علم عروض

اردو شاعری کے نظامِ آہنگ کے اصول

علم عروض وہ خاص علم ہے جس سے شعر کا وزن اوراس کا موزوں یا نا موزوں ہونا معلوم کیا جاتا ہے۔ علم عروض کے تحت اشعار کے مختلف وزن مقرر کئے گئے ہیں جن میں ہر وزن کو بحر کہا جاتا ہے۔ ہر بحر چند خاص لفظوں یا ارکان سے تشکیل پاتی ہے جن کی مدد سے شعر کو ناپا تولا جا سکتا ہے۔ کسی شعر کا وزن معلوم کرنے کے لیے اس کے ارکان میں تقسیم کرنے کو’ تقطیع ‘کرنا کہتےہیں۔

This video is playing from YouTube

تعارف

04:12   سبق 1

سیکشن سے ویڈیو
علم عروض
سبق 1

سبق 1 تعارف

سبق 2

سبق 2 آہنگ کی میزان عروض ہے

سبق 3

سبق 3 عروضی ارکان

سبق 4

سبق 4 بحر ہزج

سبق 5

سبق 5 بحر رجز

سبق 6

سبق 6 بحر رمل

سبق 7

سبق 7 بحر کامل

سبق 8

سبق 8 بحر وافر

سبق 9

سبق 9 بحر متقارب

سبق 10

سبق 10 بحر متدارک

سبق 11

سبق 11 بحر مضارع

سبق 12

سبق 12 بحر مجتث

سبق 13

سبق 13 بحر منسرح

سبق 14

سبق 14 بحر مقتضب

سبق 15

سبق 15 بحر سریع

سبق 16

سبق 16 بحر خفیف

سبق 17

سبق 17 بحر قریب

سبق 18

سبق 18 بحر جدید

سبق 19

سبق 19 بحر مشاکل

سبق 20

سبق 20 بحر طویل

سبق 21

سبق 21 بحر مدید

سبق 22

سبق 22 بحر بسیط

سبق 23

سبق 23 قافیہ اور ردیف

سبق 24

سبق 24 تقطیع

سبق 25

سبق 25 شعر گوئی

ترتیب

موضوع

دورانیہ

سبق 1 تعارف 04:12
سبق 2 آہنگ کی میزان عروض ہے 21:27
سبق 3 عروضی ارکان 35:25
سبق 4 بحر ہزج 42:32
سبق 5 بحر رجز 22:24
سبق 6 بحر رمل 43:56
سبق 7 بحر کامل 11:38
سبق 8 بحر وافر 11:03
سبق 9 بحر متقارب 31:21
سبق 10 بحر متدارک 26:48
سبق 11 بحر مضارع 38:30
سبق 12 بحر مجتث 21:09
سبق 13 بحر منسرح 14:40
سبق 14 بحر مقتضب 12:43
سبق 15 بحر سریع 20:48
سبق 16 بحر خفیف 17:23
سبق 17 بحر قریب 17:03
سبق 18 بحر جدید 04:51
سبق 19 بحر مشاکل 06:59
سبق 20 بحر طویل 19:40
سبق 21 بحر مدید 09:36
سبق 22 بحر بسیط 07:09
سبق 23 قافیہ اور ردیف 31:16
سبق 24 تقطیع 39:42
سبق 25 شعر گوئی 28:50

Added to your favorites

Removed form your favorites