ADVERTISEMENT

اشعار پرتاج محل

تاج محل کو دنیا بھر

میں محبت کی ایک زندہ علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ساری دنیا کے عاشقوں کے دل اس عمارت سے محبت کے اسی رشتے سے جڑے ہیں ۔ آپ کے دل میں بھی اس عمارت کو دیکھ کر یا اس کے بارے میں سن کر ایک گرمی سی پیدا ہوجاتی ہو گی۔ لیکن شاعری میں تاج محل اور محبت کی یہ کہانی ایک اور ہی رنگ میں نظر آتی ہے ۔ اس کہانی کا یہ نیا رنگ آپ کو حیران کر دے گا ۔

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

ساحر لدھیانوی

ایک کمی تھی تاج محل میں

میں نے تری تصویر لگا دی

کیف بھوپالی

تم سے ملتی جلتی میں آواز کہاں سے لاؤں گا

تاج محل بن جائے اگر ممتاز کہاں سے لاؤں گا

ساغرؔ اعظمی

اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل

ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے

شکیل بدایونی
ADVERTISEMENT

کتنے ہاتھوں نے تراشے یہ حسیں تاج محل

جھانکتے ہیں در و دیوار سے کیا کیا چہرے

جمیل ملک