- کتاب فہرست 184416
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
-
ادب اطفال1921
-
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
-
اختر حسین رائے پوری کے افسانے
جسم کی پکار
اسلم کی آنکھ دیر سے کھل چکی تھی لیکن وہ دم سادھے ہوئے بستر پر پڑا رہا۔ کمرے کے اندر بھی اتنا اندھیرا نہ تھا جتنا کہ باہر۔ کیوں کہ دنیا کہا سہ کے کا فوری کفن میں لپٹی ہوئی تھی تاہم اکا دکا کوئے کی چیخ پکار اور برف پر رینگتی ہوئی گاڑیوں کی مسوسی ہوئی آواز
میری ڈائری کے چند ورق
12 جون اس عالم بیداری میں جانداروں کے اس اژدھام عظیم میں زندگی کی اس پر شور روانی میں رہتے ہوئے بھی محسوس ہوتا ہے کہ میں اکیلا ہوں۔ اکیلا، بالکل اکیلا، میری تنہائی اس قیدی سے بھی زیادہ المناک ہے جو ایک چہار دیواری میں بند ہونے کے بعد یہ سوچ ہی رہا
زبان بے زبانی
میں برگد کا ایک عمر رسیدہ درخت ہوں، غیر فانی اور ابدی! نہ جانے کتنی مدت سے میں تن تنہا اور خاموش کھڑا ہوں۔ برقرار نہ بیقرار! بےزبان اور نغمہ زن! یاد نہیں کتنی مرتبہ کڑکڑاتی سردیوں میں اپنی بےبرگ شاخوں سے کوہاسہ کی چادر ہٹا کر میں نے فریاد کی ہے، نہ
عورت
ایک ایسا زمانہ آیا جب تمام کائنات پر عقل و شعور کی حکومت کار فرما ہو گئی اور جذبات یکسر معدوم ہو گئے۔ اس کی تفصیل یوں ہے: جب سماج اور قدرت پر انسان نے ایسا تسلط حاصل کر لیا کہ نظام معاشی میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو سکے اور حیات و ممات کے مسائل
مجھے جانے دو
’’مجھے جانے دو‘‘ اس نے کہا اور جب تک میں اسے روکوں وہ ہاتھ چھڑا کر جا چکی تھی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھوں کی ایک جھپک اور دہلیز پر پاؤں کے بچھوے کی ایک جھنک سنائی دی۔ وہ چلی گئی اور میں کوٹھڑی میں اکیلا رہ گیا۔ میں وہاں جانا نہ چاہتا تھا۔ میں اکثر
وہ دونوں
اندھیرے میں کچھ مردے چپ چاپ بیٹھے ہوئے تھے۔ اوپرموت کی ہلکی ہلکی تاریکی نور کی چٹانوں میں جم رہی تھی اور نیچے زندگی موریوں میں پگھل رہی تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا، ’’آؤ اب ہم اس دنیا کی باتیں کریں جسے ہم ہمیشہ کے لئے چھوڑ آئے ہیں۔ دیکھو، مٹی کی
میرا گھر
وہ گھر، جو گویا ملک کا پڑپوتا تھا۔ صوبے کے بیٹے شہر کے چھوکرے محلہ کا لڑکا۔۔۔ وہ بہت بڑا تھا۔ یہ نہ میرا گھر تھا نہ میرے باپ کا۔ بلکہ ایک سیٹھ کا مکان تھا، اس میں بہت سے کمرے تھے جس طرح مکڑی کے جالے میں بہت سے خانے ہوتے ہیں، بہت سے لوگ مکھیوں کی طرح
اندھا بھکاری
کلکتہ کا ایک مکروہ محلہ۔۔۔ پچھلے پہر کا وقت۔ جاڑے کی راتیں۔۔۔ ٹھنڈی ہوا کے جھکڑ۔ ہوا تاڑی اور بنگلا کی بدبو سے بوجھل ہو رہی ہے۔ گلیوں میں آبخوروں کے ٹکڑے، بوتلوں کی کرچیں، جھوٹے پتل اور انڈوں کے چھلکے بکھرے پڑے ہیں۔ طوائفیں منہ چھپائے سو رہی ہیں۔