ADVERTISEMENT

افسانے پرطوائف

کالی شلوار

سعادت حسن منٹو

ایک پیشہ کرنے والی عورت سلطانہ کی روح کی الم ناکی اور اس کے باطن کے سناٹے کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلے خدا بخش اسے پیار کا جھناسا دے کر انبالہ سے دہلی لے کر آتا ہے اور اس کے بعد شنکر محض کالی شلوار کے عوض اس کے ساتھ جس قسم کا فریب کرتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرد کی نظر میں عورت کی حیثیت محض ایک کھلونے کی ہے۔ اس کے دکھ، درد اور اس کے عورت پن کی اسے کوئی پروا نہیں۔

ہتک

سعادت حسن منٹو

پیار کے دو بول کے لیے ترستی ہوئی ایک ایسی بے بس و بے سہارا طوائف کی کہانی ہے جو ذلت کی انتہا پر پہنچ کر خود آگہی سے دو چار ہوتی ہے۔ سوگندھی ایک پیشہ ور طوائف ہے، رات کے دو بجے جب ایک سیٹھ اسے ٹھکرا کر چلا جاتا ہے تو اس کے اندر کی عورت جاگتی ہے اور پھر ایک شدید قسم کی نفسیاتی کیفیت میں مبتلا ہو کر وہ پیار کا ڈھونگ رچانے والے مادھو لال کو بھی دھتکار کر بھگا دیتی ہے اور اپنے خارش زدہ کتے کو پہلو میں لٹا کر سو جاتی ہے۔

بارش

سعادت حسن منٹو

ایک نوجوان کے نامکمل عشق کی داستان ہے۔ تنویر اپنی کوٹھی سے بارش میں نہاتی ہوئی دو لڑکیوں کو دیکھتا ہے۔ ان میں سے ایک لڑکی پر فریفتہ ہو جاتا ہے۔ ایک دن وہ لڑکی اس سے لفٹ مانگتی ہے اور تنویر کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اپنی منزل مل گئی ہے لیکن بہت جلد اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کسبی ہے اور تنویر مغموم ہو جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

جھمکے

سعادت حسن منٹو

برمی لڑکی

سعادت حسن منٹو

انجام بخیر

سعادت حسن منٹو

تقسیم کے دوران ہوئے فسادات میں دہلی میں پھنسی ایک نوجوان طوائف کی کہانی ہے۔ فساد میں قتل ہونے سے بچنے کے لیے وہ پاکستان جانا چاہتی ہے، لیکن اسکی بوڑھی ماں دہلی چھوڑنا نہیں چاہتی۔ آخر میں وہ اپنے ایک پرانے استاد کے ساتھ خاموشی سے پاکستان چلی جاتی ہے۔ وہاں پہنچ کر وہ شرافت کی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ مگر جس عورت پر بھروسہ کرکے وہ اپنا نیا گھر آباد کرنا چاہتی تھی، وہی اس کا سودا کسی اور سے کر دیتی ہے۔ طوائف کو جب اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے گھنگھرو اٹھاکر واپس اپنے استاد کے پاس چلی جاتی ہے۔

جانکی

سعادت حسن منٹو

جانکی ایک زندہ اور متحرک کردار ہے جو پونہ سے ممبئی فلم میں کام کرنے آتی ہے۔ اس کے اندر مامتا اور خلوص کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہے۔ عزیز، سعید اور نرائن، جس شخص کے بھی قریب ہوتی ہے تو اس کے ساتھ جسمانی خلوص برتنے میں بھی کوئی تکلف محسوس نہیں کرتی۔ اس کی نفسیاتی پیچیدگیاں کچھ اس قسم کی ہیں کہ جس وقت وہ ایک شخص سے جسمانی رشتوں میں منسلک ہوتی ہے ٹھیک اسی وقت اسے دوسرے کی بیماری کا بھی خیال ستاتا رہتا ہے۔ جنسی میلانات کا تجزیہ کرتی ہوئی یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔

ADVERTISEMENT

ممد بھائی

سعادت حسن منٹو

ممد بھائی بمبئی میں اپنے علاقے کے لوگوں کے خیرخواہ ہیں۔ انھیں اپنے پورے علاقے کی خبر ہوتی ہے اور جہاں کوئی ضرورت مند ہوتا ہے، وہ اس کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ کسی عورت کے اکسانے پر ممد بھائی ایک شخص کا خون کر دیتا ہے۔ حالانکہ اس خون کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے پھر بھی اسے اپنی مونچھوں کی وجہ سے شناخت ہو جانے کا ڈر ہے۔ اسے صلاح دی جاتی ہے کہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے وہ اپنی مونچھیں صاف کرادے۔ ممد بھائی ایسا ہی کرتا ہے پھر بھی عدالت اسے قتل کرنے کے جرم میں سزا دیتی ہے۔

شاردا

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو طوائف کو طوائف کی طرح ہی رکھنا چاہتا ہے۔ جب کوئی طوائف اس کی بیوی بننے کی کوشش کرتی تو وہ اسے چھوڑ دیتا ۔ پہلے تو وہ شاردا کی چھوٹی بہن سے ملا تھا، پر جب اس کی شاردا سے ملاقات ہوئی تو وہ اسے بھول گیا۔ شاردا ایک بچہ کی ماں ہے اور دیکھنے میں قابل قبول ہے۔ بستر میں اسے شاردا میں ایسی لذت محسوس ہوتی ہے کہ وہ اسے کبھی بھول نہیں پاتا۔ شاردا اپنے گھر لوٹ جاتی ہے، تو وہ اسے دوبارہ بلا لیتا ہے۔ اس بار گھر آکر شاردا جب بیوی کی طرح اس کی دیکھ بھال کرنے لگتی ہے تو وہ اس سے اکتا جاتا ہے اور اسے واپس بھیج دیتا ہے۔‘‘

دس روپے

سعادت حسن منٹو

ایک ایسی کم سن لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے امڈتے ہوئے شباب سے بے خبر تھی۔ اس کی ماں اس سے پیشہ کراتی تھی اور وہ سمجھتی تھی کہ ہر لڑکی کو یہی کرنا ہوتا ہے۔ اسے دنیا دیکھنے اور کھلی فضاؤں میں اڑنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک دن جب وہ تین نوجوانوں کے ساتھ موٹر میں جاتی ہے اور اپنی مرضی کے مطابق خوب تفریح کر لیتی ہے تو اس کا دل خوشی سے اس قدر سرشار ہوتا ہے کہ وہ ان کے دیے ہوئے دس روپے لوٹا دیتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ روپے میں کس لیے لوں؟

سو کینڈل پاور کا بلب

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں انسان کی جبلی اور جذباتی پہلووں کو گرفت میں لیا گیا ہے جن کے تحت ان سے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ افسانے کی مرکزی کردار ایک طوائف ہے جسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کس کے ساتھ رات گزارنے جا رہی ہے اور اسے کتنا معاوضہ ملے گا بلکہ وہ دلال کے اشارے پر عمل کرنے اور کسی طرح کام ختم کرنے کے بعد اپنی نیند پوری کرنا چاہتی ہے۔ آخر کار تنگ آکر انجام کی پروا کیے بغیر وہ دلال کا خون کر دیتی ہے اور گہری نیند سو جاتی ہے۔

ADVERTISEMENT

قادرا قصائی

سعادت حسن منٹو

اپنے زمانہ کی ایک خوبصورت اور مشہور طوائف کی کہانی۔ اس کے کوٹھے پر بہت سے لوگ آیا کرتے تھے اور سبھی اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ان میں ایک غریب شخص بھی اس سے محبت کا دعویٰ کرتا تھا۔ لیکن اس نے اس کی محبت کو ٹھکرا دیا۔ طوائف کے یہاں ایک بیٹی ہوئی۔ وہ بھی اپنی ماں کی طرح بہت خوبصورت تھی۔ جن دنوں اس کی بیٹی کی نتھ اترنے والی تھی انہیں دنوں ملک تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم کے فساد میں طوائف ماری گئی اور اس کی بیٹی پاکستان چلی گئی۔ یہاں بھی اس نے اپنا کوٹھا آبادکر لیا۔ جلد ہی اس کے کئی چاہنے والے نکل آئے۔ وہ جس شخص کو اپنا دل دے بیٹھی تھی وہ ایک قادرا قصائی تھا، جسے اس کی محبت کی ضرورت نہیں تھی۔

پشاور سے لاہور تک

سعادت حسن منٹو

جاوید پشاور سے ہی ٹرین کے زنانہ ڈبے میں ایک عورت کو دیکھتا چلا آرہا تھا اور اس کے حسن پر نثار ہو رہا تھا۔ راولپنڈی  اسٹیشن کے بعد اس نے راہ و رسم پیدا کی اور پھر لاہور تک پہنچتے پہنچتے اس نے سیکڑوں قسم کے منصوبے ذہن میں ترتیب دے ڈالے۔ لیکن لاہور پہنچ کر جب اسے معلوم ہوا کہ وہ ایک طوائف ہے تو وہ الٹے پاؤں راولپنڈی واپس ہو گیا۔

ہارتا چلا گیا

سعادت حسن منٹو

ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے جیتنے سے زیادہ ہارنے میں مزہ آتا ہے۔ بینک کی نوکری چھوڑکر فلمی دنیا میں اس نے بے حساب دولت کمائی تھی۔ یہاں اس نے اتنی دولت کمائی کی وہ جس قدر خرچ کرتا اس سے زیادہ کما لیتا۔ ایک روز وہ جوا کھیلنے جا رہا تھا کہ اسے عمارت کے نیچے گاہکوں کو انتظار کرتی ایک ویشیا ملی۔ اس نے اسے دس روپیے روز دینے کا وعدہ کیا، تاکہ وہ اپنا جسم بیچنے کادھندا بند کر سکے۔ کچھ دنوں بعد اس شخص نے دیکھا کہ وہ ویشیا پھر کھڑکی پر بیٹھی گاہک کا انتظار کر رہی ہے۔ پوچھنے پر اس نے ایسا جواب دیا کہ وہ شخص لا جواب ہو کر خاموش ہو گیا۔

محمودہ

سعادت حسن منٹو

عورت اسلیے بری نہیں ہوتی کہ وہ بری ہے، بلکہ اس لیے بری ہوتی ہے کہ مرد اسے برا بنا دیتا ہے۔ بڑی بڑی آنکھوں والی محمودہ ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی تھی، اس کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی، لیکن اپنے شوہر کے ناکارہ پن کی وجہ سے وہ جسم بیچنے کے دھندے میں اتر گئی۔

ADVERTISEMENT

تائی ایسری

کرشن چندر

نطفہ

سعادت حسن منٹو

پڑھیے کلمہ

سعادت حسن منٹو

شانتی

سعادت حسن منٹو

اس کہانی کا موضوع ایک طوائف ہے۔ کالج کے دنوں میں وہ ایک نوجوان سے محبت کرتی تھی۔ جس کے ساتھ وہ گھر سے بھاگ آئی تھی۔ مگر اس نوجوان نے اسے دھوکہ دیا اور وہ دھندا کرنے لگی تھی۔ بمبئی میں ایک روز اس کے پاس ایک ایسا گراہک آتا ہے، جسے اس کے جسم سے زیادہ اس کی کہانی میں دلچسپی ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے شانتی کی کہانی آگے بڑھتی ہے وہ شخص اس میں ڈوبتا جاتا ہے اور آخر میں شانتی سے شادی کر لیتا ہے۔

ADVERTISEMENT

گھر میں بازار میں

راجندر سنگھ بیدی

کہانی سماج اور گھر میں عورت کے حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ شادی کے بعد عورت شوہر سے خرچ کے لیے پیسے مانگتے ہوئے شرماتی ہے۔ مائیکے میں تو ضرورت کے پیسے باپ کے کوٹ سے لے لیا کرتی تھی مگر سسرال میں شوہر کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے وہ خود کو بیسوا سی محسوس کرتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شوہر اپنی پسند کی چیزیں لاکر دیتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی بیسوا ہے۔ ایک روز اس کا شوہر اسے ایک بازارو عورت کے بارے میں بتاتا ہے تو وہ کہتی ہے گھر بھی تو ایک بازار ہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں شور زیادہ ہے اور یہاں کمَ۔

سراج

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسی نوجوان طوائف کی کہانی ہے، جو کسی بھی گراہک کو خود کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی۔ حالانکہ جب اس کا دلال اس کا سودا کسی سے کرتا ہے، تو وہ خوشی خوشی اس کے ساتھ چلی جاتی ہے، لیکن جیسے ہی گراہک اسے کہیں ہاتھ لگاتا ہے کہ اچانک اس سے جھگڑنے لگتی ہے۔ دلال اس کی اس حرکت سے بہت پریشان رہتا ہے، پر وہ اسے خود سے الگ بھی نہیں کر پاتا ہے، کیونکہ وہ اس سے محبت کرنے لگا ہے۔ ایک روز وہ دلال کے ساتھ لاہور چلی جاتی ہے۔ وہاں وہ اس نوجوان سے ملتی ہے، جو اسے گھر سے بھگا کر ایک سرائے میں تنہا چھوڑ گیا تھا۔‘‘

پری

سعادت حسن منٹو

ڈرپوک

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

خوشیا

سعادت حسن منٹو

ایک شخص کی مردانگی کو چیلنج کرنے کی کہانی ہے۔ ایک طوائف جو اپنے دلال کو محض گاہک فراہم کرنے والا ایک بے ضرر پرزہ سمجھتی ہے اور اس کے سامنے عریاں رہنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتی وہی ایک دن جوش میں آکر دلال کے بجائے خود ہی گاہک بن بیٹھتا ہے۔

شادی

سعادت حسن منٹو

حامد کا بچہ

سعادت حسن منٹو

حامد نام کے ایک ایسے شخص کی کہانی، جو موج مستی کے لیے ایک طوائف کے پاس جاتا رہتا ہے۔ جلدی ہی اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ طوائف اس سے حاملہ ہو گئی ہے۔ اس خبر کو سن کر حامد ڈر جاتا ہے۔ وہ طوائف کو اس کے گاؤں چھوڑ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ منصوبہ بناتا ہے کہ جیسے ہی بچہ پیدا ہوگا وہ اسے دفن کر دیگا۔ مگر بچہ کی پیدائش کے بعد جب وہ اسے دفن کرنے گیا تو اس نے ایک نظر بچہ کو دیکھا۔ بچہ کی شکل ہو بہو اس طوائف کے دلال سے ملتی تھی۔

موم بتی کے آنسو

سعادت حسن منٹو

یہ غربت کی زندگی گزارتی ایک ایسی ویشیا کی کہانی ہے جس کے گھر میں اندھیرا ہے۔ طاق میں رکھی موم بتی موم کے آنسو بہاتی ہوئی جل رہی ہے۔ اس کی چھوٹی بچی موتیوں کا ہار مانگتی ہے تو وہ فرش پر جمے موم کو دھاگے میں پرو کر مالا بناکر اس کے گلے میں پہنا دیتی ہے۔ رات میں اس کا گاہک آتا ہے۔ اس سے الگ ہونے پر وہ تھک جاتی ہے، تبھی اسے اپنی بچی کا خیال آتا ہے اور وہ اس کے چھوٹے پلنگ کے پاس جاکر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیتی ہے۔

ADVERTISEMENT

شکاری عورتیں

سعادت حسن منٹو

’’یہ افسانہ مردوں کے شکار پر نکلی عورتوں پر مبنی ہے۔ اس میں بمبئی اور لاہور کی ان عورتوں کے قصہ بیان کئے گئے ہیں، جو بنا کسی وجہ کے راہ چلتے مردوں کے ساتھ ہو لیتی ہیں۔ یہ عورتیں ان مردوں کے ساتھ اپنا وقت گزارتی ہیں، یا پھر ان سے پیسے اینٹھتی ہیں۔‘‘

سمے کا بندھن

ممتاز مفتی

ایک طوائف کی روحانی زندگی کے گرد گھومتی کہانی، جو کوٹھے پر مجرا کیا کرتی تھی۔ مگر ایک روز جب وہ ٹھاکر کے یہاں بیٹھک کے لیے گئی تو اس نے وہاں خواجہ پیا موری رنگ دے چنریا گیت گایا۔ اس گیت کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے اس کی پوری زندگی کو ہی بدل دیا۔ وہ بےقرار رہنے لگی۔ اس بیقراری سے نجات پانے کے لیے اس نے ٹھاکر سے شادی کر لی۔ مگر اس کے بعد بھی اسے سکون نہیں ملا اور وہ خود کی تلاش میں نکل گئی۔

دودا پہلوان

سعادت حسن منٹو

اس کہانی کا موضوع ایک نوکر کی اپنے مالک سے وفاداری ہے۔ صلاحو نے بچپن سے ہی دودے پہلوان کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ باپ کی موت کے بعد صلاحو کھل گیا تھا اور ہیرا منڈی کی طوایفوں کے کوٹھوں پر اپنی زندگی گزارنے لگا تھا۔ ایک طوایف کی بیٹی پر وہ اس قدر عاشق ہوا کہ اس کی ساری جایداد نیلام ہو گیی۔ گھر کو قرق ہونے سے بچانے کے لیے اسے بیس ہزار روپیوں کی ضرورت تھی، جو اسے کہیں سے نہ ملے۔ آخر میں دودے پہلوان ہی نے اپنی آن کو فروخت کر اس کے لیے پیسوں کا انتظام کیا۔

ADVERTISEMENT

مسز گل

سعادت حسن منٹو

ایک ایسی عورت کی زندگی پر مبنی کہانی ہے جسے لوگوں کو تل تل کر مارنے میں لطف آتا ہے۔ مسز گل ایک ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ اس کی تین شادیاں ہو چکی تھیں اور اب وہ چوتھی کی تیاریاں کر رہی تھی۔ اس کا ہونے والا شوہر ایک نوجوان تھا۔ لیکن اب وہ دن بہ دن پیلا پڑتا جا رہا تھا۔ اس کے یہاں کی نوکرانی بھی تھوڑا تھوڑا کرکے گھلتی جا رہی تھی۔ ان دونوں کے مرض سے جب پردہ اٹھا تو پتہ چلا کہ مسز گل انہیں ایک جان لیوا نشیلی دوا تھوڑا تھوڑا کرکے روز پلا رہی تھیں۔

مس مالا

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو فلموں میں چھوٹے موٹے رول کے لیے لڑکیاں مہیا کرانے کے ساتھ ساتھ انکی دلالی بھی کرتی ہے۔ عظیم نے اپنے دوست بھٹساوے کو ایک فلم میں کام دلوایا تو بھٹساوے نے اس کی دعوت کرنی چاہی۔ اس کے لیے اس نے مالا کی مدد لی، جس نے اس فلم کے لیے گانے والی لڑکیوں کا انتظام کیا تھا۔ پھر بھٹساوے کے کہنے پر اس نے عظیم کو ایک کمسن لڑکی بھی مہیا کرا دی تھی۔ لیکن جب بھٹساوے نے مالا کو اپنے ساتھ سونے کے لیے کہا تو اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ تو اسے اپنا بھائی سمجھتی ہے۔‘‘

سونورل

سعادت حسن منٹو

موچنا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کے چہرے اور جسم پر مردوں کی طرح بال اگ آتے تھے، جنھیں اکھاڑنے کے لیے وہ اپنے ساتھ ایک موچنا رکھا کرتی تھی۔ حالانکہ دیکھنے میں وہ کوئی زیادہ خوبصورت نہیں تھی پھر بھی اس میں کوئی تو ایسی بات تھی کہ جو مرد اسے دیکھتا اس پر عاشق ہو جاتا۔ اس طرح اس نے بہت سے مرد بدلے۔ جس مرد کے بھی پاس بھی وہ گئی اپنا موچنا ساتھ لیتی گئی۔ اگر کبھی وہ پرانے مرد کے پاس چھوٹ گیا تو اس نے خط لکھ کر اسے منگوا لیا۔ جب وہ ایک شاعر کو چھوڑ کر گئی تو اس نے اس کا موچنا دینے سے انکار کر دیا تاکہ رشتہ کی ایک وجہ تو بنی رہے۔

پہچان

سعادت حسن منٹو

تین دوست اپنے جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے کچھ دیر کے لیے ایک نفاست پسند لڑکی چاہتے ہیں۔ ایک تانگے والا ان کو مختلف قسم کی جگہوں پر لے جاتا ہے، ہر جگہ سے وہ بہانہ کرکے نکل لیتے ہیں۔ آخر میں وہ ان کو ایک کم سن، غریب اور بھدی سی لڑکی کے پاس لے جاتا ہے جہاں سے تینوں دوست اٹھ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ تانگے والا اپنا کرایہ وصول کرتے وقت ان سے کہتا ہے، بابو جی آپ کو کچھ پہچان نہیں۔۔۔ ایسی کراری لونڈیا تو شہر بھر میں نہیں ملے گی آپ کو۔

دور کا نشانہ

چودھری محمد علی ردولوی

افسانہ ایک ایسے منشی کی داستان کو بیان کرتا ہے جو اپنی ہر خواہشات کو بصد شوق پورا کرنے کا قائل ہے۔ اس کا کامیاب کاروبار ہے اور چوک جو کہ بازار حسن ہے، تک بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ایسے میں اس کی ملاقات ایک طوائف سے ہو جاتی ہے۔ ایک روز وہ طوائف کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک پولیس والے نے اس کے آدمی کے ساتھ مارپیٹ کرلی۔ طوائف چاہتی ہے کہ منشی باہر جائے اور وہ اس پولیس والے کو سبق سکھائے، لیکن منشی جی کی سرد مہری دیکھ کر وہ ان سے خفا ہو جاتی ہے۔

رد عمل

راجندر سنگھ بیدی

یہ ایک نصیحت آمیز کہانی ہے۔ جلال ایک لا ابالی اور عیش پسند طبیعت کا مالک ہے۔ اس کے چچا مرض الموت میں اسے نصیحت کرتے ہیں کہ باہر ایک اندھا جارہا ہے۔اس کے راستہ پر نشیب و فراز دونوں ہیں، مگر اسے چنداں فکر لازم نہیں، اس کے پاس لاٹھی ہے۔ چچا کی موت کے بعد جلال اس جملہ کے مخلتلف معانی نکالتا ہے اور پھر وہ لہو لعب  سے تائب ہو جاتا ہے۔

نکاح ثانی

سجاد حیدر یلدرم

’’ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے، جسے ایک خط کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ بیوفائی کر رہا ہے۔ خط کو پڑھنے کے بعد اسے وہ سب راتیں یاد آتی ہیں جب اس کا شوہر کسی نہ کسی بہانے سے رات کو گھر سے باہر چلا جاتا تھا۔ اس رات بھی جب اس کا شوہر گھر نہیں لوٹا تو وہ برقعہ اوڑھ کر اس کسبی کے گھر پہنچ جاتی ہے، جس کا پتہ اس خط میں لکھا تھا۔‘‘

خدا کے بندے

صدیق عالم

یہ انسانی قدروں اور ان کے تضادات کی کہانی ہے۔ مرلی نسکر کو پڑھنے کا شوق کولکاتا کھینچ لایا تھا۔ مگر اس کے پاس ہاسٹل کے اخراجات کے لئے پیسے تھے نہ کتاب اور کاپیوں کے لئے۔ شاید وہ بھی دوسرے لڑکوں کی طرح آوارہ گردی کرتے کرتے ایک پتلی کاپی تھامے بی اے پاس کرلیتا اور کہیں کلرک یا ٹیچر کا عہدہ سنبھال کر ایک بکواس اور بزدلانہ زندگی گذارتا۔ مگر سونا گاچھی کے دلال گرجا شنکر نے اسے سہارا دیا اور اس گھسی پٹی زندگی سے نجات دلائی۔ گرجا شنکر سے اس کی ملاقا ت لوکل ٹرین میں ہوئی تھی جہاں سے وہ اسے اپنے ساتھ سونا گاچھی لے آیا اور مہندی لکشمی کے کمرے میں اسکا ٹھکانہ طے کردیا۔