ADVERTISEMENT

افسانے پرمیلو ڈرامہ

عورت ذات

سعادت حسن منٹو

’’ایک ایسے شخص کی کہانی جس کی گھوڑوں کی ریس کے دوران ایک مہاراجہ سے دوستی ہو جاتی ہے۔ مہاراجہ ایک دن اسے اپنے یہاں پروجیکٹر پر کچھ شہوت انگیز فلمیں دکھاتا ہے۔ ان فلموں کو مانگ کر وہ شخص اپنے گھر لے جاتا ہے اور اپنی بیوی کو دکھاتا ہے۔ اس سے اس کی بیوی ناراض ہو جاتی ہے۔ بیوی کی ناراضگی سے وہ بہت شرمندہ ہوتا ہے۔ اگلے دن جب وہ دوپہر کے کھانے کے بعد آفس سے گھر آتا ہے تواسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیوی اپنی بہنوں اور سہیلیوں کے ساتھ پروجیکٹر پر وہی فلمیں دیکھ رہی ہے۔‘‘

ایک خط

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ مصنف کی ذاتی زندگی کی کئی اہم ترین واقعات کو بیان کرتا ہے۔ ایک دوست کے خط کے جواب میں لکھے گئے اس خط میں مصنف نے اپنی ذاتی زندگی کے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ساتھ ہی اپنی اس ناکام محبت کا بھی ذکر کیا ہے جو اسے کشمیر قیام کے دوران وزیر نام کی لڑکی سے ہو گئی تھی۔

بانجھ

سعادت حسن منٹو

خود نوشت کے اسلوب میں لکھی گئی کہانی ہے۔ بمبئی کے اپولو بندر پر سیر کرتے ہوئے ایک دن اس شخص سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران ہی محبت پر گفتگو ہونے لگی ہے۔ آپ چاہے کسی سے بھی محبت کریں، محبت محبت ہی ہوتی ہے، وہ کسی بچے کی طرح پیدا ہوتی ہے اور حمل کی طرح ضائع بھی ہو جاتی ہے، یعنی قبل از پیدائش مر بھی سکتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جو چاہ کر بھی محبت نہیں کر پاتے ہیں اور شاید ایسے لوگ بانجھ ہوتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

ایکٹریس کی آنکھ

سعادت حسن منٹو

یہ نیم مزاحیہ افسانہ ہے۔ دیوی نام کی ایکٹریس جو خوبصورت تو نہیں ہے لیکن بہت پرکشش ہے۔ ایک مرتبہ وہ آنکھ میں غبار پڑ جانے کی وجہ سے ڈرامائی انداز میں چلاتی ہے۔ اس کی ہائے ہائے سے سیٹ پر موجود ہر شخص غبار نکالنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ ایک صاحب باہر سے آتے ہیں اور نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ افاقہ ہوتے ہی ایکٹریس تمام لوگوں کو نظر انداز کر کے سیٹھ کے پاس چلی جاتی ہے اور سب للچائی نظروں سے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ 

بدتمیزی

سعادت حسن منٹو

ازدواجی زندگی میں ہونے والی نوک جھونک پر مبنی یہ ایک مزاحیہ کہانی ہے۔ جس میں بیوی اپنے شوہر سے کافی دیر تک نوک جھونک کرنے کے بعد کہتی ہے کہ آپ پتلون کے بٹن بالکنی میں کھڑے ہو کر نہ بند کیا کریں، ہمسایوں کو سخت اعتراض ہے اور یہ بہت بڑی بد تمیزی ہے۔

ہارتا چلا گیا

سعادت حسن منٹو

ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے جیتنے سے زیادہ ہارنے میں مزہ آتا ہے۔ بینک کی نوکری چھوڑکر فلمی دنیا میں اس نے بے حساب دولت کمائی تھی۔ یہاں اس نے اتنی دولت کمائی کی وہ جس قدر خرچ کرتا اس سے زیادہ کما لیتا۔ ایک روز وہ جوا کھیلنے جا رہا تھا کہ اسے عمارت کے نیچے گاہکوں کو انتظار کرتی ایک ویشیا ملی۔ اس نے اسے دس روپیے روز دینے کا وعدہ کیا، تاکہ وہ اپنا جسم بیچنے کادھندا بند کر سکے۔ کچھ دنوں بعد اس شخص نے دیکھا کہ وہ ویشیا پھر کھڑکی پر بیٹھی گاہک کا انتظار کر رہی ہے۔ پوچھنے پر اس نے ایسا جواب دیا کہ وہ شخص لا جواب ہو کر خاموش ہو گیا۔

قادرا قصائی

سعادت حسن منٹو

اپنے زمانہ کی ایک خوبصورت اور مشہور طوائف کی کہانی۔ اس کے کوٹھے پر بہت سے لوگ آیا کرتے تھے اور سبھی اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ان میں ایک غریب شخص بھی اس سے محبت کا دعویٰ کرتا تھا۔ لیکن اس نے اس کی محبت کو ٹھکرا دیا۔ طوائف کے یہاں ایک بیٹی ہوئی۔ وہ بھی اپنی ماں کی طرح بہت خوبصورت تھی۔ جن دنوں اس کی بیٹی کی نتھ اترنے والی تھی انہیں دنوں ملک تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم کے فساد میں طوائف ماری گئی اور اس کی بیٹی پاکستان چلی گئی۔ یہاں بھی اس نے اپنا کوٹھا آبادکر لیا۔ جلد ہی اس کے کئی چاہنے والے نکل آئے۔ وہ جس شخص کو اپنا دل دے بیٹھی تھی وہ ایک قادرا قصائی تھا، جسے اس کی محبت کی ضرورت نہیں تھی۔

ADVERTISEMENT

خالد میاں

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنے بیٹے کی موت کے وہم میں ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ خالد میاں ایک بہت تندرست اور خوبصورت بچہ تھا۔ کچھ ہی دنوں میں وہ ایک سال کا ہونے والا تھا، اس کی سالگرہ سے دو دن قبل ہی اس کے باپ ممتاز کو یہ وہم ہونے لگا کہ خالد ایک سال کا ہونے سے پہلے ہی مر جائیگا۔ حالانکہ بچہ بالکل تندرست تھا اور ہنس کھیل رہا تھا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا تھا، ممتاز کا وہم اور بھی گہرا ہوتا جاتا تھا۔

چور

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک قرضدار شرابی شخص کی کہانی ہے۔ وہ شراب کے نشہ میں ہوتا ہے، جب اسے اپنے قرض اور ان کے وصول کرنے والوں کا خیال آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اسے اگر کہیں سے پیسے مل جایں تو وہ اپنا قرض اتار دے۔ حالانکہ ایک زمانہ میں وہ اعلیٰ قسم کا تکنیشین تھا اور اب وہ قرضدار تھا۔ جب قرض اتارنے کی اسے کوئی صورت نظر نہیں آئی تو اس نے چوری کرنے کی سوچی۔ چوری کے ارادے سے وہ دو گھروں میں گیا بھی، مگر وہاں بھی اس کے ساتھ کچھ ایسا حادثہ ہوا کہ وہ چاہ کر بھی چوری نہیں کر سکا۔ پھر ایک دن اسے ایک شخص پچاس ہزار روپیے دے گیا۔ ان روپیوں سے جب اس نے اپنے ایک قرضدار کو کچھ روپیے دینے چاہے تو تکیے کے نیچے سے روپیوں کا لفافہ غائب تھا۔‘‘

چغد

سعادت حسن منٹو

جنسی خواہش ایک حیوانی جبلت ہے اور اس کے لیے کسی اسکیم اور پلاننگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی بنیادی نکتہ پر بنی گئی اس کہانی میں ایک ایسے نوجوان کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو ایک پہاڑی دوشیزہ کو راغب کرنے کے لیے ہفتوں پلان بناتا رہتا ہے پھر بھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ایک لاری ڈرائیور چند منٹوں میں ہی اس لڑکی کو رام کرکے اپنی خواہش پوری کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

خوشیا

سعادت حسن منٹو

ایک شخص کی مردانگی کو چیلنج کرنے کی کہانی ہے۔ ایک طوائف جو اپنے دلال کو محض گاہک فراہم کرنے والا ایک بے ضرر پرزہ سمجھتی ہے اور اس کے سامنے عریاں رہنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتی وہی ایک دن جوش میں آکر دلال کے بجائے خود ہی گاہک بن بیٹھتا ہے۔

نیا سال

سعادت حسن منٹو

یہ زندگی سے جدوجہد کرتے ایک اخبار کے ایڈٹر کی کہانی ہے۔ حالانکہ اسے اس اخبار سے دولت مل رہی تھی اور نہ ہی شہرت۔ پھر بھی وہ اپنے کام سے خوش تھا۔ اس کے مخالف اس کے خلاف کیا کہتے ہیں؟ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ یا پھر دنیا اس کی راہ میں کتنی مشکلیں پیدا کر رہی ہے، اس سے اسے کوئی مطلب نہیں تھا۔ اسے تو بس مطلب ہے اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے سے۔ یہی کام وہ گزشتہ چار سال سے کرتا آ رہا تھا اور اب جب نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے تو وہ اس سے بھی مقابلے کے لیے تیار ہے۔

ADVERTISEMENT

بیمار

سعادت حسن منٹو

یہ ایک تجسس آمیز رومانی کہانی ہے جس میں ایک عورت مصنف کو مسلسل خط لکھ کر اس کے افسانوں کی تعریف کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بیماری کا ذکر بھی کرتی جاتی ہے جو مسلسل شدید ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دن وہ عورت مصنف کے گھر آ جاتی ہے۔ مصنف اس کے حسن پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور تبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی ہے جس سے ڈیڑھ برس پہلے اس نے نکاح کیا تھا۔

سجدہ

سعادت حسن منٹو

ایک بہت شرارتی اور زندہ دل شخص حمید کی کہانی ہے۔ حمید ایک ملنسار انسان تھا۔ اپنے دوستوں سے بڑی بے تکلفی سے ملا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے شرارت میں اپنے ایک مولانا دوست کو جن پلا دی۔ اپنی اس حرکت پر مولانا کا ردعمل دیکھ کر اسے سخت صدمہ پہنچا۔ اس نے خدا سے توبہ کی اور معافی کے لیے گلی کے فرش پر ہی سجدہ کر لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کا وہی مولانا دوست شراب کی کئی بوتلیں لے کر آیا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر پینے لگا۔ اس کا یہ رویہ دیکھ کر حمید کو بہت صدمہ پہنچا اور اسے اپنا وہ سجدہ فضول لگنے لگا۔

ADVERTISEMENT

میرا اور اس کا انتقام

سعادت حسن منٹو

یہ ایک شوخ، چنچل اور چلبلی لڑکی کی کہانی ہے، جو پورے محلے میں ہر کسی سے مذاق کرتی رہتی ہے۔ ایک دن جب وہ اپنی سہیلی بملا سے ملنے گئی تو وہاں بملا کے بھائی نے اس سے انتقام لینے کے لیے جھوٹ بول کر گھر میں بند کر لیا اور اس کے نم ہونٹوں کو چوم لیا۔ وہاں وہ شام تک بند رہی۔ کچھ دنوں بعد جب بملا کو موقع ملا تو وہ بھی اپنا انتقام لینے سے پیچھے نہیں رہی۔

تیسری جنس

چودھری محمد علی ردولوی

اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ایک غریب ماں باپ کی بیٹی کی کہانی جو ایک بہتر زندگی کی تلاش میں تھی۔ وہ تحصیلدار صاحب کے زیر سایہ پلی بڑھی تھی۔ جوانی کے ابتدائی ایام میں اس کی شادی ہوئی تو کچھ عرصہ شوہر کے ساتھ رہنے کے بعد اس نے اسے بھی چھوڑ دیا، پھر تحصیلدار صاحب کی موت ہو گئی ۔ بعد میں ایک مردوں جیسی قدوقامت کی عورت اس کے گھر میں رہنے لگی اور لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔

شہ نشین پر

سعادت حسن منٹو

’’محبت میں ناکام ہو جانے پر خودکشی کے لیے آمادہ ایک خوبصورت لڑکی کی کہانی ہے۔ اس کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں، جن میں ہر وقت آنسو تیرتے رہتے ہیں۔ جس لڑکے سے وہ محبت کرتی تھی، اس لڑکے نے اسے دھوکا دیا ہے۔ اس وجہ سے وہ خودکشی کرنا چاہتی ہے۔ اس کا ایک خیر خواہ اسے نہ صرف محبت کے معنی سمجھاتا ہے بلکہ زندہ رہنے کا جواز بھی بتاتا ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT