غزل کی علامتوں میں بغاوت: حسرت موہانی کا سیاسی تغزل
حسرت موہانی نے غزل کی روایتی عشقیہ علامتوں اور رمز و ایما کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی سامراج کے خلاف اپنے باغیانہ اور سیاسی جذبات کا نہایت خوبصورتی سے اظہار کیا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں
چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ
مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے
آرزو تیری برقرار رہے
دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا
حسرت موہانی نے غزل کی روایتی عشقیہ علامتوں اور رمز و ایما کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی سامراج کے خلاف اپنے باغیانہ اور سیاسی جذبات کا نہایت خوبصورتی سے اظہار کیا۔
ترقی پسند شعرا بالخصوص مجروح سلطان پوری اور فیض احمد فیض کو غزل میں سیاسی مضامین لانے کا بانی سمجھا جاتا ہے، لیکن تاریخی حقائق اس کا سہرا حسرت موہانی کے سر باندھتے ہیں۔