ADVERTISEMENT

افسانے پرڈرامہ

آرٹسٹ لوگ

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں آرٹسٹ کی زندگی کا المیہ بیان کیا گیا ہے۔ جمیلہ اور محمود اپنے فن کی بقا کے لئے مختلف طرح کے جتن کرتے ہیں لیکن باذوق لوگوں کی قلت کی وجہ سے فن کی آبیاری مشکل امر محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالات سے پریشان ہو کر معاشی آسودگی کے لیے وہ ایک فیکٹری میں کام کرنے لگتے ہیں۔ لیکن دونوں کو یہ کام آرٹسٹ کے رتبہ کے شایان شان محسوس نہیں ہوتا اسی لیے دونوں ایک دوسرے سے اپنی اس مجبوری اور کام کو چھپاتے ہیں۔

عورت ذات

سعادت حسن منٹو

’’ایک ایسے شخص کی کہانی جس کی گھوڑوں کی ریس کے دوران ایک مہاراجہ سے دوستی ہو جاتی ہے۔ مہاراجہ ایک دن اسے اپنے یہاں پروجیکٹر پر کچھ شہوت انگیز فلمیں دکھاتا ہے۔ ان فلموں کو مانگ کر وہ شخص اپنے گھر لے جاتا ہے اور اپنی بیوی کو دکھاتا ہے۔ اس سے اس کی بیوی ناراض ہو جاتی ہے۔ بیوی کی ناراضگی سے وہ بہت شرمندہ ہوتا ہے۔ اگلے دن جب وہ دوپہر کے کھانے کے بعد آفس سے گھر آتا ہے تواسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیوی اپنی بہنوں اور سہیلیوں کے ساتھ پروجیکٹر پر وہی فلمیں دیکھ رہی ہے۔‘‘

اس کا پتی

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ استحصال، انسانی اقدار اور اخلاقیات کے زوال کی کہانی ہے۔ بھٹے کے مالک کا عیاش بیٹا ستیش گاؤں کی غریب لڑکی روپا کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر چھوڑ دیتا ہے۔ جب گاؤں والوں کو اس کے حاملہ ہونے کی بھنک لگتی ہے تو روپا کا ہونے والا سسر اس کی ماں کو لعن طعن کرتا ہے اور رشتہ ختم کر دیتا ہے۔ معاملے کو سلجھانے کے لیے نتھو کو بلایا جاتا ہے، جو سمجھدار اور معاملہ فہم سمجھا جاتا تھا۔ ساری باتیں سننے کے بعد وہ روپا کو ستیش کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ روپا اور اپنے بچے کو سنبھال لے۔ لیکن ستیش سودا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس پر روپا بھاگ جاتی ہے اور پاگل ہو جاتی ہے۔

برقعے

سعادت حسن منٹو

کہانی میں برقعے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مضحکہ خیز صورت حال کو بیان کیا گیا ہے۔ ظہیر نامی نوجوان کو اپنے پڑوس میں رہنے والی لڑکی سے عشق ہو جاتا ہے۔ لیکن اس گھر میں تین لڑکیاں ہیں اور تینوں برقعہ پہنتی ہیں۔ ظہیر خط کسی اور کو لکھتا ہے اور ہاتھ کسی اور کا پکڑتا ہے۔ اسی چکر میں اس کی ایک دن پٹائی ہو جاتی ہے اور پٹائی کے فوراً بعد اسے ایک رقعہ ملتا ہے کہ تم اپنی ماں کو میرے گھر کیوں نہیں بھیجتے۔ آج تین بجے سنیما میں ملنا۔

ADVERTISEMENT

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

سعادت حسن منٹو

یہ ایک عشقیہ کہانی ہے جس میں معشوق کے متعلق غلط فہمی کی وجہ سے دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ جاوید کو زاہدہ نامی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے اور اپنے دوست سعادت کو لارنس گارڈن کے گیٹ پر زاہدہ کے استقبال کے لئے بھیجتا ہے۔ سعادت جس لڑکی کو زاہدہ سمجھتا ہے اس کے بارے میں تانگہ والا بتاتا ہے کہ وہ فاحشہ ہے۔ گھبرا کر سعادت وہیں تانگہ چھوڑ دیتا ہے اور وہ لارنس گارڈن واپس آتا ہے تو جاوید کو زاہدہ سے محو گفتگو پاتا ہے۔

ترقی پسند

سعادت حسن منٹو

طنز و مزاح کے پیرایہ میں لکھا گیا یہ افسانہ ترقی پسند افسانہ نگاروں پر بھی چوٹ کرتا ہے۔ جوگندر سنگھ ایک ترقی پسند افسانہ نگار ہے جس کے یہاں ہریندر سنگھ آکر پڑاؤ ڈال دیتا ہے اور مسلسل اپنے افسانے سنا کر بو رکرتا رہتا ہے۔ ایک دن اچانک جوگندر سنگھ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی حق تلفی کر رہا ہے۔ اسی خیال کے تحت وہ ہریندر سے باہر جانے کا بہانہ کرکے بیوی سے رات بارہ بجے آنے کا وعدہ کرتا ہے۔ لیکن جب رات میں جوگندر اپنے گھر کے دروازہ پر دستک دیتا ہے تو اس کی بیوی کے بجائے ہریندر دروزہ کھولتا ہے اور کہتا ہے جلدی آ گئے، آو، ابھی ایک افسانہ مکمل کیا ہے، اسے سنو۔

ADVERTISEMENT

فرشتہ

سعادت حسن منٹو

زندگی کی آزمائشوں سے پریشان شخص کی نفسیاتی کیفیت پر مبنی کہانی۔ بستر مرگ پر پڑا عطاء اللہ اپنے اہل خانہ کی مجبوریوں کو دیکھ کر خلجان میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نیم غنودگی کے عالم میں دیکھتا ہے کہ اس نے سب کو مار ڈالا ہے یعنی جو کام وہ اصل میں نہیں کر سکتا اسے خواب میں انجام دیتا ہے۔ 

خالد میاں

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنے بیٹے کی موت کے وہم میں ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ خالد میاں ایک بہت تندرست اور خوبصورت بچہ تھا۔ کچھ ہی دنوں میں وہ ایک سال کا ہونے والا تھا، اس کی سالگرہ سے دو دن قبل ہی اس کے باپ ممتاز کو یہ وہم ہونے لگا کہ خالد ایک سال کا ہونے سے پہلے ہی مر جائیگا۔ حالانکہ بچہ بالکل تندرست تھا اور ہنس کھیل رہا تھا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا تھا، ممتاز کا وہم اور بھی گہرا ہوتا جاتا تھا۔

ADVERTISEMENT

کبوتروں والا سائیں

سعادت حسن منٹو

افسانہ انسانی عقائد اور توہمات پر مبنی ہے۔ مائی جیواں کے نیم پاگل بیٹے کو صاحب کرامات سمجھنا، سندر جاٹ ڈاکو جس کا وجود تک مشکوک ہے اس سے گاؤں والوں کا خوف زدہ رہنا، نیتی کے غائب ہونے کو سندرجاٹ سے وابستہ کرنا ایسے مفروضے ہیں جن کی تصدیق کے کوئی دلائل نہیں۔

پھندنے

سعادت حسن منٹو

افسانے کا موضوع جنس اور تشدد ہے۔ افسانے میں بیک وقت انسان اور جانور دونوں کو بطور کردار پیش کیا گیا ہے۔ جنسی عمل سے برآمد ہونے والے نتائج کو تسلیم نہ کر پانے کی صورت میں بلی کے بچے، کتے کے بچے، ڈھلتی عمر کی عورتیں، جن میں جنسی کشش باقی نہیں وہ سب کے سب موت کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

حسن کی تخلیق

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسے جوڑے کی کہانی ہے، جو اپنے وقت کی سب سے خوبصورت اور ذہین جوڑی تھی۔ دونوں کی محبت کا آغاز کالج کے دنوں میں ہوا تھا۔ پھر پڑھائی کے بعد انہوں نے شادی کر لی۔ اپنی بے مثال خوبصورتی کی بناپر وہ اکثر اپنے ہونے والے بچے کی خوبصورتی کے بارے میں سوچنے لگے۔ ہونے والے بچے کی خوبصورتی کا خیال ان کے ذہن پر کچھ اس طرح حاوی ہو گیا کہ وہ دن رات اسی کے بارے میں باتیں کیا کرتے۔ پھر ان کے یہاں بچہ پیدا بھی ہوا۔ لیکن وہ کوئی عام سا بچہ نہیں تھا بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک نمونہ تھا۔‘‘

کتے کی دعا

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ ایک کتے کی اپنے مالک کے لیے وفاداری کی ایک انوکھی داستان بیان کرتا ہے۔ اس شخص نے اپنی اور اپنے کتےگولڈی کی کہانی سناتے ہوئے بیتی زندگی کے کئی واقعات کا ذکر کیا۔ ان واقعات میں ان دونوں کے آپسی تعلقات اور ایک دوسرے کے لیے لگاؤ کے بارے میں کئی نصیحت آمیز قصے تھے۔ مگر حقیقی کہانی تو یہ تھی کہ جب ایک بارکتے کا مالک بیمار پڑا تو کتے نے اس کے لیے ایسی دعا مانگی کہ مالک تو ٹھیک ہو گیا، لیکن کتا اپنی جان سے جاتا رہا۔

ADVERTISEMENT

موسم کی شرارت

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے، جو کشمیر گھومنے گیا ہے۔ صبح کی سیر کے وقت وہ وہاں کے دلکش مناظر کو دیکھتا ہے اور اس میں کھویا ہوا چلتا چلا جاتا ہے۔ تبھی اسے کچھ بھینسوں، گایوں اور بکریوں کو لیے آتی ایک چرواہے کی لڑکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اسے اتنی خوبصورت نظر آتی ہے کہ اسے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ لڑکی بھی گھر جاتے ہوئے تین بار اسے مڑ کر دیکھتی ہے۔ کچھ دیر اس کے گھر کے پاس کھڑے رہنے کے دوران بارش ہونے لگتی ہے، اور جب تک وہ ڈاک بنگلے پر پہنچتا ہے تب تک وہ پوری طرح بھیگ جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

ڈھارس

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے شراب پینے کے بعد عورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس دن وہ اپنے ایک ہندو دوست کی بارات میں گیا ہوا تھا۔ وہاں بھی پینے پلانے کا دور چلا۔ کسی نے بھی اس کی اس عادت کو قابل توجہ نہیں سمجھا۔ وہ پینے کے بعد چھت پر چلا گیا۔ وہاں اندھیرے میں لیٹی ایک انجان لڑکی کے ساتھ جاکر وہ سو گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ دلہن کی بیوہ بہن تھی۔ اس کی اس نازیبا حرکت پر وہ مسلسل رو رہی تھی۔ پھر لوگوں کے سمجھانے بجھانے پر وہ مان جاتی ہے اور کسی سے کچھ نہیں کہتی۔‘‘

شہ نشین پر

سعادت حسن منٹو

’’محبت میں ناکام ہو جانے پر خودکشی کے لیے آمادہ ایک خوبصورت لڑکی کی کہانی ہے۔ اس کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں، جن میں ہر وقت آنسو تیرتے رہتے ہیں۔ جس لڑکے سے وہ محبت کرتی تھی، اس لڑکے نے اسے دھوکا دیا ہے۔ اس وجہ سے وہ خودکشی کرنا چاہتی ہے۔ اس کا ایک خیر خواہ اسے نہ صرف محبت کے معنی سمجھاتا ہے بلکہ زندہ رہنے کا جواز بھی بتاتا ہے۔‘‘