Filter : Date

Section:

کیا آپ کو معلوم ہے؟

فراق

رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری کے نام کے ساتھ ان کی منفرد لب ولہجے کی شاعری، حسن و فطرت سے گہرا لگاو، بے باک اور دلچسپ گفتگو، ان کے موڈی پن اور ناآسودہ خانگی زندگی وغیرہ کا ذکر آتا ہے اور ان سب موضوعات  پر بہت کچھ لکھا بھی گیا ہے۔
  لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سن1918 میں گریجویشن کرنے کے بعد وہ ائی سی ایس میں بھی منتخب ہوگئے تھے اور حکومت نے انھیں ڈپٹی کلکٹر کےلئے نامزد بھی کر دیا گیا تھا۔ لیکن چونکہ وہ آزادی کی جد و جہد والے گروہ میں شامل ہوچکے تھے اس لئے انگریز سرکار کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ پرنسس آف ویلز کے دورہء ہند کو بائیکاٹ  کرنے کے سلسلے میں فراق کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ان کو ڈیڑھ برس کی جیل ہوئ اور پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ وہ آگرہ جیل میں تھے جہاں شعر وادب کے دلداہ  کچھ اور بھی قیدی موجود  تھے۔ سب نے مل کر طرحی مشاعرے کی بنیاد ڈالی۔ جیل کے پہلے یاد گار مشاعرے میں فراق نے جو غزل سنائ اس کا ایک شعر تھا: 
اہل زنداں کی یہ محفل ہے ثبوت اس کا فراق 
کہ بکھر کر بھی یہ شیرازہ پریشاں نہ ہوا 
جیل سے  رہا ہونے کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو نے انھیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا انڈرسکریٹری بنا لیا۔
اس کے بعد  فراق الہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی کے لیکچرار کی حیثیت سے وابستہ ہو گئے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

مُجرے کا مطلب صرف عورتوں کا محفلوں میں لوگوں کی تفریح کے لئے گانا بجانا ہی نہیں ہوتا ہے، جو ہندی فلموں کی وجہ سے اب فن رقص کا ایک انداز مانا جاتا ہے۔ 
لفظ مُجرا اردو ادب میں سلام کرنے کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے، شُعَراء کے کلام میں، اردو نثر میں اور ہندی میں بھی اکثر یہ اسی  معنوں میں نظر اتا ہے۔ 
رام جھروکے بیٹھ کے سب کا مُجرا لیت 
جیسی جاکی چاکری ویسا اس کو دیت
مجرا سے لفظ مجرئ بنا جس کا مطلب ہوتا ہے سلام کرنے والا۔ یہ اردو مرثیوں میں الگ ہی طرح استعمال ہوا ہے۔ وہ مرثیہ جو رباعی،غزل، یا قطعے کی طرز پر کہا جاتا ہے  اس کے مطلع میں لفظ مجرا یا سلام لایا جاتا ہے۔
حسین یوں ہوئے اے مجرئ وطن سے جدا 
کہ جیسے بلبل ِ ناشاد ہو چمن سے جدا
اس کے علاوہ مُجرا حساب کتاب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے. جیسے، "آپ کے حساب میں سے اتنی رقم مُجرا کردی گئ" یعنی گھٹا دی گئ ۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

عزیز

یہ قصہ نہ معاصرانہ چشمک کا ہے نہ لکھنؤ اور دہلی کے دبستان شاعری کے فرق کا ہے۔ بات دہلی اور لکھنو کے دو شعراء کے درمیان صرف ایک شعر کے بارے میں غلط فہمی کی ہے جو برسوں کشیدگی کا باعث بنی۔ ایک طرف لکھنؤ کے مایہ ناز استادِ سخن عزیز لکھنوی تھے، جن کی شاگردی میں جوش ملیح آبادی بھی کچھ عرصے رہ چکے تھے اور دوسری طرف بیخود دہلوی تھے، جنھیں جانشین داغ مانا جاتا تھا۔
لکھنؤ میں ایک مشاعرہ تھا جس میں بیخود دہلوی کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے ایک شعر یہ بھی پڑھا تھا 
ناکامیوں میں گزری بدنامیوں میں گزری
عمرِ عزیز گزری سب خامیوں میں گزری
عزیز لکھنوی بھی مشاعرے میں موجود تھے۔ انہوں نے اس شعر کو اپنے اوپر حملہ سمجھا، بس پھر کیا تھا مشاعرے میں شریک تمام لوگ بیخود کو قہر آلود نظروں سے دیکھنے لگے اور جب بیخود کو معلوم ہوا کہ ان کا شعر عریز لکھنوی کی تضحیک کے طور پر سمجھا گیا ہے تو انہوں نے اخلاقاً معذرت چاہی۔ مگر معذرت قابل قبول نہ ہوئی اور اس وقت کے تمام شعراء درپردہ ان سے کینہ رکھنے لگے اور یہ کینہ عمر بھر ان کے دلوں سے دور نہ ہوا۔ بیخود  نے جب اپنی اخلاقی معذرت کو مسترد ہوتے دیکھا تو پھر وہ  یہ شعر ہر مشاعرے میں اپنا کلام سنانے سے قبل پڑھنے لگے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ جہاں وہ جاتے بیخود کو مدعو ہی نہ کیا جاتا اور جہاں بیخود ہوتے وہاں جانے سے عزیز لکھنوی احتراز کرتے  تھے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

لطف

لطف اللہ خاں نے نصف صدی کےدورانئے میں 5000 اہم شخصیات، گلو کاروں، موسیقاروں، ادیبوں اور شاعروں کے کلام اور گفتگو کو ریکارڈ  کر کے محفوظ کر لیا تھا۔ اب یہ خزانہ یوٹیوب پر آ کر عالم گیر شہرت پا چکا ہے۔ اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں بہت سے ادیبوں اور شاعروں نے اپنے بارے میں ایسی باتیں بھی ریکارڈ کرائ ہیں جو کسی اور جگہ موجود نہیں ہیں۔
اس خزانے میں فیض احمد فیضؔ کا سارا کلام ان کی آواز میں موجود ہے جو انھوں نے 25 سال کےدوران قسط وار ریکارڈ کرایا تھا۔ جب بھی وہ کوئ نئی نظم یا غزل کہتے تو جا کر خاں صاحب کے ہاں ضرور ریکارڈ کراتے تھے۔ 
لطف اللہ خاں (1916-2012)، مدراس(چنئ ) میں پیدا ہوئے۔ دس برس بمبئ میں رہے اور تقسیم ہند کے بعد کراچی چلے گئے اور وہاں ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی کے مالک تھے۔ بچپن سے فنون لطیفہ سے شغف تھا، موسیقی کے بارے میں بہت معلومات رکھتے تھے۔ خود گلوکار و فوٹو گرافر تھے۔ جوانی میں شاعری بھی کیا کرتے تھے۔ موسیقی اور اپنی یاداشتوں پر مبنی کئ کتابوں کے مصنف تھے۔ اپنی  کتاب ’’تماشائے اہل قلم‘‘ میں انھوں نے کچھ مشہور ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ  اپنی ملاقات اور یادوں کو بہت دلچسپ انداز میں مضامین کی شکل میں پیش کیا ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جاں

فلموں کے لئے ایک سو اکیاون خوبصورت گانے لکھنے والے مدھم اور خوبصورت لہجے کے شاعر جاں نثار اختر کئ نظموں اورغزلوں کے مجموعوں کے خالق ہیں۔ انھوں  نے تیرہ سال کی عمر سے غزلیں کہنا شروع کردیا تھا۔ انھیں اپنے غزل گو اور ہندی گیت کار والد مضطر خیرآبادی سے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب میں رچی شاعری کی وراثت ملی تھی۔ جسے اب ان کے بیٹے جاوید اختر بخوبی سنبھال رہے ہیں۔ 
جاں نثار اختر نے علی گڑھ میں زمانہ طالب میں ایک نظم کہی تھی "گرلس کالج کی لاری" جو بہت مشہور ہوئی تھی۔ ایک بارعلی گڈھ یونیورسٹی کے مشاعرے میں جگر صاحب بھی شامل تھے، جن کی شہرت اس وقت عروج پر تھی۔ ان کے کلام کے بعد ظاہر ہے مشاعرے کے خاتمے کا اعلان ہوگیا لیکن طالب علموں نے ہنگامہ کیا کہ جاں نثار اختر " گرلز کالج کی لاری" سنائیں اور انھیں سنانی پڑی۔ برسوں بعد خواتین کے حوالے سے ہی ان کی ایک اور اہم تصنیف نے دھوم مچا دی، وہ تھی رباعیات و قطعات کا مجموعہ "گھرآنگن" جس نے پہلی مرتبہ ازدواجی زندگی اور خاتون خانہ کو اردو شاعری میں خاص مقام عطا کیا تھا۔ اپنی بے حد چاہنے والی مرحومہ بیوی  صفیہ اختر کے خطوط شائع کرا کے بھی انھوں نے نسائ ادب میں اضافہ کیا۔ ان کی پہلی برسی پر لکھی ہوئ نظم جاں نثار اختر کی نظم "خاموش اواز"  میں محبت کا ایک انوکھا انداز ہے۔ مرحومہ بیوی خود مغموم شوہر کو دلاسہ دے رہی ہے۔ 

 کتنے دن میں آئے ہو ساتھی  میرے سوئے بھاگ جگانے
مجھ سے الگ اس ایک برس میں کیا کیا بیتی تم پہ نہ جانے