایک دکان سے اپنی پسند کی ایک کتاب چرا لی تھی۔ اس چوری نے اس کی زندگی کو کچھ اس طرح بدلا کہ وہ ساری عمر کے لیے چور بن گیا۔

خودکشی کا اقدام

سعادت حسن منٹو

افسانہ ملک کی معاشی اور قانونی صورتحال کی ابتری پر مبنی ہے۔ اقبال فاقہ کشی اور غربت سے تنگ آکر خود کشی کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے اسے قید با مشقت کی سزا سنائی جاتی ہے۔ عدالت میں وہ طنزیہ انداز میں دریافت کرتا ہے کہ صرف اتنی سزا؟ مجھے تو زندگی سے نجات چاہیے۔ اس ملک نے غربت ختم کرنے کا کوئی راستہ نہیں نکالا تو تعذیرات میں میرے لیے کیا قانون ہوگا؟

ADVERTISEMENT

سو کینڈل پاور کا بلب

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں انسان کی جبلی اور جذباتی پہلووں کو گرفت میں لیا گیا ہے جن کے تحت ان سے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ افسانے کی مرکزی کردار ایک طوائف ہے جسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کس کے ساتھ رات گزارنے جا رہی ہے اور اسے کتنا معاوضہ ملے گا بلکہ وہ دلال کے اشارے پر عمل کرنے اور کسی طرح کام ختم کرنے کے بعد اپنی نیند پوری کرنا چاہتی ہے۔ آخر کار تنگ آکر انجام کی پروا کیے بغیر وہ دلال کا خون کر دیتی ہے اور گہری نیند سو جاتی ہے۔

ساڑھے تین آنے

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں صاحب اقتدار اور حکمراں طبقے پر شدید طنز کیا گیا ہے۔ رضوی جیل سے باہر آنے کے بعد ایک کیفے میں بیٹھ کر فلسفیانہ انداز میں معاشرتی جبر پر گفتگو کرتا ہے کہ کس طرح یہ معاشرہ ایک ایک ایماندار انسان کو چور اور قاتل بنا دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ پھگو بھنگی کا ذکر کرتا ہے جس نے بڑی ایمانداری سے اس کے دس روپے اس تک پہنچائے تھے۔ یہ وہی پھگو بھنگی ہے جس کو وقت پر تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ساڑھے تین آنے چوری کرنے پڑتے ہیں اور اسے ایک سال کی سزا ملتی ہے۔

دو بہنیں

پریم چند

گلگت خان

سعادت حسن منٹو

یہ ہوٹل میں کام کرنے والے ایک بیحد بدصورت نوکر کی کہانی ہے۔ اس کی بدصورتی کی وجہ سے اس کا مالک اسے پسند کرتا ہے اور نہ ہی وہاں آنے والے گاہک۔ اپنی محنت اور اخلاق سے وہ سبھی کا عزیز بن جاتا ہے۔ اپنے اکیلے پن کو دور کرنے کے لیے وہ مالک کی ناپسندیدگی کے باوجود ایک کتے کا پلا پال لیتا ہے۔ بڑا ہونے پر کتے کو پیٹ کی کوئی بیماری ہو جاتی ہے، تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے گلگت خان چوری سے اپنے مالک کا بٹیر مارکر کتے کو کھلا دیتا ہے۔

ADVERTISEMENT

چور

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک قرضدار شرابی شخص کی کہانی ہے۔ وہ شراب کے نشہ میں ہوتا ہے، جب اسے اپنے قرض اور ان کے وصول کرنے والوں کا خیال آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اسے اگر کہیں سے پیسے مل جایں تو وہ اپنا قرض اتار دے۔ حالانکہ ایک زمانہ میں وہ اعلیٰ قسم کا تکنیشین تھا اور اب وہ قرضدار تھا۔ جب قرض اتارنے کی اسے کوئی صورت نظر نہیں آئی تو اس نے چوری کرنے کی سوچی۔ چوری کے ارادے سے وہ دو گھروں میں گیا بھی، مگر وہاں بھی اس کے ساتھ کچھ ایسا حادثہ ہوا کہ وہ چاہ کر بھی چوری نہیں کر سکا۔ پھر ایک دن اسے ایک شخص پچاس ہزار روپیے دے گیا۔ ان روپیوں سے جب اس نے اپنے ایک قرضدار کو کچھ روپیے دینے چاہے تو تکیے کے نیچے سے روپیوں کا لفافہ غائب تھا۔‘‘

نفسیات شناس

سعادت حسن منٹو

’’یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنے گھریلو خادم کا نفسیاتی مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے یہاں پہلے دو سگے بھائی نوکر ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک بہت چست تھا تو دوسرا بہت سست۔ اس نے سست نوکر کو ہٹاکر اس کی جگہ ایک نیا نوکر رکھ لیا۔ وہ بہت ہوشیار اور پہلے والے سے بھی زیادہ چست اور تیز تھا۔ اس کی چستی اتنی زیادہ تھی کہ کبھی کبھی وہ اس کے کام کرنے کی تیزی کو دیکھ کر جھنجھلا جاتا تھا۔ اس کا ایک دوست اس نوکر کی بہت تعریف کیا کرتا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر ایک روز اس نے نوکر کی حرکتوں کا نفسیاتی مطالعہ کرنے کا ارداہ کیا اور ۔۔۔ پھر‘‘

نطفہ

سعادت حسن منٹو

پڑھیے کلمہ

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

سراج

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسی نوجوان طوائف کی کہانی ہے، جو کسی بھی گراہک کو خود کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی۔ حالانکہ جب اس کا دلال اس کا سودا کسی سے کرتا ہے، تو وہ خوشی خوشی اس کے ساتھ چلی جاتی ہے، لیکن جیسے ہی گراہک اسے کہیں ہاتھ لگاتا ہے کہ اچانک اس سے جھگڑنے لگتی ہے۔ دلال اس کی اس حرکت سے بہت پریشان رہتا ہے، پر وہ اسے خود سے الگ بھی نہیں کر پاتا ہے، کیونکہ وہ اس سے محبت کرنے لگا ہے۔ ایک روز وہ دلال کے ساتھ لاہور چلی جاتی ہے۔ وہاں وہ اس نوجوان سے ملتی ہے، جو اسے گھر سے بھگا کر ایک سرائے میں تنہا چھوڑ گیا تھا۔‘‘

پھندنے

سعادت حسن منٹو

افسانے کا موضوع جنس اور تشدد ہے۔ افسانے میں بیک وقت انسان اور جانور دونوں کو بطور کردار پیش کیا گیا ہے۔ جنسی عمل سے برآمد ہونے والے نتائج کو تسلیم نہ کر پانے کی صورت میں بلی کے بچے، کتے کے بچے، ڈھلتی عمر کی عورتیں، جن میں جنسی کشش باقی نہیں وہ سب کے سب موت کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔

موج دین

سعادت حسن منٹو

یہ کہانی مذہبی مساوات کے باوجود معاشرے میں رائج ثقافتی تقسیم کو بہت ہی واضح طور سے بیان کرتی ہے۔ موج دین ایک بنگالی نوجوان ہے، جو مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور آیا ہوا ہے۔ وہاں سے اسے چندہ جمع کرنے کے لیے کشمیر بھیجا جاتا ہے۔ وہاں جا کر جب اسے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر میں جنگ ہونے والی ہے تو وہ بھی اس میں شامل ہونے کے لیے واپس لوٹ جانے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ مدرسے کے سربراہ کو بنگالی زبان میں ایک خط لکھتا ہے، جسے خفیہ محکمہ کے لوگ کوڈ زبان سمجھ کر اسے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ گرفتاری کے دوران اسے اس قدر ٹارچر کیا جاتا ہے کہ وہ جیل میں ہی پھانسی لگاکر مر جاتا ہے۔

پری

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

شاداں

سعادت حسن منٹو

امیر گھروں میں کام کرنے والی غریب، مظلوم اور کمسن لڑکیوں کی اس گھر کے مردوں کے ذریعہ ہونے والی جنسی استحصال کی کہانی ہے۔ خان بہادر محمد اسلم خان بہت مطمئن اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے تین بچے تھے، جو اسکول کے بعد سارا دن گھر میں شور غل مچاتے رہتے تھے۔ انہیں دنوں ایک عیسائی لڑکی شاداں ان کے گھر میں کام کرنے آنے لگی۔ وہ بھی بچی تھی، لیکن اچانک ہی اس میں جوانی کے رنگ ڈھنگ دکھنے لگے۔ ایک روز خان صاحب کو شاداں کے زنا کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ شاداں تو اسی روز مر گئی تھی اور خان صاحب بھی ثبوت نہ ہونے کی بنا پر بری ہو گئے تھے۔

حامد کا بچہ

سعادت حسن منٹو

حامد نام کے ایک ایسے شخص کی کہانی، جو موج مستی کے لیے ایک طوائف کے پاس جاتا رہتا ہے۔ جلدی ہی اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ طوائف اس سے حاملہ ہو گئی ہے۔ اس خبر کو سن کر حامد ڈر جاتا ہے۔ وہ طوائف کو اس کے گاؤں چھوڑ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ منصوبہ بناتا ہے کہ جیسے ہی بچہ پیدا ہوگا وہ اسے دفن کر دیگا۔ مگر بچہ کی پیدائش کے بعد جب وہ اسے دفن کرنے گیا تو اس نے ایک نظر بچہ کو دیکھا۔ بچہ کی شکل ہو بہو اس طوائف کے دلال سے ملتی تھی۔

ڈارلنگ

سعادت حسن منٹو

موم بتی کے آنسو

سعادت حسن منٹو

یہ غربت کی زندگی گزارتی ایک ایسی ویشیا کی کہانی ہے جس کے گھر میں اندھیرا ہے۔ طاق میں رکھی موم بتی موم کے آنسو بہاتی ہوئی جل رہی ہے۔ اس کی چھوٹی بچی موتیوں کا ہار مانگتی ہے تو وہ فرش پر جمے موم کو دھاگے میں پرو کر مالا بناکر اس کے گلے میں پہنا دیتی ہے۔ رات میں اس کا گاہک آتا ہے۔ اس سے الگ ہونے پر وہ تھک جاتی ہے، تبھی اسے اپنی بچی کا خیال آتا ہے اور وہ اس کے چھوٹے پلنگ کے پاس جاکر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیتی ہے۔

ADVERTISEMENT

پھوجا حرام دا

سعادت حسن منٹو

ملاوٹ

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے ایماندار اور خوش اخلاق شخص کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیا۔ وہ اپنی زندگی سے خوش تھا۔ اس نے اپنی شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن شادی میں اس کے ساتھ فریب کیا گیا۔ وہ جہاں بھی گیا اس کے ساتھ دھوکا اور فریب ہوتا رہا۔ پھر اس نے بھی لوگوں کو دھوکا دینے کا ارادہ کر لیا۔ آخر میں زندگی سے تنگ آکر اس نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کیا۔ خودکشی کے لیے اس نے جو زہر خریدا تھا اس میں بھی ملاوٹ تھی، جس کی وجہ سے اس کی وہ حسرت پوری نہ ہو سکی۔

شیدا

سعادت حسن منٹو

’’یہ امرتسر کے ایک مشہور غنڈے کی اپنی غیرت کے لیے ایک پولیس والے کا قتل کر دینے کی کہانی ہے۔ شیدا کا اصول تھا کہ جب بھی لڑو دشمن کے علاقے میں جاکر لڑو۔ وہ لڑائی بھی اس نے پٹرنگوں کے محلے میں جاکر کی تھی، جس کے لیے اسے دو سال کی سزا ہوئی تھی۔ اس لڑائی میں پٹرنگوں کی ایک لڑکی اس پر فدا ہو گئی تھی۔ جیل سے چھوٹنے پر جب وہ اس سے شادی کی تیاری کر رہا تھا تو ایک پولس والے نے اس لڑکی کا ریپ کرکے اس کا خون کر دیا۔ بدلے میں شیدا نے اس پولیس والے کا سر کلہاڑی سے کاٹ کر دھڑ سے الگ کر دیا۔‘‘

کالی تتری

بلونت سنگھ

’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو اپنے ساتھی ڈاکوؤں کے ساتھ ملکر اپنی ہی بہن کے گھر میں ڈاکہ ڈالتا ہے۔ جب وہ زیور چرا کر جانے لگتے ہیں تو غلطی سے ان کا ایک ساتھی گولی چلا دیتا ہے۔ اس سے پورا گاؤں جاگ جاتا ہے۔ گاؤں والوں سے باقی ڈاکو تو بچ کر نکل جاتے ہیں لیکن کالی تتری پھنس جاتا ہے۔ گاؤں کے کئی لوگ اسے پہچان لیتے ہیں اور ان میں سے ایک آگے بڑھکر ایک ہی وار میں اس کے پیٹ کی انتڑیا ں باہر کر دیتا ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

باغی

محمد مجیب

’’یہ کہانی ایک ریلوے اسٹیشن، اس کےاسٹیشن ماسٹر اور ٹکٹ بابو کے گرد گھومتی ہے۔ اسٹیشن ماسٹر کا ماننا ہے کہ پورے ہندوستان میں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ بہت کم لوگ ہی اس رشتہ کو دیکھ پاتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ اس رشتہ سے انکار کرتے ہیں وہ باغی ہیں۔ اسٹیشن ماسٹر کے مطابق ان رشتوں کو جوڑے رکھنے میں آم کے باغ اہم رول نبھاتے ہیں۔ اگر کہیں آم کے باغ نہیں ہیں تو وہ علاقہ اور وہاں کے لوگ سرے سے ہندوستانی ہی نہیں ہے۔ کسی بھی شخص کو ہندستانی ہونے کے لیے یہاں کی تہذیب میں آم کے باغ کی اہمیت کو سمجھنا ہی ہوگا۔‘‘

اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا

حجاب امتیاز علی

یہ ایک ایسے ہوٹل کی کہانی ہے جس میں ایک مخصوص تاریخ کو ایک عورت کا بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہر سال اس مخصوص تاریخ کو ہوٹل والے ہوٹل خالی کر دیتے ہیں کہ انھیں شبہ ہے کہ اس عورت کا بھوت انتقام لینے وہاں آتا ہے۔ سوئے اتفاق اس مخصوص تاریخ کو ہوٹل میں دو فوجیوں کا قیام ہوتا ہے اور انھوں نے اس عورت اور اس کے قتل کی پوری حقیقت سامنے رکھ دی۔

تم میرے ہو

مجنوں گورکھپوری

یہ سایرہ نام کی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے، جو شادی شدہ ہونے کے باوجود اپنے چچا زاد بھائی جمیل سے محبت کرتی ہے۔ جمیل بھی اسے بہت چاہتا ہے۔ جب اس کی چاہت کا علم اس کے رشتہ داروں کوہوتا ہے تو وہ جمیل کی شادی کر دینے کی سوچتے ہیں۔ سایرہ کی وجہ سے جمیل شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور شہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ جمیل کے چلے جانے بعد سایرہ اس کی جدائی میں تڑپ کر مر جاتی ہے۔

محبت کا جوگ

مجنوں گورکھپوری

’’ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جسے ایک روز دریا پر گھومتے وقت ایک بیحد خوبصورت لڑکی دکھائی دیتی ہے۔ دوبارہ جب وہ اس لڑکی کی تلاش میں جاتا ہے تو وہ اسے کہیں نہیں ملتی۔ اس لڑکی کا اس پر ایسا نشہ ہوتا ہے کہ وہ شب و روز اسی کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے۔ کچھ دنوں بعد دریا کے اسی کنارے پر اسے ایک سادھو ملتا ہے۔ سادھو اسے اس لڑکی سے ملنے کی ایسی ترکیب بتاتا ہے کہ جس کے پورا ہوتے ہی اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

سبز پری

مجنوں گورکھپوری