Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غالب کا عہد اور غالب

مجنوں گورکھپوری

غالب کا عہد اور غالب

مجنوں گورکھپوری

MORE BYمجنوں گورکھپوری

    شخصیتیں ادنی ہوں یااعلیٰ تاریخ کی مخلوق ہوتی ہیں، یعنی زمانہ کے کسی مخصوص دور کے مادی اورخارجی اسباب وعوامل جن میں اقتصادی حالات سماجی ہیئت قریب ترین ماحول کے موثرات سبھی شامل ہوتے ہیں، افراد کے کردار اورمزاج کا رخ متعین کرتے ہیں اوران کی شخصیتوں کی تشکیل وتربیت میں دورتک حصہ لیتے ہیں۔ آج زندگی کے اس نظریہ سے شایدہی کوئی دبستان یا کوئی فرداختلاف کرنے کی ضرورت محسوس کرے۔ اس لئے کہ یہ ایک حقیقت ہے جومسلم ہوچکی ہے۔ لیکن حقیقتیں کبھی یک رخی نہیں ہوتیں۔ چنانچہ اس حقیقت کابھی ایک دوسرارخ ہے۔ یہ سچ ہے کہ تاریخ شخصیتیں پیدا کرتی ہے لیکن یہ بھی کچھ کم سچ نہیں کہ بعض شخصیتیں تاریخ آفرینی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے عہد کی مخلوق ہوتے ہوئے نئے عہد کی آفریدگارہوتی ہیں۔ یہ عظیم اورتوانا شخصیتیں زمانہ کا مرکب نہیں بلکہ راکب ہوتی ہیں۔ وہ زمانہ سے صرف عبرت حاصل نہیں کرتیں بلکہ زمانہ کو نئی سمت میں موڑدیتی ہیں۔ کارلائل اوراس کے ہمنواؤں کاخیال بھی بنیادی طورپرصحیح ہے کہ تاریخ ایک سلسلہ ہے ’’عظیم شخصیتوں کے عظیم کارناموں کا‘‘ ایسی ہی عظیم شخصیتیں نابغہ یا بطل یا جوہر قابل (GENIUS) کہلاتی ہیں۔ نابغہ کی نظر اپنے زمانہ پرہوتی ہے۔ مگر وہ ایسی دوررس بصیرت بھی اپنے اندررکھتا ہے جو اس کو اس قابل بناتی ہے کہ اپنے زمانہ کے نقائص کوسمجھے اور اس نئے زمانہ کاتصورکرسکے جو آنے والا ہے اورجواس کے زمانہ کی خرابیوں اورخامیوں کودور کرکے فلاح وترقی کے نئے اسباب لانے والاہے۔ نابغہ حال سے آسودہ اور خوش آئند مستقبل کا آرزومند منتظرہوتاہے۔ وہ مروجہ نصاب زندگی کو جب ناقص محسوس کرتا ہے تو اس سے انحراف یا بغاوت پراپنے کوالہامی طورپرمجبور پاتاہے۔ لیکن وہ محض بغاوت کے لئے بغاوت کرنانہیں سکھاتا۔ اس کی بغاوت کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے نظام زندگی کا تصور پیش کرسکے جوموجودہ اورگزشتہ دونوں سے زیادہ جمیل ہو۔ وہ اپنے دور کے نمونوں اورضابطوں کا اندھامقلد نہیں ہوتا بلکہ ان سے زیادہ توانا اورفلاح بخش نمونوں اورضابطوں کے تصور میں لگارہتاہے۔ وہ روایات کی عظمت کوتسلیم کرتاہے اور ان کا احترام کرتاہے لیکن وہ مجتہد بھی ہوتا ہے اور جب ان روایات میں وہ خرابیاں پاتا تووہ ان میں سے زندہ عناصر کوالگ کرکے اورنئی روایات کے ساتھ ان کوشیروشکرکرکے زندگی کی نئی ہیئت کی تشکیل کرتاہے۔ اقبال کے دومصرعے ایسی برگزیدہ شخصیتوں کی بہت صحیح نمائندگی کرتے ہیں۔

    دلم بہ دوش و نگاہم بہ عبرت امروز

    شہید جلوہ فردا و تازہ آئینہ

    ایسے قہربان یاسورما ہردور میں پیدا ہوتے رہے ہیں چاہے وہ احساس وفکر کے میدان میں ہو ں چاہے عمل اورپیکار کے میدان میں۔ کبھی کبھی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جوبیک وقت دونوں میدانوں کے مردہوتے ہیں۔ یونان قدیم میں ایسی مثالیں بہت ملتی ہیں۔ احساس وفکر کا سورماچونکہ اپنے زمانہ سے آگے ہوتاہے اس لئے اس کے کردار وگفتا رمیں کچھ ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو اس کے زمانہ کے اعتبار سے خارج المرکز ہوتی ہیں اور لوگ اس کواجنبی پاتے ہیں۔ اگرچہ وہ خود اپنے کوکسی سے اجنبی نہیں پاتاہے۔ وہ توسب کا دوست ہوتاہے اورسب کے لئے خیروبرکت کا آرزومند ہوتاہے۔

    یہاں بھی ایک ایسے ہی انمول اوربالغ نظر شخص تھے جن کونابغہ یابطل مانناپڑتا ہے۔ فکروبصیرت میں وہ اپنے عہد سے بہت آگے تھے اورمستقبل میں بہت دور تک دیکھ سکتے تھے۔ ان کوجرأت گویائی ایسی عطا ہوئی تھی کہ وہ جو کچھ دیکھتے اور سوچتے اورسمجھتے تھے اس کے بے دریغ اظہار میں ان کو کوئی پس وپیش یاتذبذب نہیں ہوتا تھا۔ ماضی کی عظمت کے وہ معترف تھے اور اس کی یادان کے دل میں ایک کسک پیداکئے رہتی تھی لیکن ان کی عبرت نگاہی کوئی مجہول کیفیت نہیں تھی بلکہ ایک خلاق قوت تھی جوماضی اورحال کے زندہ اورصالح عناصر کولے کر اوزار کا رفتہ اقدار کو جہاں کاتہاں چھوڑکرایک نئے اورزیادہ مبارک مستقبل کی تعمیرکرنا چاہتی تھی۔ غالب ردوقبول تقلید واجتہاد کاسلیقہ رکھتے تھے۔ گزشتہ اورموجودہ قدروں میں جوقدریں جاندار اور تواناتھیں اورمستقبل کی نئی قدروں کے ساتھ گھل مل سکتی تھیں۔ ان کو وہ قبول کیسے ہوئے تھے اورفرسودہ اوربے جان قدروں کو بے دردی کے ساتھ ردکردیتے تھے۔ زندگی کے ساتھ ان کایہ رویہ ان کے ایک شعر سے واضح ہو جاتا ہے۔

    ہرچہ نہ نوبودہ فرووافگنم

    ہرچہ نہ فرسودہ فراز آورم

    یہ ایک ترجیع بند کاشعر ہے جوبہادرشاہ ظفرکی شان میں ہے۔

    غالب اسلاف کے عظیم کارناموں کی کتنی قدر کرتے تھے اوران سے خود اپنے ذوق کی تربیت اور تہذیب کس طرح کرتے تھے۔ اس کا اندازہ ان اشعار سے ہوتا ہے جن میں انہوں نے اکابرشعراء بالخصوص فارسی شعراء کی بارگاہ میں ہدیہ ارادت پیش کیاہے۔ پیشرو اردوشعراء میں وہ میر کی عظمت کے دل سے معترف رہے اور اپنے مزاج کے مطابق انہوں نے میر سے اثرقبول کیا۔ ہم عصرشاعروں میں وہ مومن کی ندرت فکر اور وقت نظر اورشیفتہ کے تربیت یافتہ ذوق شعری اور عیارتنقید کے قائل تھے لیکن فارسی شاعری میں جتنے بزرگان فن ہوئے ہیں ان سب کے مقام ومرتبہ کو غالب نے نہ صرف پہچانا اورتسلیم کیابلکہ ان کی زمین میں اکثر غزلیں اورقصیدے لکھے ہیں اورانہیں کا رنگ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ان کی برتری کا اعتراف بھی کیاہے۔ اس اجمال کی تفصیل دوسرے موقع کے لئے اٹھارکھئے جب غالب کی شاعری سے بحث ہوگی لیکن آج کی صحبت میں بھی کچھ مثالیں پیش کرنا ضروری ہیں جن سے اندازہ ہوسکے کہ غالب کے فکری مزاج اور فنی شعور کی تربیت میں ان سخنوران ماسلف کے کمالات کے اثرات کس حد تک دخیل رہے۔ غالب نے اردوشاعری کی انجمن میں کسی کواپنا ہم سرنہیں پایا، اسی لئے وہ فارسی استاذہ کی محفل میں پہنچے۔ یہاں ان کوبہت کچھ ملا جس کو انہوں نے اپنے ذوق فکروفن میں اس طرح سمولیاکہ پھر وہ ان کی اپنی فطرت کا جزوبن گیا۔ وہ خودکہتے ہیں،

    ذوق فکر غالب رابرد از انجمن بیروں

    باظہوری و صائب محو ہم زبانیہاست

    اس ظہور کے مقابلہ میں وہ ایک جگہ اپنے کو ’’خفائی‘‘ تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے ان اساتذہ کی زمینوں میں غزلیں اورقصیدے لکھے ہیں مگر ان کے سامنے ادب کے ساتھ اپنی اس جسارت کی معذرت بھی کی ہے۔ سعدی کی غزل پر غزل کہتے ہوئے سعدی کی برتری کا اعتراف یوں کرتے ہیں،

    حلق غالب نگرو دشنہ سعدی کہ سرود

    خوب رویان جفا پیشہ وفا نیز کننند

    کبھی ان کے دل میں ولولہ پیدا ہوتا کہ وہ چند غزلیں فغانی کی لے اور نکیسا کی دھن میں سنائیں،

    پردہ چند بہ آہنگ نکیسا بسرائے

    غزلے چند بہ ہنجار فغانی بشنو

    کبھی وہ کہتے ہیں کہ جب تک نظیری اورحزیں کے طرز سخن کواچھی طرح نہ پہچان لیاجائے ان کے مذاق کو نہیں سمجھا جاسکتا۔

    غالب مذاق مانتواں یافتن زما

    روشیوہ نظیری و طرز حزیں شناس

    اوراس سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ فغانی کی سنجیدہ گداختگی نظیری کی پرتامل غزلیت اور شیخ علی حزیں کی عناں گسیختہ ربودگی کے آثار تموج زیریں کی طرح دوسرے اساتذہ کے کلام کے ارتعاشات اورخودان کی تخلیقی اپج کے ساتھ اس طرح گھلے ملے محسوس ہوتے ہیں کہ ان کا پھرتجزیہ نہیں کیاجاسکتا۔ صائب کی ایک غزل پرغزل کہتے ہوئے کہتے ہیں،

    ایں جواب آں غزل غالب کہ صائب گفتہ است

    در نمود نقشہا بے اختیار افتادہ ام

    اور ظہوری کی تربت پر اپنی عذر اس طرح پیش کرتے ہیں۔

    غالب از جوش دم ماتر تبش گلپوش باد

    پردہ ساز ظہوری راگل افشاں کردہ ایم

    ایک دوسرے شعر میں بہت صاف کہتے ہیں،

    بہ نظم و نثر مولانا ظہوری زندہ ام غالب

    رگ جاں کردہ ام شیرازہ اوراق کتابش را

    غالب نے جس فارسی کوسب سے زیادہ اپنے قریب پایا وہ بیدل تھا جواہل ایران سے نہیں تھا۔ ہندی نژاد تھا۔ مزاج وکردار اورفکر وگفتار کے اعتبار سے غالب بیدل کی طرف ایک ناگزیر کشش محسوس کرتے رہے۔ ان کے ابتدائی اردوکلام میں توخیربیدل بدنمائی کی حد تک نمایاں ہے لیکن درحقیقت بیدل کا یہ اثر عمر بھرباقی رہا اوران کا وہ کلام بھی توازن اور خوش آہنگی کے ساتھ بیدل کے آہنگ سے متاثر ہے جو ان کے پختگی اوررسیدگی کے دورکی تخلیق ہے جبکہ ان کا اپنا انفرادی رنگ قائم ہوچکاتھا۔ وہ یہی کہہ کرنہیں رہ جاتے کہ،

    مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا

    بلکہ بڑے سلیقے کے ساتھ اقرا رکرتے ہیں کہ

    آہنگ اسدمیں نہیں جزنغمہ بیدل

    عالم ہمہ افسانہ ما دارد و ماہیچ

    یہ محض پسند اورانتخاب کا معاملہ نہیں تھا۔ یہ ہم کرداری اور ہم تقدیری کا احساس تھا جوغالب کوبے اختیار بیدل کی طرف کھینچ رہاتھا۔ بیدل روایت عظیم کا ادب کرتے ہوئے ایک انحرافی شاعرتھا۔ غالب سبھی اسلاف کی تہذیبی میراث کی قدر کرتے ہوئے ایک انحرافی شاعرتھے۔

    اس رازکوبھی سمجھنا چاہئے کہ جن فارسی شاعروں کے سامنے وہ خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں کو بہ استثنانے بیدل کبھی کبھی اپنے مقابلہ میں ناقص پاتے ہیں مثلا اپنے ’’سومنات خیال‘‘ کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں،

    مسنج شوکت عرفی کہ بود شیرازی

    مشو اسیر زلالی کہ بود خوانساری

    یہ وہی عرفی ہے جس کی غزلوں پروہ غزلیں اور قصیدوں پرقصیدے لکھ چکے ہیں اورجس کی تقلید کا وہ اعتراف کرچکے ہیں،

    گشتہ ام غالب طرف بامشرب عرفی کہ گفت

    ’’روئے دریا سلسبیل و قعر دریا آتش است‘‘

    جس حزیں کی طرز کے وہ معترف ہیں اور جس کے رنگ کو وہ خوداپنے رنگ سے مماثل پاتے ہیں اسی کے بارے میں پھروہ یہ کہتے ہیں،

    اندریں شیوہ گفتار کہ داری غالب

    گر ترقی نہ کنم شیخ علی رامانی

    بہ ظاہر یہ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔ کیا غالب نے حزیں کے بار ے میں اپنی رائے بدل دی ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے اورغالب کی ایک رائے دوسری رائے کی تردید نہیں کرتی۔ غالب متقدمین سے متاخرین تک شعرا کی عظمت کے قائل تھے اور ان کے کلام سے اپنی طبیعت اوراستعداد کے مطابق اثرقبول کرتے تھے لیکن اس اثرتک وہ اپنے کومحدود رکھنانہیں چاہتے تھے۔ وہ اسلاف کی چھوڑی ہوئی میراث پرفخر کرتے تھے۔ بزرگوں کی دین بڑی برکت اور بڑی تقویت بخش ہوتی ہے لیکن اس دین کواگرہم آئندہ زندگی کی نئی تعمیر میں سلیقے کے ساتھ کام میں نہیں لاتے تویہ ہماری ناقابلیت ہے۔ غالب اس راز کوسمجھے ہوئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مستقبل کوماضی اور حال سے منسلک رکھتے ہوئے دونوں سے خوب تر بنانے کے لئے اجتہاد وایجاد سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

    جواسلاف کہ آنے والی نسل کے لئے اپنے تہذیبی اکتسابات کاترکہ چھوڑکر گزرگئے ان کی غالب تہ دل سے عزت کرتے ہیں۔ لیکن ایسے بزرگو ں کی تعداد بھی کافی ہوتی ہے جواپنے دورسے عبورکرکے اس دورمیں اپنی عمر کی میعاد پوری کرتے ہیں جو نئی نسل کا دورہوتاہے۔ ان بزرگوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک تووہ ہیں جو زندگی کا تاریخی شعور رکھتے ہیں جن کواپنے عہدشباب کی شورید گیاں اور ٹیڑھی ترچھی چالیں حال کے واقعات کی طرح یاد ہوتی ہیں جومیر کے ’’پیرمغاں‘‘ کی طرح ’’پیرمرد‘‘ ہوتے ہیں اور اپنی باقی ’’عمرجوانان مست‘‘ میں گزارتے ہیں۔ یہ لوگ جوانوں کی مستانہ روی کونہ صرف عارفانہ تبسم زیرلب کے ساتھ ستائشی اندازمیں دیکھتے ہیں بلکہ اپنی دیرینہ فکرونظر سے ان کے حوصلوں اور ولولوں کوتقویت پہنچاتے ہیں۔ ان کی صحبت جوان کوجوان تربناتی ہے اوروہ خود ان کے شباب سے بہرہ مندہوتے ہیں۔ اگرخودان کے جسم وجاں میں اتنی سکت نہیں ہوتی کہ جوانوں کے ساتھ قدم سے قدم ملائے ہوئے چل سکیں توبہترین امیدوں اوردعاؤں کے ساتھ ان کوآگے بڑھنے کی ہدایت اورتاکید کرتے ہیں اورمنتظر رہتے ہیں کہ یہ نوجوان زندگی میں کچھ نئی برکتیں لائیں گے۔ غالب خودایسے ہی ایک بوڑھے تھے۔ وہ جوان رہ چکے تھے اورجوانی کی تمام آزاد رفتاریاں ان کی نگاہ میں تھیں۔ وہ بوڑھے بھی ہوئے اور ۷۳ سال سے کچھ زیادہ عمر پاکر اس دنیاگردباد سے کوچ کیا۔ لیکن ان کے مزاج میں جوخلقی حق شناسی اورمعدلت تھی وہ ابتدائے شعور سے آخر وقت تک قائم رہی جب کہ ان کے تمام قوی مضمحل ہوکرجواب دے چکے تھے اورعناصر میں اعتدال باقی نہیں رہ گیا تھا۔ ان کی عمرپچاس سال کے قریب ہوچکی تھی۔ جب انہوں نے سرسید کو ’’آئین اکبری‘‘ کی تصحیح شدہ اشاعت پر تفریظ لکھتے ہوئے یہ کہہ کر متنبہ کیاتھا کہ ’’مردہ پروری‘‘ کوئی مبارک کا م نہیں ہے۔ ایسے کارناموں کووہی سراہ سکتاہے جس کا آئین ریاہو۔ سرسید جیسے ہمت والے لوگوں کے لئے ایسے کام ننگ وعار ہیں۔ غالب سرسید کو ایک ہونہار آدمی سمجھتے تھے جونئی نسل کوذلت وخواری کے گڈھے سے نکال کر ایسے نئے راستے پرلگاسکتے تھے جو ان کو آئندہ فلاح وبہبود کی طرف لے جاسکتا تھا۔ اسی لئے جب انہوں نے سرسید کوآئین اکبری کی تصحیح واشاعت میں سرگرم دیکھا جوایک ایسے نظام معاشرت اورآئین سیاست کی تبلیغ کرتی ہے جو نامطبوع ہوکر متروک اور مردہ ہوچکا ہے توانہوں نے اس کی کھلے الفاظ میں مخالفت کی۔ اس لئے کہ غالب ’’آئین ریا‘‘ کے سخت دشمن تھے۔ ورنہ یہی غالب اس سے پہلے اسی سرسید کی ’’آثارالصنادید‘‘ کی تعریف کرچکے تھے۔ ’’آثارالصنادید‘‘ کسی نظام کہنہ کو ازسرنو زندہ کرنے اورمقبول بنانے کی کوشش نہیں تھی بلکہ ماضی قریب کے لئے ایسے اکتسابات کواس ترتیب کے ساتھ اکٹھاکیاگیا تھا جن سے حال بہت کچھ اپنے جمہوری نفس کی تربیت کرسکتا تھا اورمستقبل کی بہبود وترقی کے منصوبے تیارکرنے میں جن سے ہماری حوصلہ افزائی ہوسکتی تھی اورہم کوبہت کچھ ان پرانے نمونوں اور مثالوں سے مددمل سکتی تھی۔

    دوسری قسم ان بوڑھوں کی ہے جوکسی طرح زمانے کے نئے میلانات و مطالبات اورنئی نسل کے نئے مزاج کوسمجھ نہیں سکتے جوزندگی کی پرانی قدروں اور معیاروں کوسینے سے لگائے ہوئے ہیں لیکن نئی نسل کے نئے انداز پرکوئی لعن طعن نہیں کرتے بلکہ اپنی قدامت پسندی کواپنے لئے ایک حصار بنائے ہوئے ہیں اوراس حصار میں اپنی باقی زندگی عافیت کے ساتھ گزاردینا چاہتے ہیں۔ غالب ان عزلت گزیں بزرگوں کو’’اگلے وقتوں کے لوگ‘‘ سمجھ کرہم کوتلقین کرتے ہیں کہ ’’انہیں کچھ نہ کہو‘‘ ان کو ان کے حال پر چھوڑدو اورخاموش اپنے ہی پرانے طورپراپنی زندگی بسرکرے جانے دو۔ یہ ہم کونہیں چھیڑتے تو ہم ان کو کیوں چھیڑیں۔ یہ بڑے معصوم لوگ ہیں اوران کی مصومیت کا لحاظ رکھنا چاہئے۔

    لیکن ہم عصر بوڑھوں کی ایک تیسری قسم بھی ہے جو تعداد میں بہت زیادہ ہے۔ یہ بوڑھے بڑے سرسخت ہوتے ہیں۔ یہ خو ب جانتے ہیں کہ زمانہ اب وہاں ہے، نہ رہ سکتا ہ جہاں ان کے شباب کے ایام میں تھا اورزندگی منزل بہ منزل گزرتی ہوئی کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے اوران کے دور کی قدریں فرسودہ ہوچکی ہیں لیکن بوڑھوں کا یہ ہٹ دھرم طبقہ تاریخ کی اس ناگزیر اورناقابل تردید حقیقت کو تسلیم کرنے سے دیدہ ودانستہ اورقصدواہتمام کے ساتھ انکارکرتا ہے کہ زمانہ بدلنے کے لئے مجبورہے اورزندگی کی فطرت ہے کہ وہ ترقی کرتی رہے اور کسی ایک منزل پرقیام نہ کرے۔ یہ لوگ جب قیادت اوراقتدار کواپنے ہاتھ سے لے جاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو صالح نوجوانوں کے نئے میلانات ومساعی اوران کے نئے اکتسابات کی نہ صرف تحقیر کرتے ہیں بلکہ ان کی ترقی کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ یہ لوگ نوجوانوں سے اس لئے چڑتے ہیں کہ طاقت واقتدار اواعتبار اوراختیار کواپنے طبقے سے نکل کرنئی نسل کے قبضہ میں جاتے دیکھتے ہیں اوراپنے کوبے بس پاتے ہیں۔ یہ گروہ بڑا خطرناک ہوتاہے۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ تہذیب اورآداب کالحاظ رکھتے ہوئے بوڑھوں کو اس جماعت سے ہوشیار رہے اورٹھنڈے دل کے ساتھ ان کی چڑچڑانے والی باتوں کا جواب دیتے رہیں اور ان کی ان تمام کوششوں کی کاٹ کرتے رہیں جو وہ نوجوانوں کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ خودغالب کا رویہ ان بزرگان عبوس کے ساتھ کچھ اسی اندازکاتھا۔

    غالب قدمااوران ے کارناموں کی عظمت وحرمت کے معترف تھے۔ اگرایسا نہ ہوتا تو وہ بیدل، صائب، عرقی، نظیری، ظہوری وغیرہ اوراردو میں میر کی شاعری کا مرتبہ پہچان سکتے۔ لیکن وہ قدامت کوکسی صورت میں گوارا نہیں کرسکتے تھے۔ وہ متقدمین کے اکتسابات کومحفوظ رکھناچاہتے تھے اورنئی نسل کے ذہن کی تربیت میں ان سے کام لینا بہت ضروری سمجھتے تھے لیکن ان اکتسابات پارینہ کی پارینگی کوپہلے دور کردینابھی ان کے خیال میں ضروری تھا۔ ان کا یہ شعر سمجھنے کے لئے بڑی غائرنظر اوربالغ فکردرکارہے ؎

    رفتمکہ کہنگی زتما شابرافگنم

    در بزم رنگ و بو نمطے دیگر افگنم

    شاعر اس ’’بزم وبو‘‘ کی قدرکوتسلیم کرتا ہے جو قدماآراستہ کرگئے ہیں لیکن اس بزم میں قدامت اور کہنگی کے جوآثار وعلامات ہیں ان کودور کرکے نئی زندگی کے نئے میلانات ومطالبات کے مطابق نئی شان اورنیا انداز پیدا کرناچاہتا ہے تاکہ اسلاف کی محنت کا حاصل اخلاف کے لئے بھی قوت وبرکت کاذریعہ بن سکے۔

    غالب کے کردار کی ایک خصوصیت بہت اہم ہے جس ہم استقامت کہہ سکتے ہیں اورجوہر حال میں قائم رہتی ہے۔ غالب نہ کبھی نشہ میں بہکے نہ غصہ یا کسی اورجذبہ میں۔ وہ بڑے ظرف کے آدمی تھے اورکسی حالت میں بھی خودکواپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ان کے کردار میں کسی زاویہ سے کسی قسم کی ناتراشیدگی نہیں پائی جاتی تھی۔ ان کی ہربات اور ہراداقرینہ اور شائستگی لئے ہوئے ہوتی تھی۔ وہ بیدل کی طرح آداب کوزندگی کی آبروسمجھتے تھے۔ اس کاادنی ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زبان اور قلم کو ہجو سے کبھی آَلود ہونے نہیں دیا۔ شوخی اورطنز کی مثالیں ان کی زندگی اور ان کے کلام میں بے شمارملیں گی لیکن ان کی شوخی متین اورسنجیدہ ہوتی تھی اوران کا طنزہرموقع پرعارفانہ تمکنت کا حامل ہوتاتھا۔

    بزرگوں کی ایک جماعت کا ذکرکیاجاچکاہے جونرم مزاج اورصلح پسند ہے اور جو باوجود اس کے کہ اس کوتمام خوبیاں متقدمین میں ہی نظر آئی ہیں اورجونئی نسل کے نئے رجحانات اوراسالیب سے کسی طرح مانوس نہیں ہوپاتی۔ نوجوانوں سے الجھتی نہیں، غالب ایسوں کوفطرتا معذورسمجھتے ہیں اور ایک محدوددائرے میں ان کے خلوص کی قدرکرتے ہیں لیکن کبھی کبھی مدہم لہجے میں عارفانہ شوخی کے ساتھ ان کوچونکانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس کوایک مثال سے سمجھئے جس کا تذکرہ حالی نے یادگار غالب میں کیاہے۔ ایک روزنواب مصطفے خان شیفتہ کے گھر پرکچھ بے تکلف احباب اکٹھاتھے۔ غالب بھی تھے۔ مفتی صدرالدین آزردہ بھی تھے اور حالی بھی تھے۔ سب کے سب تربیت یافتہ ذوق رکھنے والے تھے۔ کھانے میں ابھی دیر تھی۔ شعروسخن کا چرچرچھڑگیا۔ اتنے میں غالب کی نظر خود اپنے فارسی دیوان کے کچھ اوراق پرپڑگئی۔ وہ آزردہ کے مزاج اورمیلان طبع سے اچھی طرح واقف تھے۔ آزردہ کوساری خوبیاں قدماہی کی شاعری میں نظر آئی تھیں۔ ہم عصر نوجوانوں کے ساتھ ان کا رویہ مربیانہ ہوتاتھا اورنہ نوجوانوں کی شاعری کووہ بہت کم خاطر میں لاتے تھے۔ غالب آزردہ کی بڑی عزت کرتے تھے اور آزردہ بھی غالب کے ساتھ خلوص اورمحبت کا تعلق رکھتے تھے۔ غالب کی نظر خوداپنی ایک غزل پرپڑی توان کوایک چٹکلہ سوجھا اورآزردہ کوچھیڑکرچونکادینے کا اچھا موقع نکل آیا۔ غزل وہ تھی جس کا مطلع ہے،

    نشاط معنویاں از شراب خانہ تست

    فسون بابلیاں فصلے از فسانہ تست

    اس زمین میں کئی فارسی اساتذہ کی غزلیں اورپوری غزل پرنظررکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی ایی غزل نہیں جس پر غالب کوناز ہوتا اور جس کو وہ کسی پندار کے ساتھ پیش کرتے لیکن ان کا اصل مقصد مقطع پڑھ کر آزردہ کوہوشیار کرناتھا۔ چنانچہ انہو ں نے یہ کہہ کر غزل سنانا شروع کی کہ دیکھئے کسی ایرانی شاعر کی کتنی اچھی غزل ہے۔ آزردہ پہلے تو تعریف کرتے رہے پھرسمجھ گئے کہ غالب ہی کی غزل ہے اور خودان پر چوٹ کرنے کے لئے سنائی جارہی ہے۔ مسکرا کر کہنے لگے، ’’کلام مربوط ہے، مگر نوآموز کا کلام معلوم ہوتا ہے۔‘‘ غالب سناتے رہے، مقطع پر پہنچے تو آزردہ کی طرف خطاب کرکے دردناک آواز سے پڑھا۔

    تو اے کہ محو سخن گستران پیشینی

    مباش منکر غالب کہ در زمانہ تست

    لوگ بہت متاثر ہوئے اور آزردہ شرمندہ ہوکرخاموش ہوگئے۔ غالب کا مقصدپورا ہوگیا۔ اس غزل میں ایک اورقابل انتخاب شعر ہے جو مقطع سے بھی زیادہ بلیغ اورفکرانگیز ہے۔ مقطع میں ان بزرگوں کومخاطب کیاگیاہے جواپنے زمانے کے نوجوانوں کی نئی زندگی اوران کے نئے اکتسابات میں صرف خامیاں دیکھتے ہیں۔ دوسرے شعرمیں نوجوانوں کومخاطب کرکے ان کا دل بڑھایا گیاہے۔ بڈھے توجوانوں کے حوصلے پست کرتے ہی رہتے ہیں خودجوانوں میں ایسوں کی کمی نہیں جو اسلاف کے اکتسابات سے غلط حدتک اوربے جاطورپر مرعوب رہتے ہیں اورجن کو اپنے زمانہ کے نئے فکری میلانات اورعملی اقدامات کی راستی اور درستی کے بارے میں شک ہوتاہے۔ یہ بھی غلط میلان ہے۔ غالب ہم کو سمجھاتے ہیں کہ زندگی کی ساری توانائیاں اوربرکتیں گزرے ہوئے ادوار کے ساتھ ختم نہیں ہوگئی ہیں جوکچھ پہلے کسی دورمیں تھا وہ آج بھی ہے بلکہ پہلے سے بیشتر اور بہترہے پھر یہ کیا کہ جب بھی جام کاخیال آئے توجمشیدکلمہ پڑھا جائے اورآئینہ کا ذکرآتے ہی سکندر کے بھجن گائے جائیں۔ کتنی سچی اور خوش آئند بات کہی گئ ہے جو زمانہ قبل تاریخ سے اب تک صحیح ہے اوربعید سے بعیدمستقبل تک صحیح ثابت ہوتی رہے گی مگر وہ شعر سنئے،

    بجام و آئنہ حرف جم و سکندر چیست

    کہ ہرچہ رفت بہ ہر عہد در زمانہ تست

    غالب آداب واوضاع کی پاسداری کوبہرحال ضروری سمجھتے تھے اور کسی صورت میں کسی قسم کی ناہنجاری اور بدعنوانی گوارا نہیں کرسکتے تھے چاہے وہ بوڑھوں میں ہو یا جوانوں میں۔ ابھی جوانوں کا دل بجھانے والے بوڑھوں کو جس خوش اسلوبی کے ساتھ ان کی تنگ نظری اورذہنی تحجرسے انہوں نے آگاہ کیا ہے اس کو آپ سن چکے ہیں اور نوجوانوں کے حوصلے وہ کس طرح بڑھاتے ہیں۔ اس کی مثال آپ کے سامنے ہے لیکن ایسے برخودغرض نوجوانوں کی بھی تعداد کافی ہے۔ جواپنے آباواجداد کی اصلی عظمت کوتسلیم کرنا کسرشان سمجھتے ہیں جوماضی کے زندہ اور توانا نقوش و آثار کو حقارت سے دیکھتے ہیں اورجواپنی خودسری میں تاریخ اور اس کے تسلسل کی حقیقت کو نہیں مانتے۔ غالب ایسے نوجوانوں کوواضح اورسخت لہجے میں ان کی اپنی بے حقیقتی اوربے اعتباری سے خبردار کرتے ہوئے تنبیہ کرتے ہیں،

    ہر زہ مشتاب و پے جادہ شناساں بردار

    اے کہ در راہ سخن چوں تو ہزار آمدورفت

    پرانے ڈھروں پرچلتے رہنا اورخود اپنے لئے اپنی زندگی کے مطالبات کے مطابق کوئی نئی راہ نہ ڈھونڈناتوکاہلی اورہمت کی پستی کی دلیل ہے لیکن ہمارے اسلاف جوراستے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق بناکر چھوڑگئے ہیں ان کونگاہ میں نہ رکھنا بڑی ہٹ دھرمی اور نالائقی ہے۔ نئے راستے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اچھی طرح جانے اور سمجھے رہیں کہ پرانے راستے کب اورکن حائلات و مزاحم کے درمیان کیسے نکالے گئے اسلاف کے طریقوں کی کورانہ تقلید یقینا مضر اور غلط ہے۔ لیکن ان سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اوراپنے ولولوں اورمنصوبوں کوتقویت پہنچاسکتے ہیں۔

    معاصربوڑھوں کی ایک تیسری جماعت کا بھی ذکرکیاجاچکاہے جوشورہ پشت ہوتی ہے اورکسی طرح نہیں چاہتی کہ نئی نسل اس سے آگے بڑھے اور اس سے بہتر زندگی کے اسباب پیدا کرے۔ یہ جماعت زندگی کی ترقی کے راستے میں مستقل خطرہ ہے اس کوقدامت پرست یا رجعت پسند کہا جاتاہے مگردرحقیقت ایسا نہیں ہے۔ یہ لوگ وہ ساری آسائشیں اپنے لئے مہیا چاہتے ہیں جوجدید سائنسی دور کی پیداوار ہیں لیکن وہ ان آسائشوں کوحاصل کرنے میں جس سعی وپیکار اورجس محنت ومشقت کی ضرورت ہے اس میں حصہ لینا نہیں چاہتے اس لئے کہ وہ اس کی قابلیت نہیں رکھتے۔ غالب بڑی سادگی اور خوش سلیقگی کے ساتھ مگرنہایت قطعی اور صریح اندازمیں ایسے بزرگوں کومخاطب کرکے کہتے ہیں،

    بامن میادیز اے پدر فرزند آذررانگر

    ہر کس کہ شد نظر دین بزرگاں خوش نکرد

    لیکن یہاں بھی ’’صاحب نظر‘‘ ہونے کی شرط لگی ہوئی ہے۔ صاحب نظرہی کو حق حاصل ہے کہ اگرزندگی کے نئے تاریخی میلان واقتضاکے لحاظ سے بزرگوں کے طریقے ناکافی ہوں یا ان میں خامیاں ہوں توان کا احترام کرتے ہوئے ان میں ترمیم و اضافہ کرے یا ان سے یکسر انحراف کرے۔ کم سوادوں اوربے بصروں کویہ حق نہیں پہنچتا۔

    اب آئیے غالب کے عہد اوران کے قریب ترین ماحول پر بھی ایک اجمالی نظر ڈالی جائے اوریہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ ان کے شعور کی بالیدگی اوران کے مزج وکردار کی تربیت میں کن حالات واسباب اورکون سے حوادث وعوامل نے کہاں تک حصہ لیا۔ وہ کس قدر زمانہ سے مجبور ہے اور کس حد تک اپنی انفرادی شخصیت کے زور سے اس سے بلندوبرتر ہوسکے۔

    میں اس بحث سے احتراز کروں گا کہ غالب کس سن میں کس تاریخ کوکس دن اور کس گھڑی پیدا ہوئے۔ یہ بحث میں اپنے ان دوستوں کے لئے چھوڑتا ہوں جو اس کے لئے زیادہ معتبر قابلیت رکھتے ہیں اور جو اس میں نموحاصل کرچکے ہیں اس سلسلے میں جتنی بحثیں ہوچکی ہیں ان کی بنا پر ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ غالب یا تو ۸ رجب ۱۲۱۱ھ مطابق ۸ جنوری ۱۷۹۷ یکشبہ کے روزیا ۸ رجب ۱۲۱۲ ھ مطابق ۲۷ دسمبر ۱۷۹۸چہارشنبہ کے روزپیدا ہوئے لیکن ہمارے لئے تویہ واقعہ ہی عظیم ہے کہ غالب جیسافکر وبصیرت رکھنے والا شاعر پیدا ہوا اورنطم اور نثردونوں میں ایسے ناقابل فراموش کارنامے چھوڑگیا کہ ہم آج تک ان سے متاثر ہورہے ہیں اور جن کا مطالعہ آنے والے ادوار کے شعرا کے دلو ں میں ہمیشہ نیاتخلیقی اہتزازپیدا کرے گا۔

    غالب مختلف پیرایوں میں بارباریہ بات دہراتے رہے ہیں کہ وہ نسلا ترک ہیں اوران کے اجداد کی زبان ترکی تھی۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ برصغیر کے تین ہندی نژاد شعراجن کی عظمت اوربرگزیدگی تاایں دم مسلم ہے قبائل ترک ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ میری مراد امیرخسرو، مزاربیدل اورغالب سے ہے۔ یہ بھی قابل غور اتفاق ہے کہ خودغالب امیرخسرو اور مرزا بیدل کے پرستاروں میں سے تھے او ر دونوں کے فارسی کلام کو مستند اور معیاری مانتے تھے۔

    غالب کواپنے ترک نژاد ہونے پربڑافخر تھا۔ وہ بار بارایک پندار کے ساتھ اس کاذکر کرتے ہیں۔ وہ ترکوں کے ایک سربرآوردہ قبیلہ ایبک سے تعلق رکھتے تھے۔ اس تعلق سے وہ اپنا شجرہ سلاجقہ سے اورپھر سلاجقہ کے واسطے سے افراسیاب اوراس کے باپ پشنگ اورپشنگ کے باپ زادشم سے ملاتے ہیں۔ اس طرح ان کا نسب نامہ تو ر(نورج) بن فریدوں تک پہنچ جاتاہے اوران کا یہ دعویٰ بھی صحیح ہے کہ دودمان جمشید سے ہیں۔

    ایک جگہ غالب اپنے کوسمرقند کا مرزبان زادہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سوپشت سے ان کے آبادکاپیشہ سپہ گری ہے۔ دونوں ہی باتیں صحیح ہیں۔ غالب نے افراسیاب، پشنگ اورزادشم تک اپناشجرہ ذہن میں رکھتے ہوئے سوپشت کہا ہوگا ورنہ ہندوستان میں توخودغالب کوشامل رکھتے ہوئے صرف تیسری پشت تھی۔

    سلجوقیوں کا زوال ملک شاہ سلجوقی کی وفات کے بعدہی شروع ہوگیا۔ اس کے جہاں اندرونی اسباب تھے وہاں بہت سے خارجی اسباب بھی مہیا ہوگئے تھے جو تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ حسن بن صباح کے گروہ فرقہ باطنیہ یا حشیشین کے فتنہ نے اسی وقت سراٹھایا۔ حروب صلیبیہ کاہنگامہ اسی دور میں شروع ہوا۔ اورسب سے بڑی تاریخی مصیبت اسی زمانہ میں نازل ہوئی اور وہ تھا تاتاریوں کا طغیان جس نے مشرق اور مغرب کے اکثرتہذیب یافتہ اورپرامن ممالک کوتہس نہس کرکے رکھ دیا۔

    تاریخ بھی شاہد ہے اورخود غالب کے بیانات سے بھی اندازہ ہوتاہے کہ ملک شاہ کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں میں جوخانہ جنگیاں ہوئیں اس نے سلجوقی اقتدار کی بنیادیں ہلاکررکھ دیں۔ ان بیٹوں میں ایک یعنی برقیارق سے غالب کا نسب نامہ درمیان میں ملتا ہے۔ بہرحال اس زوال اورانتشار کا نتیجہ یہ ہواکہ ایک مدت تک طوائف الملوکی کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس کے بعداتنا بھی نہیں رہااور پھر خود غالب کے بیان کے مطابق سلجوقیوں کے ایک گروہ نے تورہزنی اورلوٹ مارکاپیشہ اختیارکرلیا۔ لیکن ایک دوسرے گروہ نے مرزبانی اورکشادرزی اورسپہ گری کواپنا ذریعہ معاش بنایا اور سمرقند میں بس گیا۔ یہی لوگ براہ راست غالب کے اجداد تھے۔ ان میں سب سے آخری مشہور شخص شہزادہ ترسم خاں تھا جس کوغالب اپنا دادا بتاتے ہں تاریخی کتابوں اور تذکروں میں اس کے مفصل حالات نہیں ملتے۔

    غالب کے دادا مرزاقوقان بیگ بہ قول غالب اپنے باپ ترسم خان سے ناراض ہوکر ہندوستان چلے آئے۔ یہاں غالب کے بعض تحریروں سے ایک تاریخی ابہام پیدا ہوگیاہے۔ سراج الدین احمدکوفارسی میں ایک خط میں بتاتے ہیں کہ مرزاقوقان بیگ سمرقند سے ہندوستان آئے اور لاہورمیں معین الملک کی ہمراہی اختیارکی اور ’’درفش کاویانی‘‘ کی ایک عبارت سے معلوم ہوتاہے کہ ان کے دادا (مرزا قوقان بیگ) شاہ عالم کے عہدمیں سمرقند سے ہندوستان آئے۔ یہ شاہ عالم کون تھا اس کی تخصیص نہیں کی گئی۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد اس کابیٹا معطم بہادرشاہ اول اور شاہ عالم اول کے لقب سے تخت پربیٹھا۔ اس کا عہد حکومت ۱۷۰۸ء سے ۱۷۱۳ء تک رہا۔ دوسرا شاہ عالم ثانی ہے جوعالمگیر ثانی کا بیٹا تھا اور جس کی حکومت ۱۷۶۱ء میں شروع ہوئی لیکن ۱۷۶۴ء میں بکسر کی لڑائی میں شکست کھانے کے بعد مجبورہوگیا کہ انگریزوں کی پناہ قبول کرلے اور تادم مرگ ۱۸۰۶ء تک ان سمندر پاری غاصبوں کا وظیفہ خوار رہے۔ مولانا غلام رسول مہرجوغالبیات میں خاصی پرانی شہرت رکھتے ہیں اپنی کتاب ’’غالب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ نواب معین الملک عرف میر منو نے جن کے پاس غالب کے دادا لاہورمیں ملازم ہوئے تھے۔ نومبر۱۷۵۰ء (محرم ۱۲۶۷ھ) میں وفات پائی۔ یہ شاہ عالم ثانی کی تخت نشینی سے گیارہ سال پہلے کاواقعہ ہے۔ ظاہر ہے کہ مرزاقوقان بیگ اس سے بہت پہلے ہندوستان آچکے ہوں گے۔ مولانا غلام رسول مہر کا خیال ہے کہ وہ محمدشاہ کے عہد میں واردہندوستان ہوئے۔ یہ زیادہ قرین قیاس ہے۔ محمدشاہ ۱۷۱۹ء میں تخت نشین ہوا۔ بہرحال اتنا یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ مرزاقوقان بیگ اٹھارہویں صدی کے اوائل میں ہندوستان آئے۔ ممکن ہے شاہ عالم اول کے آخری زمانہ میں آئے ہوں۔ لاہورراستہ میں پڑتاتھا مسافرت اور بے وطنی کی صعوبتیں زیادہ عرصہ تک نہیں برداشت کی جاسکتیں۔ روزگارکی فکر دامن گیرتھی اس لئے سب سے پہلے جوموقع ملا اس کو غنیمت سمجھا اور نواب معین الملک کی ملازمت قبول کرلی اور نواب کی وفات تک حق نمک اداکیا۔

    نواب معین الملک کی وفات کے بعد پنجا ب میں ابتری پھیل گئی تو مرزا قوقان بیگ لاہور سے دہلی چلے آئے۔ شاہ عالم کی تخت نشینی کے بعدذوالفقار الدولہ مرزا نجف خان ان کے مشیرہوگئے اور سارے امورواختیارات انہیں کے ہاتھ میں آگئے۔ مرزانجف خان ایران کے شاہی خاندان صفوی سے تھے۔ ہندستان آکرپہلے وہ شجاع الدولہ کی خدمت میں رہے۔ کچھ دنوں بعد میرقاسم صوبیدار بنگال کے ملازم رہے۔ بکسر کی لڑائی کے بعد آخر میں شاہ عالم کے ساتھ دہلی چلے آئے۔ وہ جوہر شناس تھے۔ مرزاقوقان بیگ کوانہوں نے اعلیٰ منصب دیا اورپہاسو کی جاگیران کی کفالت کے لئے مقررکردی۔

    مرزاقوقان بیگ کی اولاد میں دوشخص ہمارے لئے خصوصیت کے ساتھ اہم ہیں۔ غالب کے والدمرزا عبداللہ بیگ اورچچامرزا نصراللہ بیگ جنہوں نے بھائی کی وفات کے بعد اپنے بھتیجے کی پرورش کی ساری ذمہ داریاں اپنے سرلے لیں اور پانچ سال کے بچے کویہ نہ محسوس ہونے دیاکہ باپ کا سایہ سرسے اٹھ گیاہے۔ عبداللہ بیگ اور نصراللہ بیگ دونوں اپنے قدیم آبائی پیشہ یعنی سپہ گری میں منہمک رہے اور اس میں نام پیدا کیا۔ عبداللہ بیگ کچھ دنوں آصف الدولہ کے ملازم رہے اور فوجی خدمات انجام دیتے رہے۔ کچھ دنوں حیدرآباد میں قسمت آزمائی کرتے رہے۔ آخرکارآگرہ چلے آئے جہاں ان کی خواجہ غلام حسین خان کی لڑکی سے شادی ہوچکی تھی۔ وہ اپنی سسرال ہی میں رہے اور یہیں سے راجہ بختاورسنگھ کے پاس ملازمت کی امید لے کر الور گئے مگروہاں سے ناکام لوٹنا پڑا۔ راستہ میں ایک باغی زمیندار کی سرکوبی کے لئے راجہ نے جوفوج بھیجی تھی اس میں یہ بھی اپنے رسالہ کے ساتھ شریک ہوگئے اور راج گڑھ میں دشمن سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔

    نصراللہ بیگ مرہٹوں کی طرف سے اکبرآبادکے صوبہ دارتھے۔ جب جنرل لیک نے مرہٹوں کوشکست دی تونصراللہ بیگ نے قلعہ کی کنجی اس کے حوالہ کردی۔ صوبہ داری کمشنری میں تبدیل ہوگئی توکمشنر انگریزمقرر ہوا اورنصراللہ بیگ کا مستقبل دھندلا نظرآنے لگا۔ خیریت یہ ہوئی کہ فیروزپور جہرکہ اور لوہارووالے نواب احمدبخش خان کی بہن مرزانصراللہ بیگ سے منسوب تھیں۔ انگریزوں میں بڑا سول اعتمادرکھتے تھے۔ ان کی سفارش پرلارڈلیک نے نصراللہ بیگ کوانگریزی فوج میں چارسو سوار کے ساتھ رسالداری کے منصب پرمامور کردیااور آگرہ کے نواح میں سونک اورسونسا کے دوپرگنے ذات اوررسالہ کے خرچ کے لئے حین حیات مقرر کردیئے لیکن ابھی غالب نے زندگی کے نوسال ہی دیکھے تھے کہ یہ شفیق چچا بھی لارڈلیک کے ہمراہ لڑائی میں ہاتھ سے گرکرشہیدہوگیا۔

    غالب بار باراپنی خاندانی شرافت وجلالت کاذکر فخر کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کا یہ فخر بے جانہیں ہے۔ دادھیال اورنانہال دونوں میں مرزبانی اور سپہ گری کا پیشہ پشت ہاپشت سے چلاآرہا تھا اوردولت وثروت شکوت وسطوت دونوں گھرانوں کی کنیزیں تھیں لیکن آباواجداد کا وہ صدسالہ پیشہ جس پرغالب کواتنافخر تھا ہندوستان میں صرف دوپشت تک چل سکا۔ پھرنہ سپہ گری رہی نہ مرزبانی اورغالب لاکھ اس سے بے نیازی کا اظہارکریں ہم یہ کہنے کے لئے مجبورہیں کہ شاعری ہی ان کے لئے ’’ذریعہ عزت‘‘ رہی اورآج ہم کوبھی ان کی شاعری پرفخر ہے اس لئے کہ شاعری بھی ان پر فخر کرتی ہے۔ غالب نے شاعری میں جوعظمت حاصل کی وہ اس عظمت سے زیادہ اہم اورموثر اورپائیدار ہے جوان کے مورثوں نے مرزبانی اورسپہ گری میں حاصل کی۔ آج ہم غالب کے آباواجداد کوغالب کے حوالہ سے جانتے ہیں، آباواجداد کے حوالہ سے غالب کو نہیں جانتے۔ حالات جلد جلدبدل رہے تھے۔ ہندوستان کی غلامی کے اسباب جڑپکڑکر مضبوط ہوچکے تھے۔ مسلمانوں کے زوال کاکوئی تدارک نہیں تھا۔ اندرونی اوربیرونی عوامل اس تہذیب کوجڑسے اکھاڑچکے تھے جومسلمانوں کی دین تھی۔ غالب کو اس کا شدیداحساس تھا جو رہ رہ کر ان کے دل میں کسک پیداکررہاتھا لیکن وہ مجہولیت اورانفعالیت کا شکارہوکر نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ صاحب ہنرتھے اورخلاق ذہن رکھتے تھے۔ تلوار اور تیر کا پیشہ خاندان سے جاتارہا توانہوں نے قلم کواپنا ایسا فن بنایا کہ وہ نہ صرف ان کے لئے بلکہ آج تک ہمارے لئے نازش وافتخار کا سبب ہے۔ غالب خود اس کا بڑے پندار سے اظہارکرتے رہے ہیں۔ ’’مہرنمیروز‘‘ کے دیباچہ میں ایک رباعی میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ کہا ہے کہ کس طرح ان کے اجداد کا ٹوٹاہوا تیر ان کے لئے قلم بن گیا۔

    غالب بہ گہر ز دودہ زاد شمم

    زاں روبہ صفائے دم تیغ است دمم

    چوں رفت سپہدی زدم چنگ بہ شعر

    شدتیر شکتہ نیاں گاں قلمم

    بہادرشاہ ظفرکی شان میں ایک فارسی قصیدہ لکھا ہے اس میں ایک جگہ کہتے ہیں،

    سلجوقیم بہ گوہر و خاقانیم بہ فن

    توقیع من بہ سنجر و خاقاں برابر است

    اسی خیال کوغزل کے ایک شعر میں یوں ادا کرتے ہیں۔

    افسر از تارک ترکان پشنگی بردند

    بہ سخن ناصیہ فرکیانم دادند

    لیکن مبصروں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ر ہ سکتی کہ غالب کی فکریات میں ایک مجاہدانہ میلان پایاجاتاہے اور ان کا شیوہ گفتار ایک ترکانہ انداز لئے ہوتاہے۔ یہ شاعر کا آبائی ترکہ ہے۔

    جس ماحول میں عالب نے تربیت پائی اورجن حالات وموثرات میں ان کا شعور بالغ ہوا ان پراجمالی نظرڈالنے سے ہم کویہ بھی اندازہ ہوجاتاہے کہ کہ جس زمانہ میں غالب پیدا ہوئے اس سے پہلے اوراس کے بعد ملک کس عبوری دور سے گزررہاتھا اور کیسے کرب وتشنج میں مبتلاتھا۔ اس پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے۔

    سترہویں صدی کے اواخر تک اس برصغیر میں جس کوایک چوھائی صدی پہلے ہندوستان کہتے تھے اورجواب ہندوپاک کہلاتی ہے مسلم طاقت اپنی حد کمال تک پہنچ چکی تھی اوروہ تہذیب جوعام طور سے ہندومسلم تہذیب کہلاتی ہے لیکن جودراصل آریائی سامی تہذیبوں کے امتزاج کی پیداوارہے نقطہ عروج یا سمت راس پرتھی لیکن زندگی متناقص الاصل حقیقت ہے۔ ضد اس کامزاج ہے۔ ثنویت یا دوئی اس کے خمیر میں ہے۔ دنیا میں اب تک کوئی مذہب ایسا نہیں آیا جو یزداں واہرمن خیروشر، نوروظلمت دومتضاد قوتوں کے تصور سے پاک ہو۔ ہم کو کسی نہ کسی حد تک تاریخی جبریت کوتسلیم کرناپڑتاہے۔ ہرتعمیر میں خرابی کی ایک صورت مضمر ہوتی ہے۔ مگریہ خرابی مقصودبالذات نہیں ہوتی بلکہ تعمیر نو کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ تکوین وفساد، تشکیل و انتشار، ترکیب وتحلیل ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ یہی جدلیت تخلیق کی اصل فطرت ہے جس کا دوسرا نام تاریخ ہے۔

    ہاں تواٹھارہویں صدی کے ابھی دس سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ تمام عفریتی قوتیں جواب تک سخت بندھنوں میں جکڑی ہوئی تھیں مگرتاک لگائے بیٹھی تھیں۔ یکایک آزادہوکر اس دولت تیموریہ کی سالمیت کوتہس نہس کرڈالنے کے درپے ہوگئی ہیں جوہمارے برصغیر میں مسلم طاقت اورمسلم ثقافت کی آخری وارث اور امانت دارتھی اور جس نے اس ثقافتی ترکہ کونت نئے اکتسابات سے مالامال کرکے دوسوسال سے کم عرصہ کے اندربام عروج تک پہنچا۔

    سلطنت تیموریہ کے زوال کو صرف برطانوی سامراج کی بڑھتی ہوئی طاقت کا نتیجہ سمجھنا ایک عادت سی ہوگئی ہے۔ اگرہم صرف بیرونی اسباب وعوامل کو مسلمانوں کے زوال کا ذمہ دار قرار دیں تویہ مانتے ہوئے کہ ان میں سب سے زیادہ قومی اورپائیدار سبب برطانوی سامراج ہے۔ ہم نادرشاہ اوراحمدشاہ ابدالی کو کبھی نہیں بھلاسکتے جن کے حملوں نے ملک کی متزلزل سلطنت کوجڑسے اکھاڑ دینے میں کوئی دقیقہ اٹھانہیں رکھا۔ لیکن یہی ساری حقیقت نہیں ہے۔ اندرونی خرابیاں ملک کی سیاسی اورتہذیبی سالمیت میں فساد اور انتشارپیداکرنے کے لئے بہت پہلے سے کام کررہی تھی۔ وہ تو اورنگ زیب کی جیداورجابر شخصیت تھی جوان سارے فتنوں کو سراٹھانے سے باز رکھے ہوئے تھی۔

    لیکن اورنگ زیب کی وفات کے بعدبہادرشاہ اول سے بہادرشاہ ثانی تک کیا سے کیا ہوگیا۔ جس تہذیب اور جس معاشرہ کوپونے دوسوسال کی مدت میں چھ عظیم حکمرانوں نے پروان چڑھایا وہ ٹھیک ڈیڑھ سوسال میں نوحکمرانوں کے عہد میں پژمردہ اوربے جان ہوکر رہ گیا۔ انگریز نے ہم کوکس طرح پامال کیا اس سے پہلے ہم کو یہ سوال کرناچاہئے کہ خود ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا۔ بیگانے کی شکایت بعدکوکیجئے۔ پہلے ان کی خودغرضیوں اورغداریوں کا جائزہ لیجئے جو اپنے بنے تھے۔

    اورنگ زیب کی آنکھ بند ہوتے ہی کہیں نسلی کہیں صوبائی تعصبات کے پردے میں ذاتی مفادپرستی نے زورپکڑنا شروع کیا۔ ہرصوبیدار یہ کوشش کرنے لگا کہ دل سے برائے نام وفاداری قائم رکھتے ہوئے حقیقتا اپنے صوبہ کو آزاد اورخودمختار کرلے۔ چنانچہ نصف صدی کے اندرملک کے وسیع ترین تین صوبے بنگال، اودھ اور دکن خودمختار ہوگئے اورصرف برکت کے لئے دلی سے اپنا تعلق قائم رکھا۔ اسی زمانہ میں مرہٹوں نے دلی کی بادشاہت پرقبضہ جمانا چاہا اورکچھ عرصہ تک بادشاہ دہلی کو اپنے قابومیں کرکے وہ اپنے منصوبہ میں کامیاب بھی رہے۔ آخرکار انگریزوں نے ان کا قلع قمع کردیا۔ پنجاب میں اور سرحدپرسکھوں نے اپنا اقتدار جمارکھاتھا اورانگریزوں کی حمایت حاصل کرکے مسلمانوں کواپنے مظالم کا نشانہ بنائے ہوئے تھے ان کی درازدستیاں اتنی بڑھ گئیں کہ آخرکارشاہ عبدالعزیز کو سکھوں کے خلاف جہاد کافتوی دیناپڑا اور سید احمدشہید اوراسماعیل شہید اوران کے بے شمار اشاگرد ایک مضبوط فوجی جماعت منظم کرکے سکھوں کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان جنگ میں اترآئے سکھوں کے پاؤں اکھڑرہے تھے۔ پشاو رمجاہدوں کے قبضہ میں آگیاتھا۔ سندھ پنجاب اورافغانستان میں سکھوں کے خلاف خروش پھیل رہاتھا لیکن دشمن نے رشوت سے بہت سے مجاہدوں ہی کو غداری پرآمادہ کرلیا اور پھرانگریزوں سے فوجی مدد مانگی جوفورا پہنچ گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بالاکوٹ کے مقام پر مسلماونں کوشکست ہوئی اورسید احمد اورشاہ اسماعیل کے ساتھ کئی دوسرے سربرآوردہ مجاہدلڑتے ہوئے شہیدہوگئے۔ اس کے بعد سکھ ہمیشہ انگریزوں کے حلیف اور حامی رہے۔ صرف انیسویں صدی کے وسط میں چندسال تک سکھوں اور انگریزوں کے درمیان لڑائیاں رہیں۔ انہیں ایام میں روہیلوں نے اپنے علاقہ میں آزاد حکومت قائم کرناچاہی۔ جاٹ الگ اپنی طاقت کوفروغ دینے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ راجپوت اپنے کومنظم کرکے دلی کی مرکزیت سے آزادہوگئے تھے۔ ان انتشارپیدا کرنے والی قوتوں میں بیشتر انگریزوں کی حمایت حاصل کرنے پرمجبور تھے اور جس جس نے سرکشی کی وہ انگریزوں کے ہاتھوں پسپا ہوئے اوران کوبھی آخر میں انگریزوں سے مصالحت کرناپڑی۔ یہ اورنگ زیب کی وفات کے بعد سے انیسویں صدی کی پہلی تین دہائیوں تک کی رودادہے۔

    غیرملکی سامراج اوراس کے استبداد کارونارونے سے پہلے ہم کو ٹھنڈے دل سے یہ سوچناچاہئے کہ خودہم نے اپنے ساتھ کیاکیا۔ اپنی ملی اور تہذیبی سالمیت کوکس طرح پراگندہ کرکے رکھ دیا۔ یہ سوچنا بہت ضروری ہے اوراس نکتہ پرسنجیدگی کے ساتھ غور کرنے سے آج بھی ہم بہت بڑا سبق سیکھ سکتے ہیں۔ انگریز نے وہ کیا سوچ کروہ گھر سے نکلاتھا، جواپنے مقصداور مفاد کے لئے ایک بدسگال طاقت کو کرناچاہئے لیکن اگرخودہم میں کمزوریاں اندرونی طورپر نہ آگئی ہوتیں، اگرخود ہم نے اپنی جمعیت کوبکھیر کررکھ نہ دیا ہوتا تو کوئی بیرونی طاقت ہم پر غالب نہیں آسکتی تھی۔

    انگریزسوداگربحری سفرکے تمام خطرات جھیلتا ہوا ہمارے برصغیر میں تجارتی مراعات حاصل کرنے کی غرض سے وارد ہوا۔ یہ اکبر کے عہد حکومت کے اواخر کی بات ہے۔ کئی سال تک وہ سرگرداں رہااور اس کواپنے مقصد میں کامیابی نہ ہوسکی۔ بڑی قباحتوں کے بعدانگریز سفیر سرطامس روجہانگیر کے دربار میں تین سال رہ کر ایسٹ انڈیاکمپنی کوسورت، احمدنگراورآگرہ میں کارخانے کھولنے کی اجازت دلواسکا۔ کچھ عرصہ کے اندر جنوبی مشرقی ساحل پربھی تجارتی حقوق مل گئے۔ بنگال کے علاقہ میں بھی ہگلی کے مقام پر جہانگیرہی کے زمانہ میں انگریزوں نے اپنا تجارتی دفترکھول رکھاتھا۔ شاہ جہاں کے زمانہ میں بھی سلطان شجاع کی عنایت سے کمپنی نے ایک فرمان جاری کرلیا جس کی رو سے اس کوبنگال میں مال درآمد وبرآمد کرنے کی سہولتیں مہیا ہوگئیں۔ اس کے لئے کمپنی کوایک معمولی سالانہ رقم شاہی خزانہ میں داخل کرناپڑتی تھیں۔ اب تک یہ سارے اقدامات تجارتی تھے، لیکن پچاس سال کے اندریہ انگریز سوداگرپرپرزے سے نکالنے لگا اورہم پریہ حقیقت ظاہرہونے لگی کہ وہ بظاہرسوداگر کی غر ض سے مگر دراصل سیاسی مقاصد اوراستعماری منصوبے لے کر ہمارے ملک میں داخل ہواہے۔ اس سال کی علامتیں اورنگ زیب ہی کے زمانے میں ظاہر ہونے لگی تھیں۔ ابھی اورنگ زیب کوتخت پربیٹھے ہوئے مشکل سے تین سال ہوئے تھے کہ کمپنی کے ارباب وحل وعقد نے مغل سرکار سے انحراف کا ثبوت دینا شروع کیا۔ بمبئی کے گورنرنے کمپنی کے ڈائریکٹروں کولکھا کہ ’’اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی تجارت کا انتظام ہاتھوں میں تلوار لے کر کریں۔‘‘ یہ تجویز سب نے پسندکی۔ اسی بدلی ہوئی حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ ۱۶۸۸ء میں بمبئی اوردوسری بندرگاہوں کوگھیرکرکمپنی کے حکام نے سرکاری جہازوں کوجوحاجیوں کومکہ شریف لے جارہے تھے پکڑلیا۔ وہ یہ بھول بیٹھے کہ دلی کے تخت پراورنگ زیب جیسا بادشاہ بیٹھا ہوا ہے جو کسی قسم کی سرکشی برداشت نہیں کرسکتا۔ اورنگ زیب نے کمپنی کواس دست درازی کی سخت سزا دی اورکمپنی کوغیرمشروط معافی نامہ مغل سرکار کے حضو رمیں پیش کرناپڑا۔ کمپنی نے سات سرکاری جہاز آزاد کردیئے اورڈیڑھ لاکھ روپے تاوان دیئے۔ بادشاہ نے کمپنی کا جرم معاف کردیا اور اس کے تجارتی حقوق بحال کردیئے۔

    بنگال میں اسی زمانہ میں احسان فراموش کمپنی نے سرکشی شروع کی۔ باوجود اس کے شائستہ خاں نے اس کومعمولی رسوم سے بھی مستثنی کردیاتھا۔ اس کے سر میں یہ ہواسمائی کہ اپنی طاقت سے اپنی حفاظت کرناچاہئے۔ اس غرض سے اس نے ہگلی میں ایک فوجی حصار تعمیر کرلیا اورہگلی کی آبادی اورشاہی قلعوں پرحملے کرنے لگے۔ اورنگ زیب نے اس فتنہ کی بھی سرکوبی کی۔ لیکن یہاں بھی جب کمپنی نے معافی مانگی تواس کو نہ صرف معاف کردیاگیا بلکہ عفو وعطا کے جوش میں مزیدتجارتی مراعات دی گئیں۔ نہ جانے وہ کون سی ساعت تھی جبکہ ۱۶۹۸ء میں کمپنی نے بنگال میں تین مواضع کے حقوق زمینداری حاصل کرلئے۔ ان میں ایک موضع کالی گھاٹ تھا جس کوانگریزوں نے بگاڑکرکلکتہ کردیا۔ یہ نام ایسا مشہور ہوا کہ آج تک عوام اس کے اصلی نام سے واقف ہیں۔ ہاں تویہی برصغیر ہند پاک میں دولت تیموریہ کے انتہائی عروج کی تاریخ ہے اوریہی برطانوی سامراج کے سنگ بنیاد کی تاریخ ہے۔ اس کے بعدکمپنی نے اپنی طاقت کوبنگال میں مجتمع کرناشروع کیا اورکلکتہ کواپنافوجی مرکزبناکر سارے ہندوپاک میں سامراجی اقتدار قائم کرنے کے لئے ریشہ دوانیاں شروع کیں۔

    اس کے بعد کی داستان ملک میں برطانوی استعماریت کے تدریجی تسلط کی داستان ہے جس سے کسی نہ کسی حد تک ہم واقف ہیں۔ اورنگ زیب کے جانشین کمزور سے کمزور تر ثابت ہوتے گئے۔ وزرا اورامرامیں خودغرضی، عیش کوشی اورباہمی منافقت اور سازش آتی گئی۔ اعیان دربار کو اس کی بالکل فکرنہیں رہی کہ سیاست ملی کا شیرازہ بکھررہاہے اور مسلم سلطنت اورتہذیب کی سالمیت اور مرکزیت خطرہ میں ہے۔ وہ بس ذاتی مفاد اوربہبود کی تاک میں رہنے لگے اور آپس میں جھگڑنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگی اورجیسا کہ اشارہ کیاجاچکا ہے۔ ہرصوبیدار اپنے صوبہ میں آزادحکومت قائم کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ یہی نہیں کیا بلکہ ہرصوبہ اپنے ہمسایہ صوبوں سے آمادہ پیکار رہنے لگا۔ اس کے لئے بسااوقات انگریز سے فوجی مدد مانگی جانے لگی اورانگریز بڑی مستعدی سے کبھی ایک صوبہ کی کبھی دوسرے صوبہ کی مددکرتا رہا۔ ہم آپس میں لڑتے رہے اور انگریزلڑنے میں ہماری مددکرتا رہا۔

    قصہ مختصر جوں جوں زمین ہموار ہوتی گئی انگریز اپنے سامراجی اقتدار کوپھیلاتا رہا اور اس کومضبوط ومستحکم بناتا رہا۔ ۱۷۵۷میں پلاسی کی جنگ نے اور ۱۷۶۴ بکسر کی جنگ نے فیصلہ کردیا کہ اب ملک ایک غیرملکی طاقت کی گرفت میں آچکاہے اورپرانا سیاسی نظام اورپشت ہاپشت کاپروردہ معاشرہ دم توڑچکاہے۔ پلاسی کی شکست کوتو ہم اپنوں کی سازش اورغداری سے منسوب کرسکتے ہیں لیکن بکسرمیں میرقاسم نواب بنگال، شجاع الدولہ، نواب اودھ اوربادشاہ شاہ عالم ثانی کی متحدہ طاقتوں کی شکست انگریزوں کی عسکری فوقیت اوران کے احتیال سیاسی اورتدبر کی برتری کی ناقابل تردید علامت ہے۔ کلائیو جب اپنے ملک کو واپس گیا تو وہ اس ملک میں انگریزی راج کی بنیاد اس طرح راسخ اور مضبوط کرچکا تھا کہ وہ جلدمتزلزل نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے بعد کے بیس اکیس سال صرف برطانوی اقتدار واختیارکی توسیع وترقی کادورہے۔ اس دوران میں نظام دکن انگریزوں کا حلیف ہوچکا تھا۔ سکھ انگریزوں کے ساتھ تھے۔ روہیلہ طاقت سلب ہوچکی تھی۔ اودھ کی معزولی کواگرچہ ابھی نصف صدی سے زیادہ مدت باقی تھی لیکن جملہ عملی مقاصد اورمفادات کاجہاں تک تعلق ہے اودھ کانواب انگریزوں کے شکنجہ میں تھا۔ راجپوت اب اس قابل نہیں رہ گئے تھے کہ کبھی کمپنی کے خلاف سراٹھاسکیں۔ غرض کہ ۱۷۹۸ء میں جب لارڈولزلی گورنرجنرل ہوا توملک میں برطانوی احتکارواستحصال جڑپکڑچکاتھا۔ یہی زمانہ عالب کی پیدائش کا ہے۔ پھرایک چوتھائی صدی انگریزوں کے اطمینان واستقلال اورامن سکون کا زمانہ ہ جس میں وہ برابر اپنی قوت کومجتمع اور وسیع سے وسیع تر کرتے رہے۔

    ۱۸۲۴ء سے ۱۸۵۷ء تک انگریزوں کے لئے پھر اضطراب اوربے اطمینانی کا دوررہا۔ اگرچہ اس دور میں بھی ان کے اختیارات بڑھتے اورپھیلتے ہی رہے لیکن اب ان کے لئے وہ چین نہیں رہا۔ انگریزی برمی جنگ اسی دوران میں ہوئی مجاہوں سے محاربہ اسی زمانہ میں ہوا۔ افغانوں کے ساتھ پہلی لڑائی انہیں دنوں میں ہوئی۔ سندھ پرقبضہ اسی دوران میں ہوا۔ سکھوں سے دومختصر مقابلوں کا یہی زمانہ ہے۔ آزادی کی کچھ تحریکیں بھ شدت کے ساتھ اس دور میں چلتی رہیں۔ بالاکوٹ کی شکست کے بعد بھی دہائی تحریک پشاور سے کلکتہ اور ڈھاکہ تک زورپکڑتی رہی۔ انیسویں صدی کی پہلی ہی دہائی میں حاجی شریعت اللہ نے ہندوستان کودارالحرب اورجماعت کی نماز کوممنوع قرار دے دیاتھا۔ کچھ ہی دنوں بعدانہوں نے فرائضی تحریک چلائی۔ ان کے بیٹے اورجانشین دودھومیاں نے مشرقی بنگال میں اس تحریک کوقومی اور شدید اورمقبول عوام بنایا اور اس کوباقاعدہ منظم کیا۔ انہوں نے پورے مشرقی بنگال کوحلقوں میں تقسیم کرکے ہرحلقہ کے لئے ایک خلیفہ نامزدکیا اور غیرسرکاری طورپر سارے علاقہ کا انتظام اپنی جماعت کے ہاتھ میں دے دیا۔ انگریزوں کی حمایت اور حفاظت میں ہندوزمیندارغریب مسلمان کسانوں پر جوجبرتشدد کررہے تھے اس کی سخت مخالفت شروع کی اور لگان نہ دینے پراصرارکیا۔ جگہ جگہ زمیندار اورکاشتکار میں ٹکراؤہونے لگا۔ جواکثربلوے کی صورت میں رونما ہورہاتھا۔ اس تحریک کوسید احمدشہید کے ایک مرید نثارعلی نے اور بھی تقویت دی۔ موپلوں اور سنتالون کی بغاوت پہلی جنگ آزادی کے سے چندہی سال پہلے کی بات ہے۔ اودھ کا الحاق اس جنگ آزادی سے صرف ایک سال پیشتر کا واقعہ ہے اورپھر ۱۸۵۷ء سے ۱۸۵۸ء تک کشت وخون اور لوٹ مار کا جو بازارگرم رہا اس کی روداد سے ہم اچھی طرح واقف ہیں۔

    یہ تھی وہ فضا جس میں غالب نے آنکھیں کھولیں، بالغ ہوئے اورآزمائشوں کی زندگی بسرکی۔ وہ کس مزاج وکردار کے آدمی تھے؟ اس کی طرف مقالہ میں کافی وضاحت کی جاچکی ہے۔ اب ذرایہ بھی دیکھ لیاجائے کہ ان حوادث کے درمیان ان کاردعمل کیاتھا۔ غالب کوسلطنت معلیہ اور اس کی پروان چڑھائی ہوئی ثقافتی میراث کے ضائع ہوجانے کابڑا قلق تھا ان کے خطوط سے اس کا بہت صاف اندازہ ہوتاہے۔ ایک اردوقطعہ بھی اس کا بین ثبوت ہے جس کاپہلا شعر یہ ہے،

    بس کی فعال مایرید ہے آج ہرسلحشور انگلستاں کا

    لیکن غالب صرف قلق کرکے یاہاتھ مل کررہ جانے والوں میں سے نہیں تھے۔ بیدل ہم کویہ تعلیم دے گئے ہیں کہ انسان ناامیدیوں کا شکار ہوکرنہیں رہ سکتا۔ کہتے ہیں،

    دل رم آرزومشکل بود محبوس نومیدی

    کہ سنگ ایں جا شر رمی گردد از وحشت کمینیہا

    یا

    شوق و اماندگی نصیب مباد

    دل افسردہ نالہ دگر است

    غالب کا بھی ایک شعر ہے جو اردوشاعری کی کائنات میں ایک بالکل نئی تخلیق ہے اور جس میں انسان کی فطرت کے اسی نکتہ کو بیان کیاگیاہے،

    نہ لائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی

    کف افسوس ملنا عہد تحدید تمنا ہے

    گزشتہ چالیس پینتالیس سال سے اہل تحقیق اور ارباب تنقید میں ایک یہ میلان عام ہوگیاہے عظیم شخصیتوں کی زندگی یا ان کے کردار میں نقائص ڈھونڈے جائیں اور ان کی عظمت میں رخنے پیداکئے جائیں اورا س طرح خوداپنے کو منفرد اورممتاز ثابت کریں۔ اس تحقیری تحقیق اور تعریضی تنقید سے محفوظ نہیں رہے ویسے توان کے زمانہ میں ان پر اعتراضات ہوتے رہے لیکن ان کا لہجہ غیرمودب یا غیرمعتبرہونے پاتاتھا۔ آج غالب پرتنقید کرتے ہوئے کبھی کبھی ہمارا اندازصرف تنقیصی ہوجاتاہے بلکہ صاف عدم احترام کامیلان لئے ہوئے ہوتاہے۔

    غالب مقروض رہتے تھے۔ غالب شراب پیتے تھے۔ غالب نماز نہیں پڑھتے تھے، روزے نہیں رکھتے تھے۔ ماہل کی زندگی سے پناہ مانگتے تھے۔ یہ ان لوگوں کے عائد کئے ہوئے اعتراضات ہیں جن میں اکثرخود بھی انہیں علتوں میں مبتلا ہیں۔

    غالب کی پرورشی بڑے لاڈ پیار کے ساتھ ہوئی تھی اوران کا لڑکپن نعمتوں اورفراغتوں میں گزرا تھا۔ دادھیال اورنانہال دونوں طرف سے امیرزادے تھے۔ ایسے لڑکے عموما بدراہ ہوجاتے ہیں اور غالب نے بھی شروع میں بدعنوانیاں کیں لیکن بہت جلدسنبھل گئے۔ ان کی تیزبصیرت زمانہ کی ابتری کوبڑی عبرت کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔ پھردلی آکر ان کوبڑی سے بڑی برگزیدہ ہستیوں کی صحبت نصیب ہوئی جن سے انہوں نے جلاحاصل کی اوریہ ہستیاں غالب کے ساتھ شفقت اورعزت کا برتاؤ کرتی تھیں۔ ان موثرات نے غالب کوبہکنے نہیں دیالیکن اپنی سرشت کوکیاکرتے۔ حوصلہ مندطبیعت اورکشادہ ہاتھ رکھتے تھے اوراب وہ فارغ البالی کا زمانہ نہیں تھا۔ خرچ آمدنی سے زیادہ تھا، قرض نہ لیتے تو گزارہ کیسے ہوتا۔

    غالب شراب پیتے تھے، ہاں صاحب پیتے تھے پھر،

    ’’وہ کون تھا جو خرابات میں خراب نہ تھا‘‘

    غالب نے اس کو کبھی نہیں چھپایا بلکہ جتنی شراب پیتے نہیں تھے اس سے زیادہ اس کا ذکر کرتے تھے۔ غالب نے اپنی شراب نوشی کی وجہ یہ بتائی ہے،

    مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو

    یک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے

    اس شعر میں جو لفظ سب سے زیادہ قابل لحاظ ہے ہ ’’یک گونہ‘‘ ہے۔ غالب اپنے ظرف کی مناسبت سے اپنے لئے ایک مقدار مقررکئے ہوئے تھے۔ وہ کبھی بدمست ہوکر بہکنے نہیں اورنہ کبھی اپنے ساتھ دوسروں کو شراب پینے کی ترغیب دی وہ جوکچھ تھے اپنے لئے تھے۔ وہ گناہ وثواب کے رازسے واقف تھے اورانسان کی کمزوریوں کوانسانی سطح سے دیکھتے تھے۔ ایک تاجیک شاعر نے مرزابیدل کے بارے میں جوکچھ کہا ہے وہی ہم غالب کے بارے میں کہیں گے۔

    نہ صوفی بود نہ ملا نہ بے توفیق روحانی

    فقط می کرد برد نیانگہ با چشم انسانی

    غالب پرآج کل ایک عام اعترا ض یہ ہے کہ وہ انگریز حکام کی خوشامدیں کرتے تھے۔ ان کی شان میں قصیدے لکھتے تھے۔ یہ کوئی بڑا جرم نہیں ہے۔ روزگا رکی تلاش یا وظیفے کی طلب میں آج ہم آپ بھی یہی کریں گے۔ ہاں عنوان بدلا ہوا ہوگا۔ غالب کے ۶۴ فارسی قصائد میں صرف سترہ قصیدے اوراردو کے معدودے چندقصیدوں میں صرف دوپھیکے قصیدے انگریزوں کی مدح میں ملتے ہیں۔

    لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ غالب ہٹ دھرم نہیں تھے حق شناس تھے۔ ان کوغم تھا کہ ملکی معاشرہ اور تمدن درہم برہم ہورہاہے۔ لیکن ان کویہ بھی احساس تھا کہ روایتی نظام زندگی میں تعفن کی حد تک ٹھہراؤ پیداہوگیاہے اور اس کے اندربقا اورترقی کے آثار باقی نہیں ہیں۔ برخلاف اس کے وہ انگریزوں کی ہنرمندیاں دیکھ رہے تھے اور ان کے اجتہاد و ایجاد پرعش عش کرتے تھے۔ انہوں نے اسی ملک میں کیسے کیسے اسباب ترقی مہیاکئے ہیں۔ غالب نے ان کواس تفریظ میں گنایاہے جو سرسید کی شائع کردہ آئین اکبری پرلکھی گئ ہے۔ ظاہر ہے کہ انگریزوں نے یہ سب کچھ اپنی سامراجی بہبود کے لئے کیا۔ لیکن وہ ہمارے لئے بھی خیروبرکت کا ذریعہ بن گیا۔ غالب چونکہ آئین ریاکے دشمن تھے اور مردہ پرستی کی فطرت کے خلاف تھی اس لئے دشمن کے اکتسابات کا بھی دل سے اعتراف کرتے تھے اورہمارے دل میں نیاولولہ اورنشاط کارپیدا کرناچاہتے تھے۔

    غالب اپنے مراسلات ومکالمات اوراپنے فارسی اور اردو اشعار میں بارباراپنی آزادگی اور آزادی پرناز کرتے ہیں اوریہی ان کی شخصیت کا اصلی جوہر ہے۔ ایک جگہ کہتے ہیں،

    بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود میں ہیں کہ ہم

    الٹے پھر آئے درکعبہ اگر وا نہ ہوا

    ایک فارسی شعر میں مبارز طلبی کے اندازمیں کہتے ہیں،

    بسوز غالب آزادہ را وباک مدار

    بشرط آں کہ تواں گفت نامسلمانانش

    یہ بہت بڑی للکارہے۔ غالب اپنے کومسلمان سمجھتے ہیں اور اگر کسی کواپنے مسلمان ہونے پراصرار ہے تو اس کو نامسلمان کہتے ہوئے بڑے سے بڑا مفتی اپنی زبان میں لکنت محسوس کرے گا۔ تکفیر بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔

    ایک اردوشعر میں غالب اپنے کوکھلے الفاظ میں ’’آزاد مرد‘‘ کہتے ہیں اور اس کے صلہ میں خدا سے اپنی مغفرت چاہتے ہیں اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردو شاعری کی دنیا میں غالب سے بڑا مرد آزاد پیدا نہیں ہوا۔ یہی پراعتماد اور بے درنگ آزادی ہے جو غالب کو زمانہ سے بلند کئے ہوئے ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے