اداسی پر اشعار

تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا


شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ

دیکھتے ہیں بے نیازانہ گزر سکتے نہیں


کتنے جیتے اس لیے ہوں گے کہ مر سکتے نہیں

اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے


کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا

تم مٹا سکتے نہیں دل سے مرا نام کبھی


پھر کتابوں سے مٹانے کی ضرورت کیا ہے

موضوع