سب آ چکے ہیں جاننے والے سب آ چکے
مرتے ہوئے سے جھوٹ کوئی بولتا ہوا
جھوٹ کا ڈنکا بجتا تھا جس وقت جمیلؔ اس نگری میں
ہر رستے ہر موڑ پہ ہم نے سچ کے علم لہرائے ہیں
جھوٹ تھا جو بھی کیا تھا میں نے
اور جو تم نے کہا تھا کیا تھا
اک طرف لوگوں سے سچ کہنے کو بولا جا رہا ہے
اک طرف کچھ جھوٹوں کی محفل سجائی جا رہی ہے