Filter : Date

Section:

کیا آپ کو معلوم ہے؟

بغیر ترنم کے شاعری سنانے کو "تحت الفظ" کہا جاتا ہے جس کو "تحت میں پڑھنا " بھی کہتے ہیں۔  شاعری کو ترنم سے پیش کیا جائے تو طرز اور پڑھنے والے کی آواز سامعین کو زیادہ تر متوجہ رکھتی ہے۔ جبکہ تحت اللفظ میں شوکت الفاظ، آواز کے اتار چڑھاو سے شاعری کا پورا لطف آتا ہے۔ مشاعروں میں غزلیں اور نظمیں تحت میں بخوبی  پڑھی ہی جاتی ہیں لیکن مجلس عزا میں تحت اللفظ مرثیہ پڑھنے والوں نے تو اسے ایک خآص ڈرامائ انداز کا فن بنادیا ہے۔  مشیور مرثیہ گو میر انیس کے ایک ہم عصر مشہور شاعر میر انیس کی مرثیہ گوئ کے قائل نہ تھے، انھوں نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ اتفاقاً انیس کی مجلس میں شرکت ہوئی مرثیے کے دوسرے ہی بند کی  بیت: 
ساتوں جہنم آتش فرقت میں جلتے ہیں
شعلے تری تلاش میں باہر نکلتے ہیں
" انیس نے اس انداز سے پڑھی کہ مجھے شعلے بھڑکتے ہوئے دکھائی دینے لگے اور میں ان کا پڑھنا سننے میں ایسا محو ہوا کہ تن بدن کا ہوش نہ رہا " 
جب نئی شاعری بصورت آزاد نظم  نمودار ہوئی تو مشاعروں میں اس کو سننے کے لیے کوئی آمادہ نظر نہیں آتا تھا۔ مشہور ایکٹر اور براڈکاسٹر ضیا محی الدین نے ن م راشد کی نظمیں مختلف تقریبوں میں سنانے کا تجربہ کیا۔ انھوں نے کچھ اس طرح یہ نظمیں سنائیں کہ جن سامعین کے لیے یہ نظمیں مبہم اور لایعنی اور شعری کیفیت سے دور تھیں وہ بھی اس پڑھت کے سحر میں آ گئے اور انھیں ان نظموں میں شاعری بھی نظر آرہی تھی اور معنی بھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

افتخار

بمبئ سے شائع ہونے والا اردو  ماہنامہ "شاعر" جو 1930 میں آگرہ سے پہلی بار شائع ہوا تھا آج تک جاری ہے۔ افتخار امام صدیقی (1947. 2021)  جو اس تاریخ ساز خالص ادبی  ماہنامے کے بانی  سیماب اکبر آبادی کے پوتے  تھے، پچھلی کئ دہائیوں سے اس رسالے  کو تمام مالی پریشانیوں کے باوجود بمبئ کی ایک چھوٹی سی کھولی سے شائع کر رہے تھے جو ان کا دفتر اور خاندان کی رہائش گاہ بھی تھی۔ "شاعر"  کے خاص نمبر ادبی تحقیق کرنے والوں کے لئے بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ 
افتخارامام صدیقی شاعری اور نثر دونوں پر دسترس رکھتے تھے۔ انھوں نے100 ادبی شخصیات کے انٹرویو لئے تھے۔ افتخارامام بہت خوش گلو شاعر بھی تھےایک زمانے میں مشاعروں میں بہت مشہور تھے۔ بچپن سے انہیں گانے کا شوق تھا، ان کے والد کے ایک شاگرد غزل سنگر تھے ان سے کچھ  موسیقی سیکھی بھی تھی ابتدا میں فلمی گانے اور غزلیں گایا کرتے تھے۔ ان کے دادا سیماب اکبرآبادی ان سے غزلیں سنا کرتے تھے۔ فلم "ارتھ" میں چترا سنگھ کی آواز میں ان کی غزل "تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائےگا" کافی مشہور ہوئ تھی۔ کئ اور گلو کاروں نے بھی ان کی غزلیں گائ ہیں۔
 کسی مشاعرے سے واپسی کے وقت جبلپور میں آپ ایک حادثے سے دوچار ہوئے اور اپاہج ہو گئے لیکن اپنے بھائ ناظر نعمان صدیقی کی ادرات میں ماہنامہ" شاعر" کو پچاس سال سے جاری رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے شادی نہیں کی تھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جگر

جگرمرادابادی کی طبیعت میں بہت افتادگی تھی۔ مراداباد، آگرہ، اور پھر گونڈہ میں زندگی کے بیشتر ایام گزرے۔ مشاعروں کے سلسلے میں پورے ہندوستان کا دورہ کیا، اور اپنے وقت کے مقبول ترین شاعر رہے۔ کہا جاتا ہے اس وقت مشاعروں میں ان کا اعزازیہ 500 روپیہ ہوتا تھا۔ ان سب کے باوجود ان کی ازدواجی زندگی بہت بکھری ہوئی تھی۔ شراب نوشی اور آوارگی کی کثرت سے ان کی بیوی بہت بد دل ہوتی تھیں۔ آخر کار اصغر گونڈوی کے مشورے پر اپنی بیوی نسیم کو طلاق دے دی اور پھر اصغر گونڈوی نے ان سے شادی کر لی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

فیاض

آج جانے کی ضد نا کرو "ایک بے حد مقبول و معروف غزل ہے۔ فیاض ہاشمی کی لکھی اس غزل کو سب سے پہلے حبیب ولی محمد نے پاکستانی فلم "بادل اور بجلی" (1979) کے لیے گایا تھا مگر بعد میں ملکہ غزل فریدہ خانم نے اس غزل کو گا کر امر کر دیا۔  فیاض ہاشمی کے ایک دوست راوی ہیں کہ اس غزل کے کچھ اشعار انھوں نے کلکتہ میں زمانہ طالب علمی میں لکھے تھے جو ان کے پہلے لیکن ناکام عشق کی دین تھے،  وہ شاعری کے علاوہ موسیقی میں بھی شُد بُد رکھتے تھے۔ ان کی اس خصوصیت کی بنا پر کم عمری میں ہی کلکتہ میں  H.M.V  گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے اور وہاں متعدد گانے لکھے۔1935ء میں وہ ہندوستان میں فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے اور وہاں بھی بہت شہرت پائ۔
  انہوں نے فلمی گیتوں میں اردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا رنگ بھرا جس کی وجہ سے گیتوں کو لازوال شہرت عطا کی۔ مہاتما گاندھی نے فیاض ہاشمی کے نغمے سُن کر کہا تھا کہ: ’’اگر فیاض جیسے چند شاعر اور پیدا ہو جائیں تو اردو ہندی کا جھگڑا مِٹ جائے !‘‘۔ اس وقت کے تمام ممتاز گلوکاروں نے ان کے لکھے  سیکڑوں گانے گائے۔  پنکج ملک کا  گایا ہوا مشہور گانا: 
"  یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا۔"
بھی ان کی ہی تخلیق ہے۔ گانے کی دھن بناتے وقت اگر کہیں کوئی میوزک ڈائریکٹر ان سے کہتا کہ فیاض صاحب بول صحیح نہیں بیٹھ رہے، آپ مصرعے میں تبدیلی کر دیجئے تو فوراً وہ مصرع خود گا کر بتاتے کہ دھن یوں بنے گی تومصرعے فٹ ہوں گے اور واقعی مصرعوں کی تبدیلی کے بغیر گانا ریکارڈ ہو جاتا۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

مینا

مینا کماری ایک عظیم اداکارہ تو تھی ہیں، شاعرہ بھی تھیں۔ ناز ان کا تخلص تھا۔ فلمی نغمہ نگار اور شاعر گلزار سے ایک بار انھوں  نے کہا تھا ’’یہ جو اداکاری میں کرتی ہوں اس میں ایک کمی ہے۔ یہ فن، یہ آرٹ مجھ میں پیدا نہیں ہوا ہے، خیال دوسرے کا، کردار کسی کا اور ہدایت کسی کی ۔ میرے اندر سے جو پیدا ہوا ہے، وہ میں لکھتی ہوں، جو میں کہنا چاہتی ہوں، وہ لکھتی ہوں۔‘‘ مینا کماری نے اپنی تمام شاعری گلزار صاحب کے حوالے کر دی تھی۔ سن 1972 میں ان کے انتقال کے بعد گلزار صاحب نے ہی ان کا مجموعہ کلام " تنہا چاند" . کے نام سے چھپوایا تھا۔  
  مینا کماری کی آواز میں ان کی شاعری کا ایک البم  موسیقار خیام نے ریلیز کیا تھا. I write,I recite  ۔مینا کماری چاہتی تھیں کہ خیام کی بیوی گلوکارہ جگجیت کور ان کی نظمیں گائیں. جگجیت کور نے  کہا کہ وہ خود گائیں تو بہتر ہوگا۔ مینا کماری کی آواز میں ان کی شاعری کا یہ البم واقعی بے حد موثر ثابت ہوا۔
آخری عمر میں مینا کماری نے خود اپنی پرواہ کرنا بھی چھوڑ دی تھی۔ انھوں نے ایک دن موسیقار نوشاد سے کہا  تھا "میں رات بھرجاگتی ہوں اس خوف سے کہ دن نکلے گا اور دن اس کشمکش میں گزرتا ہے کہ اب اندھیرا ہونے والا ہے"۔ نوشاد صاحب  نے کاغذ قلم اٹھایا اور مینا کی کیفیت کو اس قطعہ میں سمو دیا: 
دیکھو سورج افق میں ڈوب گیا
دھوپ اک سر سے تیرے اور ڈھلی 
ایک دن الجھنوں کا اور گیا
اک کڑی زندگی کی اور کٹی
مینا کماری نے یہ قطعہ بارہا پڑھا اور رونے لگیں۔