- کتاب فہرست 178131
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اشرف صبوحی کے خاکے
پرنانی
پرنانی اپنے ہی کُٹم کی نہیں بلکہ سارے محلے کی پرنانی تھیں۔ بچے تو بچے ہر جاننے والا بوڑھا ہو یا جوان، ان کو پرنانی کہتا تھا۔ زندگی کے باغ میں ان کی ہستی ایک ایسے درخت کے مانند تھی جو خزاں کے متواتر جھونکوں سےلنڈ منڈرہ گیا ہو۔ پھل پھول آنے بند ہوگئے ہوں
میر باقر علی
غدر کے بعد سے دلی پر کچھ ایسی ساڑھ ستی آئی کہ اول تو پرانے گھروں کا نام و نشان ہی مٹ گیا۔ نہ مکان رہے نہ مکیں۔ سارا شہر ہی بارہ باٹ ہو گیا اور جن کی نال نہیں اکھڑی وہ پیٹ کی خاطر تتر بتر ہوئے۔ روٹی کی تلاش میں جس کو دیکھو خانہ بدوش۔ بارہ برس ہوئے ملازمت
گھمی کبابی
گھمی کبابی کو کون نہیں جانتا۔ سارا شہر جانتا ہے۔ جب تک یہ زندہ رہا کبابوں کی دنیا میں اس سے زیادہ دلچسپ کوئی کبابی نہ تھا۔ جامع مسجد کی سیڑھیوں سے لے کر ادھر دلی دروازے تک اور ادھر حبش خاں کی پھاٹک تک اس کے کباب چٹخارے لے لے کر کھائے جاتے تھے۔ چھوٹے
مرزا چپاتی
خدا بخشے مرزا چپاتی کو، نام لیتے ہی صورت آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ گورا رنگ، بڑی ہوئی ابلی ہوئی آنکھیں، لمبا قد شانوں پر سے ذرا جھکا ہوا۔ چوڑا شفّاف ماتھا۔ تیموری ڈاڑھی، چنگیزی ناک، مغلئی ہاڑ۔ لڑکپن تو قلعے کی درودیوار نے دیکھا ہوگا۔ جوانی دیکھنے والے
گنجے نہاری والے
آہ دلّی مرحوم جب زندہ تھی اور اس کی جوانی کا عالم تھا۔ سہاگ بنا ہوا تھا، اس پر کیا جوبن ہوگا۔ اب تو نہ وہ رہی نہ اس کے دیکھنے والے رہے۔ کلوّ بخشو کےتکیے پر سوتے ہیں۔ اگلی کہانیاں کہنے والا تو کیا کوئی سننے والا بھی نہیں رہا۔ غدر نے ایسی بساط الٹی کہ
نیازی خانم
اللہ بخشے نیازی خانم کو عجیب چہچہاتی طبیعت پائی تھی۔ بچپن سے جوانی آئی، جوانی سے ادھیڑ ہوئیں۔ مجال ہے جو مزاج بدلا ہو۔ جب تک کنواری رہیں، گھروالوں میں ہنستی کلی تھیں۔ بیاہی گئیں تو کھلا ہوا پھول بن کر میاں کے ساتھ وہ چُہلیں کیں کہ جو سنتا پھڑک اٹھتا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
