aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
معنی
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
اپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر محبوب سے انتہائی یکسو اور مکمل وابستگی کا اعلان ہے۔ شاعر کے لیے مقصدِ حیات بھی وہی ہے اور “موجود” بھی وہی، یعنی باقی سب کی حیثیت بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہاں “موجود” حقیقت اور اہمیت کا استعارہ بن کر آتا ہے۔ جذبے کی شدت یہ ہے کہ دنیا کی موجودگی بھی محبوب کے بغیر خالی محسوس ہوتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر محبوب سے انتہائی یکسو اور مکمل وابستگی کا اعلان ہے۔ شاعر کے لیے مقصدِ حیات بھی وہی ہے اور “موجود” بھی وہی، یعنی باقی سب کی حیثیت بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہاں “موجود” حقیقت اور اہمیت کا استعارہ بن کر آتا ہے۔ جذبے کی شدت یہ ہے کہ دنیا کی موجودگی بھی محبوب کے بغیر خالی محسوس ہوتی ہے۔
"ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں" غزل سے کی میر تقی میر