Filter : Date

Section:

کیا آپ کو معلوم ہے؟

مہاجر

”مہاجر نامہ“ منور رانا کی طویل ترین مسلسل غزل ہے جس کی تخلیق حادثاتی طور پر ہوئی۔ ۲۰۰۸ میں منور رانا عالمی مشاعرے کی غرض سے کراچی تشریف لے گئے، مائک پر اپنا نام پکارے جانے سے پہلے وہ خلوت میں سگریٹ پینے لگے، وہیں ایک صاحب نے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ پرسوں حیدرآباد سندھ کا مشاعرہ ہے آپ کو اس میں تشریف لانا ہے، منور رانا نے صحت کی خرابی کا عذر پیش کرتے ہوئے شرکت سے انکار کر دیا، وہ صاحب بضد رہے، اچانک کہنے لگے، رانا صاحب آج سادات امروہہ کے مشاعرے میں آپ کو جتنا نذرانہ مل رہا ہے، حیدرآباد سندھ میں آپ کو دگنا نذرانہ پیش کیا جایے گا۔ اس کاروباری گفتگو سے منور رانا بہت دل برداشتہ ہوئے اور واپس اسٹیج پر تشریف لائے، سوچ میں گم ۱۹۴۷ کی ایک نمایاں تصویر ان کے سامنے کھڑی ہو کر منہ چڑانے لگی۔ تبھی اسٹیج پر بیٹھے بیٹھے بر وقت کچھ اشعار منظوم ہو گئے، وہ مائک پر تشریف لائے، سامعین کے سامنے کچھ دیر پہلے گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کیا، سامعین کی بھرپور حمایت کے بعد ”مہاجر نامہ“ کا مطلع پڑھا:
مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں

خیال رہے کہ ”مہاجر نامہ“ میں ۴۹۴ اشعار ہیں، جب یہ مجموعہ کتابی شکل میں چھپ کر شائع ہوا تو اس کو کافی پزیرائی ملی۔