ADVERTISEMENT

افسانے پردوستی

آخری سلیوٹ

سعادت حسن منٹو

آزادی ہند کے بعد کشمیر کے لیے دونوں ملکوں میں ہونے والی پہلی جنگ کے مناظر کو پیش کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح دونوں ملک کے فوجی جذباتی طور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں لیکن اپنے اپنے ملک کے آئین اور قانون کے پابند ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ کرنے پر مجبور ہیں۔ وہی لوگ جو جنگ عظیم میں متحد ہو کر لڑے تھے وہ اس وقت الگ الگ ملک میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

سعادت حسن منٹو

یہ ایک عشقیہ کہانی ہے جس میں معشوق کے متعلق غلط فہمی کی وجہ سے دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ جاوید کو زاہدہ نامی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے اور اپنے دوست سعادت کو لارنس گارڈن کے گیٹ پر زاہدہ کے استقبال کے لئے بھیجتا ہے۔ سعادت جس لڑکی کو زاہدہ سمجھتا ہے اس کے بارے میں تانگہ والا بتاتا ہے کہ وہ فاحشہ ہے۔ گھبرا کر سعادت وہیں تانگہ چھوڑ دیتا ہے اور وہ لارنس گارڈن واپس آتا ہے تو جاوید کو زاہدہ سے محو گفتگو پاتا ہے۔

جسم اور روح

سعادت حسن منٹو

انقلاب پسند

سعادت حسن منٹو

اس کہانی کا مرکزی کردار سلیم ایک فطری انقلاب پسند واقع ہوا ہے۔ وہ کائنات کی ہر شے حتی کہ اپنے کمرے کی ترتیب میں بھی انقلاب دیکھنا پسند کرتا ہے۔ وہ دنیا سے غربت، بے روزگاری، ناانصافی اور استحصالی نظام کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ بازاروں میں تقریریں کرتا ہے لیکن اسے پاگل سمجھ کر پاگل خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

اصلی جن

سعادت حسن منٹو

ہم جنسیت کے تعلقات پر مبنی کہانی۔ فرخندہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بچپن میں ہی اس کے باپ کا انتقال ہو گیا تھا تو وہ اکیلے اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگی تھی۔ جوانی کا سفر اس نے تنہا ہی گزار دیا۔ جب وہ اٹھارہ سال کی ہوئی تو اس کی ملاقات نسیمہ سے ہوئی۔ نسیمہ ایک پنجابی لڑکی تھی، جو حال ہی میں پڑوس میں رہنے آئی تھی۔ نسیمہ ایک لمبی چوڑی مردوں کی خصلت والی خاتون تھی، جو فرخندہ کو بھا گئی تھی۔ جب فرخندہ کی ماں نے اس کا نسیمہ سے ملنا بند کر دیا تو وہ نیم پاگل ہو گئی۔ لوگوں نے کہا کہ اس پر جن ہے، پر جب ایک دن چھت پر اس کی ملاقات نسیمہ کے چھوٹے بھائی سے ہوئی تو اس کے سبھی جن بھاگ گئے۔

عشقیہ کہانی

سعادت حسن منٹو

یہ عشق میں گرفتار ہو جانے کی خواہش رکھنے والے ایک ایسے نوجوان جمیل کی کہانی ہے جو چاہتا ہے کہ وہ کسی لڑکی کے عشق میں بری طرح گرفتار ہو جائے اور پھر اس سے شادی کر لے۔ اس کے لیے وہ بہت سی لڑکیوں کا انتخاب بھی کرتا ہے۔ ان سے ملنے، انہیں خط لکھنے کے منصوبے بناتا ہے، لیکن اپنے کسی بھی منصوبہ پر وہ عمل نہیں کر پاتا۔ آخر میں اس کی شادی طے ہو جاتی ہے، اور رخصتی کی تاریخ بھی مقرر ہو جاتی ہے۔ اسی رات اس کی خالہ زاد بہن خودکشی کر لیتی ہے، جو جمیل کے عشق میں بری طرح گرفتار ہوتی ہے۔

قرض کی پیتے تھے۔۔۔

سعادت حسن منٹو

مرزا غالب کی مے خواری اور قرض کی عدم ادائیگی کی باعث معاملہ عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔ وہاں مفتی صدر الدین آزردہ کرسی عدالت پر براجمان ہوتے ہیں۔ مرزا غالب کی غلطی ثابت ہو جانے کے بعد مفتی صدر الدین جرمانہ کی سزا بھی دیتے ہیں اور اپنی جیب خاص سے جرمانہ ادا بھی کر دیتے ہیں۔

جانکی

سعادت حسن منٹو

جانکی ایک زندہ اور متحرک کردار ہے جو پونہ سے ممبئی فلم میں کام کرنے آتی ہے۔ اس کے اندر مامتا اور خلوص کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہے۔ عزیز، سعید اور نرائن، جس شخص کے بھی قریب ہوتی ہے تو اس کے ساتھ جسمانی خلوص برتنے میں بھی کوئی تکلف محسوس نہیں کرتی۔ اس کی نفسیاتی پیچیدگیاں کچھ اس قسم کی ہیں کہ جس وقت وہ ایک شخص سے جسمانی رشتوں میں منسلک ہوتی ہے ٹھیک اسی وقت اسے دوسرے کی بیماری کا بھی خیال ستاتا رہتا ہے۔ جنسی میلانات کا تجزیہ کرتی ہوئی یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔

ADVERTISEMENT

ساڑھے تین آنے

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں صاحب اقتدار اور حکمراں طبقے پر شدید طنز کیا گیا ہے۔ رضوی جیل سے باہر آنے کے بعد ایک کیفے میں بیٹھ کر فلسفیانہ انداز میں معاشرتی جبر پر گفتگو کرتا ہے کہ کس طرح یہ معاشرہ ایک ایک ایماندار انسان کو چور اور قاتل بنا دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ پھگو بھنگی کا ذکر کرتا ہے جس نے بڑی ایمانداری سے اس کے دس روپے اس تک پہنچائے تھے۔ یہ وہی پھگو بھنگی ہے جس کو وقت پر تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ساڑھے تین آنے چوری کرنے پڑتے ہیں اور اسے ایک سال کی سزا ملتی ہے۔

تین موٹی عورتیں

سعادت حسن منٹو

طبقۂ اشرافیہ کی عورتوں کی دلچسپیوں، ان کے مشاغل اور ان کی مصروفیات کا عمدہ تذکرہ پر مبنی عمدہ کہانی ہے۔ اس کہانی میں تین ایسی عورتیں ایک ساتھ جمع ہیں جن کی باہمی دوستی کی وجہ صرف ان کا موٹاپا ہے۔ وہ سال میں ایک مہینے کے لیے موٹاپا کم کرنے کی غرض سے کربساد جاتی ہیں لیکن وہاں بھی وہ ایک دوسرے کی حرص میں مرغن غذاؤں سے پرہیز نہیں کرتیں اور برسہا برس گزر جانے کے بعد بھی ان کے موٹاپے میں کوئی فرق نہیں آتا۔

نطفہ

سعادت حسن منٹو

باردہ شمالی

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

شانتی

سعادت حسن منٹو

اس کہانی کا موضوع ایک طوائف ہے۔ کالج کے دنوں میں وہ ایک نوجوان سے محبت کرتی تھی۔ جس کے ساتھ وہ گھر سے بھاگ آئی تھی۔ مگر اس نوجوان نے اسے دھوکہ دیا اور وہ دھندا کرنے لگی تھی۔ بمبئی میں ایک روز اس کے پاس ایک ایسا گراہک آتا ہے، جسے اس کے جسم سے زیادہ اس کی کہانی میں دلچسپی ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے شانتی کی کہانی آگے بڑھتی ہے وہ شخص اس میں ڈوبتا جاتا ہے اور آخر میں شانتی سے شادی کر لیتا ہے۔

منظور

سعادت حسن منٹو

’’اپنی بیماری سے بہادری کے ساتھ لڑنے والے ایک مفلوج بچے کی کہانی۔ اختر کو جب دل کا دورہ پڑا تو اسے اسپتال میں بھرتی کرایا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات منظور سے ہوئی۔ منظور کے جسم کا نیچے کا حصہ بالکل بیکار ہو گیا تھا۔ پھر بھی وہ پورے وارڈ میں سب کی خیریت پوچھتا رہتا۔ ہر کسی سے بات کرتا۔ ڈاکٹر، نرس بھی اس سے بہت خوش تھے۔ حالانکہ اس کی حالت میں کوئی بہتری نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کے ماں باپ کے اصرار پر ڈاکٹروں نے اپنے یہاں داخل کر لیا تھا۔ اختر منظور سے بہت متاثر ہوا۔ جب اس کی چھٹی کا دن قریب آیا تو ڈسچارج ہونے سے پہلے کی رات کو ہی منظور کا انتقال ہو گیا۔‘‘

مسٹر حمیدہ

سعادت حسن منٹو

یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے جس کے چہرے پر مردوں کی طرح داڑھی کے بال ہیں۔ راشد نے اسے پہلی بار بس سٹینڈ پر دیکھا تھا اور وہ اسے دیکھ کر اتنا حیران ہوا تھا کہ اس کے ہوش و حواس ہی گم ہو گئے تھے۔ دوسری بار اس نے اسے کالج میں دیکھا تھا۔ کالج میں لڑکے اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور داڑھی کی وجہ سے انہوں نے اس کا نام مسٹر حمیدہ رکھ دیا تھا۔ راشد کو لڑکوں کی یہ حرکتیں بہت ناپسند تھیں۔ اس نے حمیدہ سے دوستی کرنی چاہی، لیکن حمیدہ نے انکار کر دیا۔ ایک بار حمیدہ بیمار پڑی تو اس نے اپنی شیو کرانے کے لیے راشد کو بلا بھیجا اور اس طرح وہ دونوں دوست ہو کر ایک رشتہ میں بندھ گئے۔

خودکشی

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کے یہاں شادی کے بعد بیٹی پیدا ہوتی ہے۔ لاکھ کوششوں کے بعد بھی وہ اس بچی کا کوئی اچھا سا نام نہیں سوچ پاتا ہے۔ نام کی تلاش کے لیے وہ ڈکشنری خریدتا ہے، جب تک ڈکشنری لیکر وہ گھر پہنچتا ہے تب تک بیٹی کی موت ہو چکی ہوتی ہے۔ بیٹی کے موت کے غم میں کچھ ہی دنوں بعد اس کی بیوی کی بھی موت ہو جاتی ہے۔ زندگی کے دیے، ان صدموں سے تنگ آکر وہ خودکشی کرنے کی سوچتا ہے۔ اس غرض سے وہ ریلوے لائن پر جاتا ہے مگر وہاں پہلے سے ہی ایک دوسرا شخص لائن پر لیٹا ہوتا ہے۔ سامنے سے آ رہی ٹرین کو دیکھ کر وہ اس شخص کو بچا لیتا ہے اور اس سے ایسی باتیں کہتا ہے کہ ان باتوں سے اس کی خود کی زندگی پوری طرح بدل جاتی ہے۔

ADVERTISEMENT

پنچایت

پریم چند

مس ٹین والا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک نفسیاتی مریض کی ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں پر مبنی کہانی ہے۔ زیدی صاحب ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے وہ ایک بلے کی اپنے گھر میں آمد ورفت سے پریشان ہیں۔ وہ بلا اتنا ڈھیٹ ہے کہ ڈرانے، دھمکانے یا پھر مارنے کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ کھانے کے بعد بھی وہ اسی طرح اکڑ کے ساتھ زیدی صاحب کو گھورتا ہوا گھر سے باہر چلا جاتا ہے۔ اس کے اس رویئے سے زیدی صاحب اتنے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مصنف دوست سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے دوست کی اپنی کیفیت اور اس بلے کی شرارتوں کی پوری داستان سناتے ہیں تو پھر دوست کے یاد دلانے پر انہیں یاد آتا ہے کہ بچپن میں اسکول کے باہر مس ٹین والا آیا کرتا تھا، جو مسٹر زیدی پر عاشق تھا۔ وہ بھی اس بلے کی ہی طرح ضدی، اکڑ والا اور ہر طرح کے زد و کوب سے بے اثر رہا کرتا تھا۔

حامد کا بچہ

سعادت حسن منٹو

حامد نام کے ایک ایسے شخص کی کہانی، جو موج مستی کے لیے ایک طوائف کے پاس جاتا رہتا ہے۔ جلدی ہی اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ طوائف اس سے حاملہ ہو گئی ہے۔ اس خبر کو سن کر حامد ڈر جاتا ہے۔ وہ طوائف کو اس کے گاؤں چھوڑ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ منصوبہ بناتا ہے کہ جیسے ہی بچہ پیدا ہوگا وہ اسے دفن کر دیگا۔ مگر بچہ کی پیدائش کے بعد جب وہ اسے دفن کرنے گیا تو اس نے ایک نظر بچہ کو دیکھا۔ بچہ کی شکل ہو بہو اس طوائف کے دلال سے ملتی تھی۔

خورشٹ

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ معاشرہ کے ایک نازک پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ سردار زور آور سنگھ، ساوک کاپڑیا کا لنگوٹیا یار ہے۔ اپنا اکثر وقت اس کے گھر پہ گزارتا ہے۔ دوست ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی خورشید سے بھی بے تکلفی ہے۔ سردار ہر وقت خورشید کی آواز کی تعریف کرتا ہے اور اس کے لیے مناسب اسٹوڈیو کی تلاش میں رہتا ہے۔ اپنے ان حربوں کے ذریعہ وہ خورشید کو رام کر کے اس سے شادی کر لیتا ہے۔

ADVERTISEMENT

ستاروں سے آگے

قرۃ العین حیدر

کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ طلبا کے ایک گروپ کی کہانی جو رات کی تاریکی میں گاؤں کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے۔ سبھی ایک بیل گاڑی میں سوار ہیں اور گروپ کا ایک ساتھی ماہیا گا رہا ہے دوسرے اسے غور سے سن رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں کوئی ٹوک دیتا ہے اور تیسرا اس کا جواب دینے لگتا ہے۔ دیا گیا جواب فقط ایک جواب نہیں ہے بلکہ انکے احساسات بھی اس میں شامل ہیں۔

رحمت خداوندی کے پھول

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے شرابی شخص کی کہانی ہے جو جتنا بڑا شرابی ہے، اتنا ہی بڑا کنجوس بھی ہے۔ وہ دوستوں کے ساتھ شراب پینے سے بچتا ہے، کیونکہ اس سے اسے زیادہ روپیے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ وہ گھر پر بھی نہیں پی سکتا، کیونکہ اس سے بیوی کے ناراض ہو جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس مشکل کا حل وہ کچھ اس طرح نکالتا ہے کہ پیٹ کے درد کا بہانہ کرکے دوائی کی بوتل میں شراب لے آتا ہے اور بیوی سے ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک خوراک دینے کے لیے کہتا ہے۔ اس سے اس کی یہ مشکل تو آسان ہو جاتی ہے۔ مگر ایک دوسری مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک روز اس کی بیوی پیٹ کے درد کی وجہ سے اسی بوتل سے تین پیگ پی لیتی ہے۔

کتاب کا خلاصہ

سعادت حسن منٹو

تین میں نہ تیرہ میں

سعادت حسن منٹو

افسانہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی نوک جھونک پر مبنی ہے۔ بیوی اپنے شوہر سے ناراض ہے اور اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے محاوروں کا استعمال کرتی ہے۔ شوہر اس کے ہر محاورے کا جواب دیتا ہے اور وہ دونوں جھگڑتے ہوئے عورت مرد کے تعلقات، شادی اور خانگی امور کے بارے میں بڑی دلچسپ گفتگو کرتے جاتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

گرم سوٹ

سعادت حسن منٹو

دودا پہلوان

سعادت حسن منٹو

اس کہانی کا موضوع ایک نوکر کی اپنے مالک سے وفاداری ہے۔ صلاحو نے بچپن سے ہی دودے پہلوان کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ باپ کی موت کے بعد صلاحو کھل گیا تھا اور ہیرا منڈی کی طوایفوں کے کوٹھوں پر اپنی زندگی گزارنے لگا تھا۔ ایک طوایف کی بیٹی پر وہ اس قدر عاشق ہوا کہ اس کی ساری جایداد نیلام ہو گیی۔ گھر کو قرق ہونے سے بچانے کے لیے اسے بیس ہزار روپیوں کی ضرورت تھی، جو اسے کہیں سے نہ ملے۔ آخر میں دودے پہلوان ہی نے اپنی آن کو فروخت کر اس کے لیے پیسوں کا انتظام کیا۔

قیمے کی بجائے بوٹیاں

سعادت حسن منٹو

پریشانی کا سبب

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

ٹیڑھی لکیر

سعادت حسن منٹو

ایک آزادی پسند، اذیت پسند، صاف گو اور ڈگر سے ہٹ کر کچھ انوکھا کرنے کی دھن رکھنے والے شخص کی کہانی ہے جو اپنی انفرادیت پسندی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک رات اپنی منکوحہ بیوی کو ہی سسرال سے بھگا لے جاتا ہے۔

تقی کاتب

سعادت حسن منٹو

میرا اور اس کا انتقام

سعادت حسن منٹو

یہ ایک شوخ، چنچل اور چلبلی لڑکی کی کہانی ہے، جو پورے محلے میں ہر کسی سے مذاق کرتی رہتی ہے۔ ایک دن جب وہ اپنی سہیلی بملا سے ملنے گئی تو وہاں بملا کے بھائی نے اس سے انتقام لینے کے لیے جھوٹ بول کر گھر میں بند کر لیا اور اس کے نم ہونٹوں کو چوم لیا۔ وہاں وہ شام تک بند رہی۔ کچھ دنوں بعد جب بملا کو موقع ملا تو وہ بھی اپنا انتقام لینے سے پیچھے نہیں رہی۔

گھوگا

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

خود فریب

سعادت حسن منٹو

جان محمد

سعادت حسن منٹو

انسان کی نفسیاتی پیچیدگیوں اور تہہ در تہہ پوشیدہ شخصیت کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ جان محمد منٹو کے ایام علالت میں ایک مخلص تیماردار کے روپ میں سامنے آیا اور پھر بے تکلفی سے منٹو کے گھر آنے لگا۔ لیکن دراصل وہ منٹو کے پڑوس کی لڑکی شمیم کے چکر میں آتا تھا۔ ایک دن شمیم اور جان محمد گھر سے فرار ہو جاتے ہیں، تب اس کی حقیقت پتا چلتی ہے۔

سنترپنچ

سعادت حسن منٹو

تانگے والے کا بھائی

سعادت حسن منٹو

روزہ خور کی سزا

چودھری محمد علی ردولوی

ایک ایسے شیخ صاحب کی کہانی ہے جن کا ہڈیوں کا کاروبار تھا۔ کچھ پرانی کتابوں کی وجہ سے ان کے کئی پڑھے لکھے لوگوں سے مراسم ہو گئے تھے۔ انھیں میں سے ایک نے شیخ صاحب کو بتایا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اس کی کوئی چیز آپ کے پاس رہن ہے، اگر آپ اسے دے دیں گے تو اسے کچھ سو روپوں کا فائدہ ہو جائیگا۔ شیخ نے اپنے دوست کی بات مان کر اس شخص کو بلا بھیجا، لیکن وہ شخص اکیلا نہیں آیا، اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص بھی تھا، جس نے سب کے سامنے شیخ صاحب کی حقیقت بیان کر دی۔