ADVERTISEMENT

افسانے پرسماجی معمولات

آم

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسےبوڑھے پنشن یافتہ منشی کی کہانی ہے جو اپنی پنشن کے سہارے اپنے خاندان کی پرورش کر رہا ہے۔ اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے اس کی امیر لوگوں سے بھی جان پہچان ہے۔ لیکن ان امیروں میں دو لوگ ایسے بھی ہیں جو اسے بہت عزیز ہیں۔ ان کے لیے وہ ہر سال آم کے موسم میں اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف آم کے ٹوکرے بھجواتا ہے۔ مگر اس بار کی گرمی اتنی بھیانک تھی کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور اس کی موت ہو گئی۔ اس کے مرنے کی اطلاع جب ان دونوں امیرزادوں کو دی گئی تو دونوں نے ضروری کام کا بہانہ کر کے اس کے گھر آنے سے انکار کر دیا۔‘‘

ایکٹریس کی آنکھ

سعادت حسن منٹو

یہ نیم مزاحیہ افسانہ ہے۔ دیوی نام کی ایکٹریس جو خوبصورت تو نہیں ہے لیکن بہت پرکشش ہے۔ ایک مرتبہ وہ آنکھ میں غبار پڑ جانے کی وجہ سے ڈرامائی انداز میں چلاتی ہے۔ اس کی ہائے ہائے سے سیٹ پر موجود ہر شخص غبار نکالنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ ایک صاحب باہر سے آتے ہیں اور نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ افاقہ ہوتے ہی ایکٹریس تمام لوگوں کو نظر انداز کر کے سیٹھ کے پاس چلی جاتی ہے اور سب للچائی نظروں سے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ 

بھنگن

سعادت حسن منٹو

’’ایک غلط فہمی کی بنا پر میاں بیوی کے درمیان ہوئی نوک جھونک پر مبنی افسانہ۔ وہ جب رات کو بیوی کے پاس جاتا ہے تو بیوی ناراضگی سے اسے اپنے سے دور کر دیتی ہے۔ وہ اسے منانے کی کوشش کرتا ہے، پر وہ لگاتار اس سے ناراض رہتی ہے۔ آخر میں جب وہ پوچھتی ہے کہ اس نے صبح بھنگن کو اپنی بانہوں میں کیوں لیا تھا تو شوہر نے بتایا کہ وہ حاملہ تھی اور بیہوش ہو کر گرنے والی تھی۔ اس نے تو بس اسے گرنے سے بچانے کے لیے سنبھال لیا تھا۔ بیوی یہ سن کر خوش ہو گئی۔‘‘

پانچ دن

سعادت حسن منٹو

بنگال کے قحط کی ماری ہوئی سکینہ کی زبانی ایک بیمار پروفیسر کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جس نے اپنے کریکٹر کو بلند کرنے کے نام پر اپنی فطری خواہشوں کو دبائے رکھا۔ سکینہ بھوک سے بیتاب ہو کر ایک دن جب اس کے گھر میں داخل ہو جاتی ہے تو پروفیسر کہتا ہے کہ تم اسی گھر میں رہ جاؤ کیونکہ میں دس برس تک اسکول میں لڑکیاں پڑھاتا رہا اس لیے انہیں بچیوں کی طرح تم بھی ایک بچی ہو۔ لیکن مرنے سے پانچ دن پہلے وہ اعتراف کرتا ہے کہ اس نے ہمیشہ سکینہ سمیت ان تمام لڑکیوں کو جنہیں اس نے پڑھایا ہے، ہمیشہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا ہے۔

ADVERTISEMENT

ابجی ڈ ڈو

سعادت حسن منٹو

’’یہ میاں بیوی کے درمیان رات میں جسمانی تعلقات کو لے کر ہونے والی نوک جھونک پر مبنی کہانی ہے۔ میاں بیوی کے ساتھ سونا چاہتا ہے، جبکہ بیوی اسے مسلسل انکار کرتی رہتی ہے۔ اس کے انکار کو اقرار میں بدلنے کے لیے میاں اسے ہر طرح کی ترغیب دیتا ہے، پر وہ مانتی نہیں۔ آخر میں وہ اپنا آخری داؤں چلتا ہے اور اسی میں بیوی کو پست کر دیتا ہے۔‘‘

چوری

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسےبوڑھے بابا کی کہانی ہے جو الاؤ کے گرد بیٹھ کر بچوں کو اپنی زندگی سے وابستہ کہانی سناتا ہے۔ کہانی اس وقت کی ہے جب اسے جاسوسی ناول پڑھنے کا دیوانگی کی حد تک شوق تھا اور اس شوق کو پورا کرنےکے لیے اس نے کتابوں کی ایک دکان سے اپنی پسند کی ایک کتاب چرا لی تھی۔ اس چوری نے اس کی زندگی کو کچھ اس طرح بدلا کہ وہ ساری عمر کے لیے چور بن گیا۔

لال ٹین

سعادت حسن منٹو

اس افسانے میں مصنف نے اپنے کشمیر دورے کے کچھ یادگار لمحوں کا ذکر کیا ہے۔ حالانکہ مصنف کو یقین ہے کہ وہ ایک اچھا قصہ گو نہیں ہے اور نہ ہی اپنی یادوں کو ٹھیک سے بیان کر سکتا ہے۔ پھر بھی بٹوت (کشمیر) میں گزارے ہوئے اپنے ان لمحوں کو وہ بیان کئے بغیر نہیں رہ پاتا، جن میں اس کی وزیر نام کی لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے سبب وہ اپنے دوستوں میں کافی بدنام بھی ہوا تھا۔ وزیر ایسی لڑکی تھی کہ جب مصنف اپنے دوست کے ساتھ رات کو ٹہلنے نکلتا تھا تو سڑک کے کنارے انہیں راستہ دکھانے کے لیے لالٹین لیکر کھڑی ہو جاتی تھی۔

قادرا قصائی

سعادت حسن منٹو

اپنے زمانہ کی ایک خوبصورت اور مشہور طوائف کی کہانی۔ اس کے کوٹھے پر بہت سے لوگ آیا کرتے تھے اور سبھی اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ان میں ایک غریب شخص بھی اس سے محبت کا دعویٰ کرتا تھا۔ لیکن اس نے اس کی محبت کو ٹھکرا دیا۔ طوائف کے یہاں ایک بیٹی ہوئی۔ وہ بھی اپنی ماں کی طرح بہت خوبصورت تھی۔ جن دنوں اس کی بیٹی کی نتھ اترنے والی تھی انہیں دنوں ملک تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم کے فساد میں طوائف ماری گئی اور اس کی بیٹی پاکستان چلی گئی۔ یہاں بھی اس نے اپنا کوٹھا آبادکر لیا۔ جلد ہی اس کے کئی چاہنے والے نکل آئے۔ وہ جس شخص کو اپنا دل دے بیٹھی تھی وہ ایک قادرا قصائی تھا، جسے اس کی محبت کی ضرورت نہیں تھی۔

ADVERTISEMENT

ہارتا چلا گیا

سعادت حسن منٹو

ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے جیتنے سے زیادہ ہارنے میں مزہ آتا ہے۔ بینک کی نوکری چھوڑکر فلمی دنیا میں اس نے بے حساب دولت کمائی تھی۔ یہاں اس نے اتنی دولت کمائی کی وہ جس قدر خرچ کرتا اس سے زیادہ کما لیتا۔ ایک روز وہ جوا کھیلنے جا رہا تھا کہ اسے عمارت کے نیچے گاہکوں کو انتظار کرتی ایک ویشیا ملی۔ اس نے اسے دس روپیے روز دینے کا وعدہ کیا، تاکہ وہ اپنا جسم بیچنے کادھندا بند کر سکے۔ کچھ دنوں بعد اس شخص نے دیکھا کہ وہ ویشیا پھر کھڑکی پر بیٹھی گاہک کا انتظار کر رہی ہے۔ پوچھنے پر اس نے ایسا جواب دیا کہ وہ شخص لا جواب ہو کر خاموش ہو گیا۔

گلگت خان

سعادت حسن منٹو

یہ ہوٹل میں کام کرنے والے ایک بیحد بدصورت نوکر کی کہانی ہے۔ اس کی بدصورتی کی وجہ سے اس کا مالک اسے پسند کرتا ہے اور نہ ہی وہاں آنے والے گاہک۔ اپنی محنت اور اخلاق سے وہ سبھی کا عزیز بن جاتا ہے۔ اپنے اکیلے پن کو دور کرنے کے لیے وہ مالک کی ناپسندیدگی کے باوجود ایک کتے کا پلا پال لیتا ہے۔ بڑا ہونے پر کتے کو پیٹ کی کوئی بیماری ہو جاتی ہے، تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے گلگت خان چوری سے اپنے مالک کا بٹیر مارکر کتے کو کھلا دیتا ہے۔

نطفہ

سعادت حسن منٹو

یہ پری چہرہ لوگ

غلام عباس

ہر انسان اپنے مزاج اور کردار سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ سخت مزاج بیگم بلقیس طراب علی ایک دن مالی سے بغیچے کی صفائی کرا رہی تھیں کہ وہ مہترانی اور اس کی بیٹی کی بات چیت سن لیتی ہیں۔ بات چیت میں ماں بیٹی بیگموں کے اصل نام نہ لے کر انھیں مختلف ناموں سے بلاتی ہیں۔ یہ سن کر بلقیس بانو ان دونوں کو اپنے پاس بلاتی ہیں۔ وہ ان ناموں کے اصلی نام پوچھتی ہیں اور جاننا چاہتی ہیں کہ انھوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ مہترانی ان کے سامنے تو منع کر دیتی ہے لیکن اس نے بیگم بلقیس کا جو نام رکھا ہوتا ہے،وہ اپنے شوپر کے سامنے لے دیتی ہے۔

ADVERTISEMENT

شو شو

سعادت حسن منٹو

خودکشی

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کے یہاں شادی کے بعد بیٹی پیدا ہوتی ہے۔ لاکھ کوششوں کے بعد بھی وہ اس بچی کا کوئی اچھا سا نام نہیں سوچ پاتا ہے۔ نام کی تلاش کے لیے وہ ڈکشنری خریدتا ہے، جب تک ڈکشنری لیکر وہ گھر پہنچتا ہے تب تک بیٹی کی موت ہو چکی ہوتی ہے۔ بیٹی کے موت کے غم میں کچھ ہی دنوں بعد اس کی بیوی کی بھی موت ہو جاتی ہے۔ زندگی کے دیے، ان صدموں سے تنگ آکر وہ خودکشی کرنے کی سوچتا ہے۔ اس غرض سے وہ ریلوے لائن پر جاتا ہے مگر وہاں پہلے سے ہی ایک دوسرا شخص لائن پر لیٹا ہوتا ہے۔ سامنے سے آ رہی ٹرین کو دیکھ کر وہ اس شخص کو بچا لیتا ہے اور اس سے ایسی باتیں کہتا ہے کہ ان باتوں سے اس کی خود کی زندگی پوری طرح بدل جاتی ہے۔

افشائے راز

سعادت حسن منٹو

’’یہ افسانہ میاں بیوی کے درمیان پنجابی زبان کے ایک گیت کو لیکر ہوئے نوک جھونک پر مبنی ہے۔ میاں ایک روز نہاتے ہوئے پنجابی کا کوئی گیت گانے لگا تو بیوی نے اسے ٹوک دیا، کیونکہ اسے پنجابی زبان سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اس پر شوہر نے اسے کئی طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر بات نہیں بنی۔ تبھی نوکر ڈاک لیکر آ گیا۔ بیوی نے شوہر کی اجازت کے بغیر ڈاک کھولی تو وہ ایک خاتون کا خط تھا، جس میں اسی گیت کی کچھ سطریں لکھی ہوئی تھیں، جو اس کا شوہر کچھ دیر پہلے گنگنا رہا تھا۔‘‘

نکی

سعادت حسن منٹو

’’یہ افسانہ ایک ایسی عورت کی داستان بیان کرتا ہے جس کا شوہر ہر وقت اسے مارا پیٹا کرتا تھا۔ بالآخر شوہر نے ایک طوائف کے کہنے پر اسے طلاق دے دی۔ شوہر کی مار اور ذلیل و خوار ہونےکے بعد اس عورت میں جو غصہ اور نفرت جمع ہو گئی تھی وہ نئے محلے میں آکر باہر آنے لگی۔ وہ بات بات پر پڑوسیوں سے الجھنے لگی، ان سے لڑنے لگی تھی۔ اب اس عورت نے لڑنے جھگڑنے کو ہی اپنا پیشہ بنا لیا اور اپنے لڑنے کی فیس طے کر دی۔ جھگڑنا اس کے مزاج کا ایسا حصہ بن گیا کہ اسے دورے پڑنے لگے اور پڑوسیوں کو گالی بکتے ہوئے ہی اس کی موت ہوگئی۔‘‘

ADVERTISEMENT

شادی

سعادت حسن منٹو

شراب

سعادت حسن منٹو

حامد کا بچہ

سعادت حسن منٹو

حامد نام کے ایک ایسے شخص کی کہانی، جو موج مستی کے لیے ایک طوائف کے پاس جاتا رہتا ہے۔ جلدی ہی اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ طوائف اس سے حاملہ ہو گئی ہے۔ اس خبر کو سن کر حامد ڈر جاتا ہے۔ وہ طوائف کو اس کے گاؤں چھوڑ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ منصوبہ بناتا ہے کہ جیسے ہی بچہ پیدا ہوگا وہ اسے دفن کر دیگا۔ مگر بچہ کی پیدائش کے بعد جب وہ اسے دفن کرنے گیا تو اس نے ایک نظر بچہ کو دیکھا۔ بچہ کی شکل ہو بہو اس طوائف کے دلال سے ملتی تھی۔

مجید کا ماضی

سعادت حسن منٹو

’’عیش وآرام کی زندگی بسر کرتے ہوئے اپنے ماضی کو یاد کرنے والے ایک ایسے دولت مند شخص کی کہانی ہے جس کے پاس کوٹھی ہے، اچھی تنخواہ ہے، بیوی بچے ہیں اور ہر طرح کی عیش و عشرت ہے۔ ان سب کے درمیان اس کا سکون نہ جانے کہاں کھو گیا ہے۔ وہ سکون جو اسے یہ سب حاصل ہونے سے پہلے تھا، جب اس کی تنخواہ کم تھی، بیوی بچے نہیں تھے، کاروبار تھا اور نہ ہی دوسرے مسایل۔ وہ سکون سے تھوڑا کماتا تھا اور چین و سکون کی زندگی بسر کرتا تھا۔ اب سارے عیش و آرام کے بعد بھی اسے وہ سکون نصیب نہیں ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

خورشٹ

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ معاشرہ کے ایک نازک پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ سردار زور آور سنگھ، ساوک کاپڑیا کا لنگوٹیا یار ہے۔ اپنا اکثر وقت اس کے گھر پہ گزارتا ہے۔ دوست ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی خورشید سے بھی بے تکلفی ہے۔ سردار ہر وقت خورشید کی آواز کی تعریف کرتا ہے اور اس کے لیے مناسب اسٹوڈیو کی تلاش میں رہتا ہے۔ اپنے ان حربوں کے ذریعہ وہ خورشید کو رام کر کے اس سے شادی کر لیتا ہے۔

نواب سلیم اللہ خان

سعادت حسن منٹو

سبز سینڈل

سعادت حسن منٹو

سودا بیچنے والی

سعادت حسن منٹو

جمیل اور سہیل نام کے دو دوستوں کی کہانی۔ جمیل کو ایک پارٹی میں جمیلہ نام کی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ سہیل کو جمیلہ پسند نہیں آتی، پر وہ اپنے دوست کی خوشی کی خاطر مان جاتا ہے۔ ادھر جمیلہ کی بڑی بہن حمیدہ بھی جمیل سے محبت کرتی ہے۔ ایک روز جمیل جمیلہ کو اس کے گھر سے بھگا کر سہیل کے یہاں چھوڑ جاتا ہے۔ اس کے پیچھے سہیل جمیلہ سے شادی کر لیتا ہے۔ وہاں سے مایوس ہونے پر جمیل حمیدہ سے شادی کر لیتا ہے۔ ایک روز جب وہ ایک پارک میں جمیلہ کو دیکھتا ہے تو وہ اسے کوئی سودا بیچنے والی کی طرح نظر آتی ہے۔

ADVERTISEMENT

رحمت خداوندی کے پھول

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے شرابی شخص کی کہانی ہے جو جتنا بڑا شرابی ہے، اتنا ہی بڑا کنجوس بھی ہے۔ وہ دوستوں کے ساتھ شراب پینے سے بچتا ہے، کیونکہ اس سے اسے زیادہ روپیے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ وہ گھر پر بھی نہیں پی سکتا، کیونکہ اس سے بیوی کے ناراض ہو جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس مشکل کا حل وہ کچھ اس طرح نکالتا ہے کہ پیٹ کے درد کا بہانہ کرکے دوائی کی بوتل میں شراب لے آتا ہے اور بیوی سے ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک خوراک دینے کے لیے کہتا ہے۔ اس سے اس کی یہ مشکل تو آسان ہو جاتی ہے۔ مگر ایک دوسری مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک روز اس کی بیوی پیٹ کے درد کی وجہ سے اسی بوتل سے تین پیگ پی لیتی ہے۔

گرم سوٹ

سعادت حسن منٹو

تین میں نہ تیرہ میں

سعادت حسن منٹو

افسانہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی نوک جھونک پر مبنی ہے۔ بیوی اپنے شوہر سے ناراض ہے اور اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے محاوروں کا استعمال کرتی ہے۔ شوہر اس کے ہر محاورے کا جواب دیتا ہے اور وہ دونوں جھگڑتے ہوئے عورت مرد کے تعلقات، شادی اور خانگی امور کے بارے میں بڑی دلچسپ گفتگو کرتے جاتے ہیں۔

وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ دس مختصر خطوط کا مجموعہ ہے جو الگ الگ افراد کو طنزیہ اور نیم مزاحیہ پیرائے میں لکھے گئے ہیں۔ کاتب جو ایک عورت ہے اپنے مکتوب الیہ کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

ADVERTISEMENT

خوشبو دار تیل

سعادت حسن منٹو

ٹیڑھی لکیر

سعادت حسن منٹو

ایک آزادی پسند، اذیت پسند، صاف گو اور ڈگر سے ہٹ کر کچھ انوکھا کرنے کی دھن رکھنے والے شخص کی کہانی ہے جو اپنی انفرادیت پسندی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک رات اپنی منکوحہ بیوی کو ہی سسرال سے بھگا لے جاتا ہے۔

سونے کی انگوٹھی

سعادت حسن منٹو

میاں بیوی کی نوک جھونک پر مبنی مزاحیہ افسانہ ہے جس میں بیوی شوہر کو بڑے بالوں کی وجہ سے لعنت ملامت کرتی ہے۔ جب شوہر سیلون جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو کہتی ہے اگر پیسے ہوں تو ذرا ایک سونے کی انگوٹھی لے آئیے گا، مجھے ایک سہیلی کی سال گرہ میں جانا ہے۔

ADVERTISEMENT

تانگے والے کا بھائی

سعادت حسن منٹو

خاں صاحب

محمد مجیب

’’کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے، جو بہت دین دار ہے۔ مگر اتنا کنجوس ہے کہ اس کی بیوی بیٹی بہت مفلسی میں گزارا کرتی ہیں۔ اس کی بیوی بیٹی کو اچھی پرورش کے لیے ایک عورت کے پاس چھوڑ دیتی ہے، تو بدلے میں وہ اس عورت سے پیسے بھی مانگتا ہے۔ عورت پیسے تو نہیں دیتی، ہاں ایک پڑھے لکھے لڑکے سے اس کا رشتہ طے کر دیتی ہے۔ مگر کم مہر اور نقد نہ ملنے کی وجہ سے وہ دھوکے سے اپنی بیٹی کی شادی ایک امیر اور ادھیڑ عمر کے شخص سے کرا دیتا ہے۔‘‘

نیا مکان

محمد مجیب

’’کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو بیوی بچوں کی موت کے بعد دنیا کو ترک کر دیتا ہے اور محض عبادت گزاری کے لیے نیا مکان بنوانا شروع کر دیتا ہے۔ مکان کی تعمیر کو دیکھنے کے لیے وہ ہر روز وہاں جاتا ہے۔ ایک دن اسے وہاں ایک نوجوان عورت مزدور دکھائی دیتی ہے اور وہ اس کی مسکراہٹ پر فدا ہو جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اس کے ساتھ شادی کرنے اور نئے مکان میں بس جانے کے بارے میں بھی سوچنے لگتا ہے۔ مگر ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت ایک دوسرے شخص کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘

ایں دفتر بے معنی۔۔۔

قرۃ العین حیدر

شادی

احمد علی

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کی تربیت مغربی تہذیب میں ہوئی ہے۔ اس نے مغربی ادب کا مطالعہ کیا ہے اور وہاں کے سماج میں پوری طرح رچ بس گیا ہے۔ اپنے ملک لوٹنے پر والدین اس کی شادی کے لیے کہتے ہیں مگر وہ بغیر ملے، دیکھے کسی ایسی لڑکی سے شادی کے لیے راضی نہیں ہوتا جسے وہ جانتا تک نہیں۔ گھر والوں کے اصرار پر وہ شادی کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔ شادی ہونے کے بعد وہ ایک اجنبی لڑکی جو اب اس کی بیوی ہے کے پاس جانے سے کتراتا ہے۔ ایک رات تنہا لیٹے ہوئے اسے کسی ناول کے کچھ حصے یاد آتے ہیں اور وہ اپنی بیوی کی چاہت میں تڑپ اٹھتا ہے اور اس کے پاس چلا جاتا ہے۔

بن بست

نیر مسعود

افسانہ میں دو زمانے اور دو الگ طرح کے رویوں کا تصادم نظر آتا ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار اپنے بے فکری کے زمانے کا ذکر کرتا ہے جب شہر کا ماحول پر سکون تھا دن نکلنے سے لے کر شام ڈھلنے تک وہ شہر میں گھومتا پھرتا تھا لیکن ایک زمانہ ایسا آیا کہ خوف کے سایے منڈلانے لگے فسادات ہونے لگے۔ ایک دن وہ بلوائیوں سے جان بچا کر بھاگتا ہوا ایک تنگ گلی کے تنگ مکان میں داخل ہوتا ہے تو اسے وہ مکان پراسرار اور اس میں موجود عورت خوف زدہ معلوم ہوتی ہے اس کے باوجود اس کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے لیکن یہ اس کے خوف کی پروا کیے بغیر دروازہ کھول کر واپس لوٹ آتا ہے۔

وہ طریقہ تو بتا دو تمہیں چاہیں کیونکر؟

حجاب امتیاز علی

یہ نوجوان محبت کی داستان ہے۔ ایک نوجوان ایک لڑکی سے بے ہناہ محبت کرتا ہے لیکن لڑکی اس کے اظہار محبت کے ہر طریقے کو دقیانوسی، پرانا اور بور کہتی رہتی ہے۔ پھر یکبارگی جب نوجوان اسے دھمکی دیتا ہوا اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے تو لڑکی مان جاتی ہے کہ اس میں محبت کا اظہار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

مہمان داری

حجاب امتیاز علی

یہ ایک جاسوسی قسم کی کہانی ہے۔ دو لڑکیاں ایک پروفیسر کے ساتھ سمندر کے کھنڈر کی سیاحت کے لیے رات کا سفر طے کر دوسرے شہر جاتے ہیں۔ اس شہر میں ان کا قیام ایک مادام کے گھر میں ہوتا ہے لیکن جب اس مادام کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے تو حالات دوسرا ہی رخ اختیار کر لیتے ہیں۔