اداسی پر اشعار

تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

اب تو کچھ بھی یاد نہیں ہے


ہم نے تم کو چاہا ہوگا

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا


جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے


کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا

تم مٹا سکتے نہیں دل سے مرا نام کبھی


پھر کتابوں سے مٹانے کی ضرورت کیا ہے

اس نے پوچھا تھا کیا حال ہے


اور میں سوچتا رہ گیا

موضوع