aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تشنگی پر تصویری شاعری

کلاسیکی شاعری میں تشنگی

کا لفظ میخانے اورساقی کےموضوع سے وابستہ ہے۔ شراب پینے والے کے مقدرمیں ازلی تشنگی ہے وہ جتنی شراب پیتا ہے اتنی ہی طلب اورتشنگی بڑھتی جاتی ہے ۔ یہ شراب جوتشنگی بڑھاتی ہے معشوق کی آنکھوں کا استعارہ بھی ہے ۔ تشنگی اورپیاس کا لفظ جدید شاعری میں کربلا کے سیاق میں کثرت سے برتا گیا ہےاوراس موضوع میں بہت سی نئی جہتوں کا اضافہ ہوا ہے ۔

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی (ردیف .. ن)

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی (ردیف .. ن)

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقی

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے