آج کے منتخب ۵ شعر

پچھلے برس بھی بوئی تھیں لفظوں کی کھیتیاں

اب کے برس بھی اس کے سوا کچھ نہیں کیا

اقبال ساجد

دن رات پڑا رہتا ہوں دروازے پہ اپنے

اس غم میں کہ کوئی کبھی آتا تھا ادھر سے

برق دہلوی
  • شیئر کیجیے

کچھ ہو رہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز

آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر

میر تقی میر

اے جلوۂ جانانہ پھر ایسی جھلک دکھلا

حسرت بھی رہے باقی ارماں بھی نکل جائے

فنا نظامی کانپوری

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت

بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی

نصیر ترابی
آج کا لفظ

بزم

  • bazm
  • बज़्म

معنی

assembly/meeting

آؤ ہم ہنستے اٹھیں بزم دل آزاراں سے

کون احساس کو بیمار بنا کر اٹھے

لغت

Quiz A collection of interesting questions related to Urdu poetry, prose and literary history. Play Rekhta Quiz and check your knowledge about Urdu!

Who amongst these poets named his collection of poetry "image"?
Start Today’s Quiz
app bg1 app bg2

Rekhta App : World’s largest collection of Urdu poetry

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جوش ملیح ابادی (1982۔ 1898) شاعر شباب اور شاعر انقلاب کہلاتے تھے ۔ کچھ عرصے وہ پونا اور بمبئی میں فلمی دنیا سے بھی منسلک رہے۔ فلم ’’من کی جیت‘‘ اور کچھ اور فلموں کے گانے بھی لکھے، لیکن موسیقاوروں کی بنائی ہوئ دھنوں پر انھیں گیت لکھنا گوارا نہیں تھا، اس لئے بمبئ کی  فلمی دنیا انھیں راس نہ آئی۔
جوش اپنی حاضر جوابی، شوخی اور بے باکی کے لئے بھی  مشہور تھے۔ بہت سے لطیفے ان سے منسوب ہیں۔
 بمبئی میں جوشؔ صاحب ایک ایسے مکان میں ٹھہرے تھے، جس میں اوپر کی منزل پر ایک اداکارہ رہتی تھیں، مکان کچھ اس طرح بنا ہوا تھا کہ جوش کو ان کا دیدار نہیں ہوسکتا تھا، لہذا انہوں نے یہ رباعی لکھی

میرے کمرے کی چھت پہ ہے اس بت کا مکان
جلوے کا نہیں ہے پھر بھی کوئی امکان
گویا اے جوشؔ میں ہوں ایسا مزدور
جو بھوک میں ہو سر پہ اٹھائے ہوئے خوان

کیا آپ کو معلوم ہے؟

دتا

برج موہن دتا تریہ کیفی دہلوی (1866_1955)، جو عاشق اردو کہلاتے تھے، قادرُ الکلام شاعر، ڈراما نویس، ناول نگار اور انشا پرداز تھے۔ انھوں نے شروع میں اپنے کلام پر نہ صرف مولانا الطاف حسین حالی سے اصلاح لی تھی، بلکہ اپنی تحریروں میں ان کے خیالات کی پیروی بھی کرتے تھے ۔ دتاتریہ کیفی نے مشہور مسدس حالی (مد وجزرِاسلام) کے طرز پر"بھارت درپن" نام سے ایک مسدس بھی لکھی تھی جو "مسدس کیفی" کہلاتی ہے ۔ یہ مسدس آریہ ہندوؤں کی گذشتہ عظمت موجودہ حالت اور آئندہ ترقی پر ایک دلچسپ نظم ہے۔ 
اس مسدس کا ایک شعر ہے : 
گھٹا کفر اور جہل کی سر سے سرکی
کُھلیں برہم ودیا سے آنکھیں بشر کی

دتاتریہ کیفی بڑے عالم فاضل شخص تھے۔ اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر تو عبور رکھتے ہی تھے، سنسکرت اور ہندی میں بھی خاصی استعداد تھی۔
اردو کی پہلی قواعد کی کتاب "دریائے لطافت" جو فارسی زبان میں 1808  میں لکھی گئ تھی اس کا اردو ترجمہ بھی پنڈت برجموہن دتاتریہ کیفی نے کیا تھا۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

پروین

پروین شاکر (1952 .1994 ) اپنی مختصر سی عمر میں شہرت اور مقبولیت کی معراج کو پہنچیں۔ 1976 میں جب ان کا پہلا مجموعۂ کلام 'خوشبو' چھپ کر آیا، جس کا سرورق مشہور فنکار صادقین صاحب نے بنایا تھا، اس کو دیکھ کر فیض احمد فیض  نے مسکرا کر کہا تھا: ''میں نے تو عمر بھر میں اتنی نظمیں کہیں ہیں''۔ صادقین صاحب نے جواب دیا ''پروین شاکر زیادہ کہتی ہیں مگر اچھا کہتی ہیں"۔ 'خوشبو' کا پہلا ایڈیشن چھ مہینے میں ہی بک گیا۔ اس کے بعد ان کی کئ اور کتابیں شائع ہوئیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پروین شاکر، اردو شاعری کی دلنواز اور محبوب شخصیت، عام طور پر کسی محفل میں ہوتیں، گھر میں ہوتیں تو اپنے پاؤں سے جوتے اتار دیا کرتی تھیں۔ عام طور پر گاڑی بھی ننگے پاؤں چلایا کرتیں تھیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

مومن

مومن خاں مومن (1800.1852)، وہی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے  شعر 
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا  
پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی۔
مومن غزلیں تو کمال کی کہتے ہی تھے، علم نجوم میں بھی انھیں بڑی مہارت حاصل تھی۔ اکثر حساب لگا کر کوئی بات بتاتے تھے اور وہ عموماً پوری ہوتی تھی۔ تاریخ گوئی میں بھی مومن کو کمال حاصل تھا۔ نت نئے انداز کی تاریخیں کہتے تھے۔ اپنی موت سے چند مہینے پہلے مومن گھر کی چھت سے گر پڑے، ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئے۔ انھوں نے اس حادثہ کی تاریخ  کہی اور پیشن گوئی کی کہ میں  پانچ مہینے بعد مرجاؤں گا۔ اور وہی ہوا، اس حادثے کی تاریخ آخر کار موت کی تاریخ بھی ثابت ہوئی جو ان کے مزار پر کندہ ہے۔
مومن نے کئی عشق کئے، ان کی غزلیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کسی خیالی نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی محبوبہ کے عشق میں گرفتار ہے۔  غزلوں کے علاوہ انھوں نے 12مثنویاں بھی لکھیں جن میں سے 6 کا موضوع خود ان ہی کا عشق ہے۔ سولہ سال کی عمر میں پہلی مثنوی "شکایت ستم" لکھی تھی جو ان کے ایک عشق کی ہی داستان تھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

فیض

عالمی شہرت یافتہ شاعر، فیض احمد فیض کی شادی 1941 میں، برطانوی شہری ایلس جارج سے سری نگر میں ہوئی تھی اور اِن کا نکاح شیخ محمد عبد اللہ نے پڑھایا تھا۔ ان دونوں نے مہاراجا ہری سنگھ کے"پری محل" میں ہنی مون منایا تھا۔ ایلس کا نام کلثوم رکھا گیا تھا، لیکن وہ ایلس فیض ہی کہلاتی تھیں۔ نکاح کے ساتھ ایک معاہدہ بھی ہوا تھا جس میں لکھا گیا تھا:   
"ایلس کو خلع لینے کا حق تھا اور ایلس کے زندہ رہتے ہوئے فیض کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ایلس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری فیض کی تھی۔ جبکہ ایلس کی کمائی پر صرف ایلس کا حق تھا۔" 
دونوں کی ازدواجی زندگی بہت کامیاب رہی ۔ ایلس خود بھی سماجی کارکن تھیں، انھوں نے نو عمری میں ہی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ راول پنڈی سازش کیس کے الزام میں 1951 سے 1955 تک  فیض جیل میں رہے۔ اس مشکل دور میں ایلس نے اپنی دونوں بچیوں کی دیکھ بھال اور مالی اخراجات کی ذمہ داری نبھائ۔ اس دوران فیض اور ایلس کے درمیان انگریزی میں جو خط و کتابت ہوئی وہ کتاب کی شکل میں، اردو میں "صلیبیں مرے دریچے میں" کے عنوان سے اور بعد میں انگلش میں  "Dear heart " نام سے شائع ہوئی۔

آج کی پیش کش

قبول پاکستانی سیریل ہمسفر کے ٹائٹل گیت اور غزل "وہ ہمسفر تھا مگر۔۔۔۔۔۔ کے مشہور شاعر

ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا

دل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا

پوری غزل دیکھیں

ریختہ بلاگ

پسندیدہ ویڈیو
This video is playing from YouTube
video

ناصر کاظمی

ناصر کاظمی کی شاعری

ویڈیو شیئر کیجیے

ای-کتابیں

اقبال دلہن

بشیر الدین احمد دہلوی 

1908 اخلاقی کہانی

کلیات انور شعور

انور شعور 

2015 کلیات

مغل تہذیب

محبوب اللہ مجیب 

1965

اودھوت کا ترانہ

 

1958 نظم

شمارہ نمبر۔002

ڈاکٹر محمد حسن 

1970 عصری ادب

مزید ای- کتابیں