ADVERTISEMENT

افسانے پرناسٹلجیا

گزرے ہوئے دنوں کو یاد

کرکے چھا جانے والی اداسی کچھ میٹھی سی ہوتی ۔ اس کا ذائقہ تو آپ نے چکھا ہی ہوگا ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے جو ہم میں سے ہر شخص کے ماضی کی بازدید کرتا ہے اور گزرے ہوئے لمحوں کی یادوں کو زندہ کرتا ہے ۔

پت جھڑ کی آواز

قرۃ العین حیدر

یہ کہانی کے مرکزی کردار تنویر فاطمہ کی زندگی کے تجربات اور ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ تنویر فاطمہ ایک اچھے خاندان کی تعلیم یافتہ لڑکی ہے لیکن زندگی جینے کا فن اسے نہیں آتا۔ اس کی زندگی میں یکے بعد دیگرے تین مرد آتے ہیں۔ پہلا مرد خشوقت سنگھ ہےجو خود سے تنویر فاطمہ کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ دوسرا مرد فاروق، پہلے خشوقت سنگھ کے دوست کی حیثیت سے اس سے واقف ہوتا ہے اور پھر وہی اسکا سب کچھ بن جاتا ہے۔ اسی طرح تیسرا مرد وقار حسین ہے جو فاروق کا دوست بن کر آتا ہے اور تنویر فاطمہ کو ازدواجی زندگی کی زنجیروں میں جکڑ لیتا ہے۔ تنویر فاطمہ پوری کہانی میں صرف ایک بار اپنے مستقبل کے بارے میں خوشوقت سنگھ سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور یہ فیصلہ اس کے حق میں نہیں ہوتا کہ وہ اپنی زندگی میں آئے اس پہلے مرد خشوقت سنگھ کو کبھی بھول نہیں پاتی ہے۔

مائی نانکی

سعادت حسن منٹو

تقسیم ہند کے نتیجے میں پاکستان جانے والے مہاجروں کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ مائی نانکی ایک مشہور دایہ تھی جو پچیس لوگوں کا خرچ پورا کرتی تھی۔ ہزاروں کی مالیت کا زیور اور بھینس وغیرہ چھوڑ کر پاکستان آئی لیکن یہاں اس کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ تنگ آکر وہ یہ بددعا کرنے لگی کہ اللہ ایک بار پھر سب کو مہاجر کر دے تاکہ ان کو معلوم تو ہو کہ مہاجر کس کو کہتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

بابا مہنگا سنگھ

بلونت سنگھ

’’ایک ایسے شخص کی کہانی، جو کسی زمانہ میں بڑا خونخوار ڈاکو تھا اور اب گاؤں میں عام سی زندگی گزار رہا تھا۔ رات کو گاؤں کے نوجوان اس کے پاس جا بیٹھتے تھے اور وہ انہیں اپنی بیتی زندگی کے قصہ سنایا کرتا تھا۔ ایک روز اس نے ایسا قصہ سنایا جس میں ان کے سامنے عورت کی فطرت، اس کی بہادری اور چالاکی کا ایک ایسا پہلو پیش کیا جس سے وہ سبھی ابھی تک پوری طرح سے انجان تھے۔‘‘

آبشار

بلونت سنگھ

’’دو ایسے افراد کی کہانی ہے جو ایک ہی لڑکی سے باری باری محبت کرتے ہیں، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی اسے حاصل نہیں کر پاتا۔ وہ لڑکی ایک پٹھان کے ساتھ گھر سے بھاگ کر آئی تھی۔ پٹھان اسے جھرنے کے پاس بنے اس بنگلے میں ٹھہراتا ہے اور خود پیسوں کا انتظام کرنے چلا جاتا ہے۔ کئی ہفتے گزر جانے کے بعد بھی وہ لوٹ کر نہیں آتا۔ اسی درمیان وہاں کالج کا ایک نوجوان آتا ہے اور لڑکی اس میں دلچسپی لینے لگتی ہے وہ نوجوان بھی اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو لڑکی جھرنے میں کود کر جان دے دیتی ہے۔‘‘

برف باری سے پہلے

قرۃ العین حیدر

ایک ناکام محبت کی کہانی جو تقسیم سے پہلے مسوری میں شروع ہوئی تھی۔ اپنے دوست کے ساتھ سیر کرتے ہوئے جب اس نے اس لڑکی کو دیکھا تھا تو اسے دیکھتے ہی یہ احساس ہوا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جسکی اسے تلاش تھی۔ یہ محبت شروع ہوتی اس سے پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ گئی اور پھر ملک تقسیم ہو گیا اور سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا۔