Filter : Date

Section:

کیا آپ کو معلوم ہے؟

حاجی

انیس سو چالیس اور پچاس کی دہائ میں 
حاجی لق لق اردو کے مزاحیہ ادب اور صحافت کا ایک اہم نام تھا۔ ان کا اصلی نام عطا محمد چشتی تھا۔ انھوں نے اپنا قلمی نام حاجی لق لق کیوں اختیار کیا یہ بھی ایک دلچسپ قصہ ہے 

1914 میں پہلی جنگ عظیم کے دوران برٹش فوج میں کلرک بھرتی ہو کر وہ مشرق وسطیٰ  چلے گئےتھے۔ کئ سال عراق میں رہے۔ وہاں لم ڈھینگ قسم کا ایک پرندہ ہوتا ہے جسے حاجی لق لقؔ کہتے ہیں۔ حاجی اس لیے کہ ایک خاص موسم میں یہ ہجرت کر کے کہیں دوسرے ملکوں میں چلا جاتا ہے۔ اور کچھ عرصہ کے بعد پھر واپس آ جاتا ہے. عراق والوں کا خیال ہے کہ حج کرنے کے لیے جایا کرتا ہے۔ عطا محمد چشتی کی ٹانگیں ذرا لمبی تھیں حاجی لق لق  پرندے کی ٹانگیں بھی لمبی ہوتی ہیں۔ اس لئے لوگ انھیں حاجی لق لق کہا کرتے تھے۔ شعر وادب کا ذوق بچپن سے تھا، ابتداء میں ابو العلا چشتی کا قلمی نام اختیار کیا اور اس نام سے افسانے بھی لکھے۔ عراق سے واپس آئے تو اس وقت کے ممتاز اخبار ’’زمیندار‘‘ سے منسلک ہوگئے۔ پھر حاجی لق لقؔ نام اپنا لیا۔ اردو فارسی عربی کے علاوہ انگریزی بھی جانتے تھے۔ ان کی شاعری نثر اور اخباری کالمز میں اس وقت کے سیاسی سماجی اور ادبی صورت حال  کے عکاسی بخوبی ہوتی تھی۔ انھوں نےاس وقت کی مشہور طرز تحریر "ادب لطیف" کی پیروڈی میں ایک کتاب "ادب کثیف" لکھی۔
تحریف ان کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری کا اہم ہتھیار تھے، معروف شعرا کی غزلیات کی پیروڈیاں ان کے مجموعہ کلام’’منقار لق لق‘‘ میں شامل ہیں۔ 
قیس بننے سے ہم رہے لق لق 
سوٹ کو تار تار کون کرے

کیا آپ کو معلوم ہے؟

فراق

رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری کے نام کے ساتھ ان کی منفرد لب ولہجے کی شاعری، حسن و فطرت سے گہرا لگاو، بے باک اور دلچسپ گفتگو، ان کے موڈی پن اور ناآسودہ خانگی زندگی وغیرہ کا ذکر آتا ہے اور ان سب موضوعات  پر بہت کچھ لکھا بھی گیا ہے۔
  لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سن1918 میں گریجویشن کرنے کے بعد وہ ائی سی ایس میں بھی منتخب ہوگئے تھے اور حکومت نے انھیں ڈپٹی کلکٹر کےلئے نامزد بھی کر دیا گیا تھا۔ لیکن چونکہ وہ آزادی کی جد و جہد والے گروہ میں شامل ہوچکے تھے اس لئے انگریز سرکار کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ پرنسس آف ویلز کے دورہء ہند کو بائیکاٹ  کرنے کے سلسلے میں فراق کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ان کو ڈیڑھ برس کی جیل ہوئ اور پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ وہ آگرہ جیل میں تھے جہاں شعر وادب کے دلداہ  کچھ اور بھی قیدی موجود  تھے۔ سب نے مل کر طرحی مشاعرے کی بنیاد ڈالی۔ جیل کے پہلے یاد گار مشاعرے میں فراق نے جو غزل سنائ اس کا ایک شعر تھا: 
اہل زنداں کی یہ محفل ہے ثبوت اس کا فراق 
کہ بکھر کر بھی یہ شیرازہ پریشاں نہ ہوا 
جیل سے  رہا ہونے کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو نے انھیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا انڈرسکریٹری بنا لیا۔
اس کے بعد  فراق الہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی کے لیکچرار کی حیثیت سے وابستہ ہو گئے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

مُجرے کا مطلب صرف عورتوں کا محفلوں میں لوگوں کی تفریح کے لئے گانا بجانا ہی نہیں ہوتا ہے، جو ہندی فلموں کی وجہ سے اب فن رقص کا ایک انداز مانا جاتا ہے۔ 
لفظ مُجرا اردو ادب میں سلام کرنے کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے، شُعَراء کے کلام میں، اردو نثر میں اور ہندی میں بھی اکثر یہ اسی  معنوں میں نظر اتا ہے۔ 
رام جھروکے بیٹھ کے سب کا مُجرا لیت 
جیسی جاکی چاکری ویسا اس کو دیت
مجرا سے لفظ مجرئ بنا جس کا مطلب ہوتا ہے سلام کرنے والا۔ یہ اردو مرثیوں میں الگ ہی طرح استعمال ہوا ہے۔ وہ مرثیہ جو رباعی،غزل، یا قطعے کی طرز پر کہا جاتا ہے  اس کے مطلع میں لفظ مجرا یا سلام لایا جاتا ہے۔
حسین یوں ہوئے اے مجرئ وطن سے جدا 
کہ جیسے بلبل ِ ناشاد ہو چمن سے جدا
اس کے علاوہ مُجرا حساب کتاب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے. جیسے، "آپ کے حساب میں سے اتنی رقم مُجرا کردی گئ" یعنی گھٹا دی گئ ۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

عزیز

یہ قصہ نہ معاصرانہ چشمک کا ہے نہ لکھنؤ اور دہلی کے دبستان شاعری کے فرق کا ہے۔ بات دہلی اور لکھنو کے دو شعراء کے درمیان صرف ایک شعر کے بارے میں غلط فہمی کی ہے جو برسوں کشیدگی کا باعث بنی۔ ایک طرف لکھنؤ کے مایہ ناز استادِ سخن عزیز لکھنوی تھے، جن کی شاگردی میں جوش ملیح آبادی بھی کچھ عرصے رہ چکے تھے اور دوسری طرف بیخود دہلوی تھے، جنھیں جانشین داغ مانا جاتا تھا۔
لکھنؤ میں ایک مشاعرہ تھا جس میں بیخود دہلوی کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے ایک شعر یہ بھی پڑھا تھا 
ناکامیوں میں گزری بدنامیوں میں گزری
عمرِ عزیز گزری سب خامیوں میں گزری
عزیز لکھنوی بھی مشاعرے میں موجود تھے۔ انہوں نے اس شعر کو اپنے اوپر حملہ سمجھا، بس پھر کیا تھا مشاعرے میں شریک تمام لوگ بیخود کو قہر آلود نظروں سے دیکھنے لگے اور جب بیخود کو معلوم ہوا کہ ان کا شعر عریز لکھنوی کی تضحیک کے طور پر سمجھا گیا ہے تو انہوں نے اخلاقاً معذرت چاہی۔ مگر معذرت قابل قبول نہ ہوئی اور اس وقت کے تمام شعراء درپردہ ان سے کینہ رکھنے لگے اور یہ کینہ عمر بھر ان کے دلوں سے دور نہ ہوا۔ بیخود  نے جب اپنی اخلاقی معذرت کو مسترد ہوتے دیکھا تو پھر وہ  یہ شعر ہر مشاعرے میں اپنا کلام سنانے سے قبل پڑھنے لگے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ جہاں وہ جاتے بیخود کو مدعو ہی نہ کیا جاتا اور جہاں بیخود ہوتے وہاں جانے سے عزیز لکھنوی احتراز کرتے  تھے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

لطف

لطف اللہ خاں نے نصف صدی کےدورانئے میں 5000 اہم شخصیات، گلو کاروں، موسیقاروں، ادیبوں اور شاعروں کے کلام اور گفتگو کو ریکارڈ  کر کے محفوظ کر لیا تھا۔ اب یہ خزانہ یوٹیوب پر آ کر عالم گیر شہرت پا چکا ہے۔ اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں بہت سے ادیبوں اور شاعروں نے اپنے بارے میں ایسی باتیں بھی ریکارڈ کرائ ہیں جو کسی اور جگہ موجود نہیں ہیں۔
اس خزانے میں فیض احمد فیضؔ کا سارا کلام ان کی آواز میں موجود ہے جو انھوں نے 25 سال کےدوران قسط وار ریکارڈ کرایا تھا۔ جب بھی وہ کوئ نئی نظم یا غزل کہتے تو جا کر خاں صاحب کے ہاں ضرور ریکارڈ کراتے تھے۔ 
لطف اللہ خاں (1916-2012)، مدراس(چنئ ) میں پیدا ہوئے۔ دس برس بمبئ میں رہے اور تقسیم ہند کے بعد کراچی چلے گئے اور وہاں ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی کے مالک تھے۔ بچپن سے فنون لطیفہ سے شغف تھا، موسیقی کے بارے میں بہت معلومات رکھتے تھے۔ خود گلوکار و فوٹو گرافر تھے۔ جوانی میں شاعری بھی کیا کرتے تھے۔ موسیقی اور اپنی یاداشتوں پر مبنی کئ کتابوں کے مصنف تھے۔ اپنی  کتاب ’’تماشائے اہل قلم‘‘ میں انھوں نے کچھ مشہور ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ  اپنی ملاقات اور یادوں کو بہت دلچسپ انداز میں مضامین کی شکل میں پیش کیا ہے۔