ADVERTISEMENT

افسانے پررنگارنگی

آرٹسٹ لوگ

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں آرٹسٹ کی زندگی کا المیہ بیان کیا گیا ہے۔ جمیلہ اور محمود اپنے فن کی بقا کے لئے مختلف طرح کے جتن کرتے ہیں لیکن باذوق لوگوں کی قلت کی وجہ سے فن کی آبیاری مشکل امر محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالات سے پریشان ہو کر معاشی آسودگی کے لیے وہ ایک فیکٹری میں کام کرنے لگتے ہیں۔ لیکن دونوں کو یہ کام آرٹسٹ کے رتبہ کے شایان شان محسوس نہیں ہوتا اسی لیے دونوں ایک دوسرے سے اپنی اس مجبوری اور کام کو چھپاتے ہیں۔

ایک خط

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ مصنف کی ذاتی زندگی کی کئی اہم ترین واقعات کو بیان کرتا ہے۔ ایک دوست کے خط کے جواب میں لکھے گئے اس خط میں مصنف نے اپنی ذاتی زندگی کے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ساتھ ہی اپنی اس ناکام محبت کا بھی ذکر کیا ہے جو اسے کشمیر قیام کے دوران وزیر نام کی لڑکی سے ہو گئی تھی۔

دیوالی کے دیے

سعادت حسن منٹو

اس کہانی میں انسان کی امیدیں اور آرزویں پوری نہ ہونے کا بیان ہے۔ چھت کی منڈیر پر دیے جل رہے ہیں۔ ایک چھوٹی بچی، ایک جوان، ایک کمہار، ایک مزدور اور ایک فوجی یکے بعد دیگرے آتے ہیں۔ سب اپنی اپنی فکروں میں غلطاں ہیں، دیے سب کو چپ چاپ دیکھتے ہیں اور پھر ایک ایک کرکے بجھ جاتے ہیں۔

باردہ شمالی

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

مائی نانکی

سعادت حسن منٹو

تقسیم ہند کے نتیجے میں پاکستان جانے والے مہاجروں کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ مائی نانکی ایک مشہور دایہ تھی جو پچیس لوگوں کا خرچ پورا کرتی تھی۔ ہزاروں کی مالیت کا زیور اور بھینس وغیرہ چھوڑ کر پاکستان آئی لیکن یہاں اس کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ تنگ آکر وہ یہ بددعا کرنے لگی کہ اللہ ایک بار پھر سب کو مہاجر کر دے تاکہ ان کو معلوم تو ہو کہ مہاجر کس کو کہتے ہیں۔

پھندنے

سعادت حسن منٹو

افسانے کا موضوع جنس اور تشدد ہے۔ افسانے میں بیک وقت انسان اور جانور دونوں کو بطور کردار پیش کیا گیا ہے۔ جنسی عمل سے برآمد ہونے والے نتائج کو تسلیم نہ کر پانے کی صورت میں بلی کے بچے، کتے کے بچے، ڈھلتی عمر کی عورتیں، جن میں جنسی کشش باقی نہیں وہ سب کے سب موت کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔

افشائے راز

سعادت حسن منٹو

’’یہ افسانہ میاں بیوی کے درمیان پنجابی زبان کے ایک گیت کو لیکر ہوئے نوک جھونک پر مبنی ہے۔ میاں ایک روز نہاتے ہوئے پنجابی کا کوئی گیت گانے لگا تو بیوی نے اسے ٹوک دیا، کیونکہ اسے پنجابی زبان سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اس پر شوہر نے اسے کئی طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر بات نہیں بنی۔ تبھی نوکر ڈاک لیکر آ گیا۔ بیوی نے شوہر کی اجازت کے بغیر ڈاک کھولی تو وہ ایک خاتون کا خط تھا، جس میں اسی گیت کی کچھ سطریں لکھی ہوئی تھیں، جو اس کا شوہر کچھ دیر پہلے گنگنا رہا تھا۔‘‘

بڈھا کھوسٹ

سعادت حسن منٹو

یہ ایک بوڑھے کرنل کے عشق کی کامرانیوں کی داستان ہے۔ کرنل عثمانی ایک بوڑھا آدمی تھا جسے سلیم جیسا جوان آدمی بڈھا کھوسٹ اور غیر ضروری شے سمجھتا تھا لیکن ایک دن انہوں نے دیکھا کہ کرنل عثمانی اس کی محبوبہ آئرن کا بوسہ لے رہے ہیں تو سلیم کو لگا کہ وہ خود کرنل عثمانی سے زیادہ بڈھا کھوسٹ ہے۔

ADVERTISEMENT

شادی

سعادت حسن منٹو

ستاروں سے آگے

قرۃ العین حیدر

کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ طلبا کے ایک گروپ کی کہانی جو رات کی تاریکی میں گاؤں کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے۔ سبھی ایک بیل گاڑی میں سوار ہیں اور گروپ کا ایک ساتھی ماہیا گا رہا ہے دوسرے اسے غور سے سن رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں کوئی ٹوک دیتا ہے اور تیسرا اس کا جواب دینے لگتا ہے۔ دیا گیا جواب فقط ایک جواب نہیں ہے بلکہ انکے احساسات بھی اس میں شامل ہیں۔

رحمت خداوندی کے پھول

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے شرابی شخص کی کہانی ہے جو جتنا بڑا شرابی ہے، اتنا ہی بڑا کنجوس بھی ہے۔ وہ دوستوں کے ساتھ شراب پینے سے بچتا ہے، کیونکہ اس سے اسے زیادہ روپیے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ وہ گھر پر بھی نہیں پی سکتا، کیونکہ اس سے بیوی کے ناراض ہو جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس مشکل کا حل وہ کچھ اس طرح نکالتا ہے کہ پیٹ کے درد کا بہانہ کرکے دوائی کی بوتل میں شراب لے آتا ہے اور بیوی سے ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک خوراک دینے کے لیے کہتا ہے۔ اس سے اس کی یہ مشکل تو آسان ہو جاتی ہے۔ مگر ایک دوسری مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک روز اس کی بیوی پیٹ کے درد کی وجہ سے اسی بوتل سے تین پیگ پی لیتی ہے۔

مصری کی ڈلی

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

تین میں نہ تیرہ میں

سعادت حسن منٹو

افسانہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی نوک جھونک پر مبنی ہے۔ بیوی اپنے شوہر سے ناراض ہے اور اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے محاوروں کا استعمال کرتی ہے۔ شوہر اس کے ہر محاورے کا جواب دیتا ہے اور وہ دونوں جھگڑتے ہوئے عورت مرد کے تعلقات، شادی اور خانگی امور کے بارے میں بڑی دلچسپ گفتگو کرتے جاتے ہیں۔

پرواز کے بعد

قرۃ العین حیدر

یہ دلی احساسات اور خواہشات کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ اس میں حادثات کم اور واقعات زیادہ ہیں۔ دو لڑکیاں جو ساتھ پڑھتی ہیں ان میں سے ایک کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے مگر وہ شخص اسے مل کر بھی مل نہیں پاتا اور بچھڑنے کے بعد بھی جدا نہیں ہوتا۔ کہا جائے تو یہ وصال و ہجر کی کہانی ہے، جسے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیئے۔

لتیکا رانی

سعادت حسن منٹو

ایک معمولی خدوخال کی لڑکی کے سلور سکرین پر ابھرنے اور پھر ڈوب جانے کے المیے پر مبنی کہانی ہے۔ لتیکا رانی معمولی سی شکل صورت کی لڑکی تھی۔ اسے ایک مدراسی مرد سے محبت تھی۔ لندن قیام کے دوران اس کی زندگی میں ایک بنگالی بابو داخل ہوتا ہے ۔ بنگالی بابو نے لتیکا رانی کو کچھ اس طرح بدلا کی وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستانی سنیما کی مقبول ترین ہیروئن بن گئی۔ پھر اچانک ہی اس کی زندگی میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ اس کا سب کچھ بدل گیا۔

شہ نشین پر

سعادت حسن منٹو

’’محبت میں ناکام ہو جانے پر خودکشی کے لیے آمادہ ایک خوبصورت لڑکی کی کہانی ہے۔ اس کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں، جن میں ہر وقت آنسو تیرتے رہتے ہیں۔ جس لڑکے سے وہ محبت کرتی تھی، اس لڑکے نے اسے دھوکا دیا ہے۔ اس وجہ سے وہ خودکشی کرنا چاہتی ہے۔ اس کا ایک خیر خواہ اسے نہ صرف محبت کے معنی سمجھاتا ہے بلکہ زندہ رہنے کا جواز بھی بتاتا ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

سونورل

سعادت حسن منٹو

اودھ کی شام

قرۃ العین حیدر

افسانے میں اودھ یعنی لکھنؤ کی ایک شام کا ذکر ہے جس میں ایک انگریز لڑکا ایک ہندوستانی لڑکی کو ساتھ ناچنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ لڑکی اس کے ساتھ رقص کرتی ہے اور تحریک آزادی، اودھ کی سلطنت اور اسکے رسم و رواج اور رونق کی داستان بیان کرتی ہے۔

مونا لسا

قرۃ العین حیدر

اس کہانی میں واقعات کو کم، ذہنی کیفیت اور دلی احساسات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان احساسات میں ملن ہے، محبت اور جدائی ہے۔ وقت کی مناسبت سے کئی کردار ابھرتے اور ماند پڑ جاتے ہیں۔ ہر کسی کی اپنی کہانی ہے، مگر جو کہانی کہتا ہے، اس کی خود کی کہانی کہیں دھندلی پڑ جاتی ہے۔

دور کا نشانہ

چودھری محمد علی ردولوی

افسانہ ایک ایسے منشی کی داستان کو بیان کرتا ہے جو اپنی ہر خواہشات کو بصد شوق پورا کرنے کا قائل ہے۔ اس کا کامیاب کاروبار ہے اور چوک جو کہ بازار حسن ہے، تک بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ایسے میں اس کی ملاقات ایک طوائف سے ہو جاتی ہے۔ ایک روز وہ طوائف کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک پولیس والے نے اس کے آدمی کے ساتھ مارپیٹ کرلی۔ طوائف چاہتی ہے کہ منشی باہر جائے اور وہ اس پولیس والے کو سبق سکھائے، لیکن منشی جی کی سرد مہری دیکھ کر وہ ان سے خفا ہو جاتی ہے۔

ADVERTISEMENT