زندگی کی روداد
توقیت اقبال
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
توقیت اقبال
9 November
سیالکوٹ، پنجاب میں اقبال کی ولادت
2 September
ٹرینٹی کالج سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لاہور سے کوچ
12 September
اسرار خودی کی اشاعت۔ یہ فارسی میں اقبال کا پہلا مجموعہ تھا۔
حکموت برطانیہ کی جانب سے سر کا خطاب
بانگ درا کی اشاعت
21 April
60 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال
اقبال کی شخصیت کے چند پہلو
اقبال کی شخصیت کے چند پہلو
علامہ اقبال کثیراللسان تھے، متعدد زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انہیں فارسی، عربی، اردو، انگریزی اور جرمن زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اپنی اسی لسانی استعداد کے سبب وہ مختلف ادبی اور تہذیبی روایات سے متاثر ہوئے ، جس سے ان کی شاعری اور فلسفیانہ کاموں کو متنوع ثقافتی اثرات کے ساتھ تقویت ملی۔
اقبال کی شاعری روحانیت اور خود شناسی کے گہرے احساس سے گونجتی ہے۔ انہیں ’شاعرِ مشرق‘ کہا جاتا ہے، ان کی تخلیقات انسانی صلاحیت، خود شناسی، اور روحانی سفر کے موضوعات کو تلاش کرتی ہے۔
اقبال نہ صرف شاعر تھے بلکہ ایک ممتاز فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کے لیکچرز کا مجموعہ، 'اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو'، مذہب کے فکری اور فلسفیانہ پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔ انہوں نے اسلام کی ایک ایسی متحرک تشریح کی وکالت کی جو مسلمانوں کو اپنی بنیادی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق ڈھالنے کے قابل بنائے۔
علامہ اقبال مصلح اور تعلیم و ترقی کے حامی تھے۔ انہوں نےایسی تعلیمی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جو افراد کو تنقیدی سوچ اور اپنی برادریوں میں اپنے نظریے کو پیش کرنے کااختیار دیں۔ اقبال کی جدید تعلیمی نظام کی وکالت نے تعلیمی پالیسیوں اور اداروں کی تشکیل میں دیرپا اثر چھوڑاہے ۔
علامہ اقبال پر ریختہ کی خاص ویڈیو پیش کش
اقبال پر یہ دلچسپ مضامین پڑھیں اور ان کی تخلیقی فکر کو سمجھیں
اقبال پر یہ دلچسپ مضامین پڑھیں اور ان کی تخلیقی فکر کو سمجھیں
انیسویں صدی کے آتے آتے ہم لوگوں میں یہ خیال عام ہوا کہ غزل میں موعظانہ اور اخلاقی مضامین کے لیے جگہ نہیں۔ اقبال ہماری قدیم تر روایت سے آگاہ تھے، اس لیے انھیں ایسے مضامین کو باندھنے میں کوئی تکلف نہ تھا۔ غزل میں ’’غیرفاسقانہ‘‘ مضامین کی قدر شکنی کا آغاز حسرت موہانی سے ہوتا ہے۔ حسرت موہانی نے اقبال پر اعتراض کیے تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔ لیکن متفرق اشعار کی بنا پر غزل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے میں وہی قباحت ہے جس کی طرف میں اوپر اشارہ کر چکاہوں۔ اکیلا شعر چاہے وہ کتنا ہی خراب، یا کتنا ہی انوکھا کیوں نہ ہو، پوری غزل نہیں ہوتا۔
اور پڑھیںاسمتھ کا خیال یہ ہے کہ اقبال فرد کے متعلق تو اچھی طرح سوچ لیتے ہیں لیکن اجتماعی مسائل کے سمجھنے میں ان سے لغزش ہوئی ہے اور وہ اقتصادیات اور عمرانیات سے اچھی طرح واقف نہیں۔ ان کے یہاں جابجا ایسی چیزیں ملتی ہیں جن سے فسطائیت کی طرف میلان ٹپکتا ہے، گو وہ فاشسٹ نہیں ہیں۔ ان کی نصب العینیت انہیں زندگی کے حقائق سمجھنے نہیں دیتی۔ ان کا فلسفہ نطشےؔ اور برگساںؔ کا اسلامی ایڈیشن ہے۔
اور پڑھیںیادوں کے جھروکے سے...
عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' اور 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق