ADVERTISEMENT

افسانے پرجنسیت

ٹھنڈا گوشت

سعادت حسن منٹو

بے حس ہو چکے معاشرے میں بھی انسانیت کی رمق باقی رہتی ہے۔ ٹھنڈا گوشت ایک مرد کے جنسی جذبات سرد ہو جانے یا نفسیاتی طور پر نامرد ہو جانے کی کہانی ہے۔ فسادات میں لوٹ مار، عصمت دری، قتل و غارت گری میں پیش پیش رہنے والا ایشر سنگھ جب ایک لڑکی پر ہاتھ صاف کرنے کے ارادے سے اسے اٹھا کر لاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ مر چکی ہے۔ اس شدید صدمے سے وہ اپنی مردانگی کھو بیٹھتا ہے۔ لڑکی کو وہیں چھوڑ کر وہ ہوٹل میں اپنی داشتہ کلونت کے پاس جاتا ہے۔ کلونت کے لاکھ کوشش کے باوجود وہ خود کو جنسی طور پر تیار نہیں کر پاتا۔ جب وہ کلونت کو اپنے جنسی جذبات سرد ہوجانے کی کہانی سناتا ہے تو کلونت آگ بگولہ ہوجاتی ہے اور اسے خنجر گھونپ دیتی ہے۔

بو

سعادت حسن منٹو

یہ ایک گھاٹن لڑکی کے جسم سے پیدا ہونے والی بو کی کہانی ہے۔ رندھیر سنگھ ایک وجیہ اور خوبصورت نوجوان عورتوں کے معاملے میں منجھا ہوا کھلاڑی ہے لیکن اسے جو لذت گھاٹن لڑکی کے جسم سے محسوس ہوتی ہے وہ اس نے آج تک کسی اور عورت میں محسوس نہیں کی تھی۔ رندھیر کو پسینے بو سے سخت نفرت ہے پھر بھی وہ اس گھاٹن لڑکی کے جسم کی بو کو اپنی رگ رگ میں بسالینے کے لیے تڑپتا رہتا ہے۔

دو قومیں

سعادت حسن منٹو

’’یہ کہانی مذہب اور محبت دونوں نکتوں پر یکساں طور پر بحث کرتی نظر آتی ہے۔ مختار اور شاردا دونوں ایک دوسرے کو بے پناہ محبت کرتے ہیں مگر جب شادی کی بات آتی ہے تو دونوں اپنے اپنے مذہب پر بضد ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ان کی محبت تو پیچھے رہ جاتی ہے اور مذہب ان پر حاوی ہو جاتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے راستے واپس چلے جاتے ہیں۔‘‘

برمی لڑکی

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

جانکی

سعادت حسن منٹو

جانکی ایک زندہ اور متحرک کردار ہے جو پونہ سے ممبئی فلم میں کام کرنے آتی ہے۔ اس کے اندر مامتا اور خلوص کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہے۔ عزیز، سعید اور نرائن، جس شخص کے بھی قریب ہوتی ہے تو اس کے ساتھ جسمانی خلوص برتنے میں بھی کوئی تکلف محسوس نہیں کرتی۔ اس کی نفسیاتی پیچیدگیاں کچھ اس قسم کی ہیں کہ جس وقت وہ ایک شخص سے جسمانی رشتوں میں منسلک ہوتی ہے ٹھیک اسی وقت اسے دوسرے کی بیماری کا بھی خیال ستاتا رہتا ہے۔ جنسی میلانات کا تجزیہ کرتی ہوئی یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔

شاردا

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو طوائف کو طوائف کی طرح ہی رکھنا چاہتا ہے۔ جب کوئی طوائف اس کی بیوی بننے کی کوشش کرتی تو وہ اسے چھوڑ دیتا ۔ پہلے تو وہ شاردا کی چھوٹی بہن سے ملا تھا، پر جب اس کی شاردا سے ملاقات ہوئی تو وہ اسے بھول گیا۔ شاردا ایک بچہ کی ماں ہے اور دیکھنے میں قابل قبول ہے۔ بستر میں اسے شاردا میں ایسی لذت محسوس ہوتی ہے کہ وہ اسے کبھی بھول نہیں پاتا۔ شاردا اپنے گھر لوٹ جاتی ہے، تو وہ اسے دوبارہ بلا لیتا ہے۔ اس بار گھر آکر شاردا جب بیوی کی طرح اس کی دیکھ بھال کرنے لگتی ہے تو وہ اس سے اکتا جاتا ہے اور اسے واپس بھیج دیتا ہے۔‘‘

سو کینڈل پاور کا بلب

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں انسان کی جبلی اور جذباتی پہلووں کو گرفت میں لیا گیا ہے جن کے تحت ان سے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ افسانے کی مرکزی کردار ایک طوائف ہے جسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کس کے ساتھ رات گزارنے جا رہی ہے اور اسے کتنا معاوضہ ملے گا بلکہ وہ دلال کے اشارے پر عمل کرنے اور کسی طرح کام ختم کرنے کے بعد اپنی نیند پوری کرنا چاہتی ہے۔ آخر کار تنگ آکر انجام کی پروا کیے بغیر وہ دلال کا خون کر دیتی ہے اور گہری نیند سو جاتی ہے۔

شیرو

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

نطفہ

سعادت حسن منٹو

شو شو

سعادت حسن منٹو

باردہ شمالی

سعادت حسن منٹو

پھندنے

سعادت حسن منٹو

افسانے کا موضوع جنس اور تشدد ہے۔ افسانے میں بیک وقت انسان اور جانور دونوں کو بطور کردار پیش کیا گیا ہے۔ جنسی عمل سے برآمد ہونے والے نتائج کو تسلیم نہ کر پانے کی صورت میں بلی کے بچے، کتے کے بچے، ڈھلتی عمر کی عورتیں، جن میں جنسی کشش باقی نہیں وہ سب کے سب موت کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

نیند نہیں آتی

سجاد ظہیر

’’ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو غریبی، بے بسی، بھٹکاؤ اور نیم خوابیدگی کے شعور کا شکار ہے۔ وہ اپنی معاشی اور معاشرتی حالت سدھارنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے مگر کامیاب نہیں ہو پاتا۔ رات میں چارپائی پر لیٹے ہوئے مچھروں کی بھنبھناہٹ اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سنتا ہوا وہ اپنی بیتی زندگی کے کئی واقعات یاد کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس نے اس زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کتنی جد و جہد کی ہے۔‘‘

حامد کا بچہ

سعادت حسن منٹو

حامد نام کے ایک ایسے شخص کی کہانی، جو موج مستی کے لیے ایک طوائف کے پاس جاتا رہتا ہے۔ جلدی ہی اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ طوائف اس سے حاملہ ہو گئی ہے۔ اس خبر کو سن کر حامد ڈر جاتا ہے۔ وہ طوائف کو اس کے گاؤں چھوڑ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ منصوبہ بناتا ہے کہ جیسے ہی بچہ پیدا ہوگا وہ اسے دفن کر دیگا۔ مگر بچہ کی پیدائش کے بعد جب وہ اسے دفن کرنے گیا تو اس نے ایک نظر بچہ کو دیکھا۔ بچہ کی شکل ہو بہو اس طوائف کے دلال سے ملتی تھی۔

شادی

سعادت حسن منٹو

کتاب کا خلاصہ

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

مصری کی ڈلی

سعادت حسن منٹو

ملبے کا ڈھیر

سعادت حسن منٹو

چپ

ممتاز مفتی

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے اپنے سے دوگنی عمر کی عورت سے محبت ہو جاتی ہے۔ وہ اس کے عشق میں اس قدر دیوانہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بنا ایک پل بھی رہ نہیں پاتا۔ رات ڈھلے جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کر دیتی ہے۔ پھر جب اس کی شوہر سے طلاق ہو جاتی ہے تو وہ اپنی ماں کے خلاف جاکر اس سے شادی کر لیتا ہے۔ مگر شادی کے بعد وہ اس میں پہلی والی لزت محسوس نہیں کر پاتا۔ بعد میں وہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے اور دوسرے مرد سے شادی کر لیتی ہے۔

پرانی شراب نئی بوتل

ممتاز مفتی

’’یہ ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو ماڈرن خیالات کی ہے۔ اس کے کئی افیئر رہے ہیں۔ مگر کچھ عرصہ چلنے کے بعد سب ٹوٹ گئے ہیں، کیونکہ وہ محبت کو وعدوں، ارادوں سے زیادہ جسمانی طورپر توجہ دیتی ہے۔ ایم جی کے ساتھ اسکا افیئر بھی اسی وجہ سے ٹوٹا تھا، جس کے ساتھ بعد میں اس کی سہیلی سفو نے شادی کر لی تھی۔‘‘

ADVERTISEMENT