تخیل کا جادو اور مرزا غالب کا کلام
تخیل محض خیالات تک محدود نہیں بلکہ یہ الفاظ اور معلومات کو ایک نئی اور حیرت انگیز ترتیب دے کر پیش کرتا ہے، جس کی بہترین مثالیں مرزا غالب کے کلام میں ملتی ہیں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تخیل محض خیالات تک محدود نہیں بلکہ یہ الفاظ اور معلومات کو ایک نئی اور حیرت انگیز ترتیب دے کر پیش کرتا ہے، جس کی بہترین مثالیں مرزا غالب کے کلام میں ملتی ہیں۔
تخیل کی بلند پروازی کو عقل اور قوتِ ممیزہ کی لگام درکار ہوتی ہے، بصورتِ دیگر بے لگام تخیل شاعر کو مہمل گوئی اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اس مضمون میں میر تقی میر اور مرزا غالب کے شعری تخیل کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے، جس میں غالب کی 'تجریدیت' (Abstraction) اور میر کی 'تجسیم' (Concreteness) کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔