ADVERTISEMENT

افسانے پرجانوروں سے انسیت

گلگت خان

سعادت حسن منٹو

یہ ہوٹل میں کام کرنے والے ایک بیحد بدصورت نوکر کی کہانی ہے۔ اس کی بدصورتی کی وجہ سے اس کا مالک اسے پسند کرتا ہے اور نہ ہی وہاں آنے والے گاہک۔ اپنی محنت اور اخلاق سے وہ سبھی کا عزیز بن جاتا ہے۔ اپنے اکیلے پن کو دور کرنے کے لیے وہ مالک کی ناپسندیدگی کے باوجود ایک کتے کا پلا پال لیتا ہے۔ بڑا ہونے پر کتے کو پیٹ کی کوئی بیماری ہو جاتی ہے، تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے گلگت خان چوری سے اپنے مالک کا بٹیر مارکر کتے کو کھلا دیتا ہے۔

ADVERTISEMENT

کبوتروں والا سائیں

سعادت حسن منٹو

افسانہ انسانی عقائد اور توہمات پر مبنی ہے۔ مائی جیواں کے نیم پاگل بیٹے کو صاحب کرامات سمجھنا، سندر جاٹ ڈاکو جس کا وجود تک مشکوک ہے اس سے گاؤں والوں کا خوف زدہ رہنا، نیتی کے غائب ہونے کو سندرجاٹ سے وابستہ کرنا ایسے مفروضے ہیں جن کی تصدیق کے کوئی دلائل نہیں۔

کتے کی دعا

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ ایک کتے کی اپنے مالک کے لیے وفاداری کی ایک انوکھی داستان بیان کرتا ہے۔ اس شخص نے اپنی اور اپنے کتےگولڈی کی کہانی سناتے ہوئے بیتی زندگی کے کئی واقعات کا ذکر کیا۔ ان واقعات میں ان دونوں کے آپسی تعلقات اور ایک دوسرے کے لیے لگاؤ کے بارے میں کئی نصیحت آمیز قصے تھے۔ مگر حقیقی کہانی تو یہ تھی کہ جب ایک بارکتے کا مالک بیمار پڑا تو کتے نے اس کے لیے ایسی دعا مانگی کہ مالک تو ٹھیک ہو گیا، لیکن کتا اپنی جان سے جاتا رہا۔

موسم کی شرارت

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے، جو کشمیر گھومنے گیا ہے۔ صبح کی سیر کے وقت وہ وہاں کے دلکش مناظر کو دیکھتا ہے اور اس میں کھویا ہوا چلتا چلا جاتا ہے۔ تبھی اسے کچھ بھینسوں، گایوں اور بکریوں کو لیے آتی ایک چرواہے کی لڑکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اسے اتنی خوبصورت نظر آتی ہے کہ اسے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ لڑکی بھی گھر جاتے ہوئے تین بار اسے مڑ کر دیکھتی ہے۔ کچھ دیر اس کے گھر کے پاس کھڑے رہنے کے دوران بارش ہونے لگتی ہے، اور جب تک وہ ڈاک بنگلے پر پہنچتا ہے تب تک وہ پوری طرح بھیگ جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

منزل

واجدہ تبسم

’’یہ ایسے بچے کی کہانی ہے جسے لگتا ہے کہ اس کے ماں باپ اس سے پیار نہیں کرتے۔ اس نے اپنے ماں باپ کا پیار حاصل کرنے کے لیے ان کی خدمتیں کی تھی۔ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بنٹایا تھا۔ کتا پالا تھا۔ آڑی ترچھی لکیریں کھینچی تھیں۔ بھائیوں سے دوستی کی، بلی پالی۔ مگر کوئی بھی اپنا نہ ہو سکا۔ مٹی کے کھلونوں میں جی لگانا چاہا وہ بھی دور ہو گئے۔ سب طرف سے مایوس ہوکر اس نے مرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر تبھی اس کی زندگی میں ایک لڑکی آئی اور سب کچھ بدل گیا۔‘‘

استاد شمو خاں

احمد علی

یہ کہانی استاد شمو خاں کی ہے۔ کسی زمانے میں وہ پہلوان ہوا کرتا تھا۔ پہلوانی سے اس نے کافی شہرت پائی اور اب زندگی کے باقی دن کبوتر بازی کا شوق پورا کرکے گزار رہا ہے۔ پاس ہی رہنے والے شیخ جی بھی کبوتر بازی کا شوق رکھتے تھے۔ کبوتر بازی کے مشترکہ شوق میں دونوں کے درمیان کس کس طرح کے داوں پینچ ہوتے ہیں، جاننے کے لیے یہ کہانی پڑھیں۔

ADVERTISEMENT

لاروے

راجندر سنگھ بیدی

عزیز الدین ایک غریب ملازم پیشہ شخص ہے۔ اپنے جھونپڑے کے باہر بنے گڑھے میں لارووں کو دیکھ کر اس کے ذہن میں قسم قسم کے خیالات آتے ہیں۔ ان لارووں کو زندہ رکھنے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ گڑھے میں گندہ پانی جمع رہے کیونکہ صاف پانی میں لاروے مر جاتے ہیں۔ اس کی بیوی عزیزہ کو مجسٹریٹ پریتم داس بطور خادمہ اپنے ساتھ کشمیر لے جاتے ہیں لیکن وہاں سے تار آتا ہے کہ عزیزہ کو پہاڑ کا تندرست پانی راس نہ آیا۔ وہ ڈائریا اور پیچش کی شکایت میں مبتلا ہو کر اچانک  مر گئی۔ عزیز الدین کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا، اے خدا تو اپنی بارش کو تھام لے۔

ڈالن والا

قرۃ العین حیدر

یہ کہانی بچپن کی یادوں کے سہارے اپنے گھر اور گھر کے وسیلے سے ایک پورے علاقے اور اس علاقے کے ذریعے سماج کے مختلف اشخاص کی زندگی کی چلتی پھرتی تصویریں پیش کرتی ہے۔ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے، علاحدہ عقائد اور ایمان رکھنے والے لوگ ہیں جو اپنے مسائل اور مراتب سے بندھے ہوئے ہیں۔