- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
حیات اللہ انصاری کے افسانے
ماں بیٹا
’’مذہبی انتہا پسندی سے پریشان ایک ہندو بیٹے اور مسلمان ماں کی کہانی۔ وہ دونوں بالکل الگ تھے۔ الگ ماحول، معاشرہ اور ایک دوسرے کے مذہب سے سخت نفرت کرنے والے۔ مگر ان کے اجڑنے کی کہانی ایک جیسی تھی۔ پھر اتفاق سے جب وہ ملے اور ایک دوسرے کی کہانی سنی تو ان کی سوچ پوری طرح سے بدل گئی۔‘‘
آخری کوشش
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جس نے بہتر زندگی کی تلاش میں اپنی زندگی کے 25 سال کولکاتہ میں گزار دیے۔ مگر حاصل کچھ نہیں کر سکا۔ جیسا وہ 25 سال پہلے شہر سے گیا تھا ویسا ہی واپس لوٹ آتا ہے۔ گاؤں میں بھی اس کے سامنے بدحالی اور غریبی منھ پھاڑے کھڑی رہتی ہے۔ گھر کے حالات کو لے کر اکئی بار س کا اپنے چھوٹے بھائی سے جھگڑا بھی ہوتا ہے۔ پھر دونوں بھائی مل کر ایک نیا کام شروع کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔
ڈھائی سیر آٹا
’’یہ ایک مزدور کی کہانی ہے، جو بہت مشکل سے اپنی کنبے کا پیٹ بھر پاتا ہے۔ ایک روز کام سے لوٹتے ہوئے اسے سڑک پر ڈھائی سیر آٹا پڑا ہوا مل جاتا ہے۔ وہ آٹے کو سمیٹتا ہے اور گھر لے آتا ہے۔ اس آٹے کی بھی اپنی ہی کہانی ہوتی ہے۔ وہ آٹا ایک مدت بعد اس کے اور اس کے بچوں کے چہرے پر خوشی اور راحت کا احساس دلا تا ہے۔‘‘
بھیک
’’ایک ایسے شخص کی کہانی، جو پہاڑوں پر سیر کرنے کے لیے گیا ہے۔ وہاں اسے ایک غریب لڑکی ملتی ہے، جسے وہ اپنے یہاں نوکری کرنے کا آفر دیتا ہے۔ مگر اگلے دن امید سے لبریز جب وہ لڑکی اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ ڈاک بنگلے پر پہنچتی ہے تو ایک ساتھ اتنے بچوں کو دیکھ کر وہ اسے نوکری پر رکھنے سے منع کر دیتا ہے۔ انکار سن کر لڑکی جب واپس جانے لگتی ہے تو وہ اسے دو روپیے دے دیتا ہے۔‘‘
شکر گزار آنکھیں
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو فسادیوں کے ایک ایسے گروہ میں شامل ہوتا ہے، جو ایک ٹرین کو گھیر کر روک لیتا ہے۔ گروہ ٹرین میں بیٹھے مسلمانوں کو اتار لیتا ہے۔ ان میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی ہوتا ہے۔ وہ شخص نوبیاہتا جوڑے میں دولہے کو مار دیتا ہے اور پھر دلہن کی التجا پر اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ مگر مرتے وقت دلہن کی آنکھوں میں کچھ ایسا جذبہ تھا جسے وہ ساری زندگی کبھی بھلا نہیں پایا۔
بھرے بازار میں
کوئی چیز رکھی کے پیٹ پر پھد سے گری۔ رکھی کنمنائی اور آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔ پھر ایک زیادہ وزنی چیز آکر چھاتی پر گری اور ساتھ ہی ایک قہقہہ سنائی دیا۔ اب رکھی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے گلی کے نکڑ پر کلو کو دیکھا جس نے رکھی سے آنکھیں ملاتے ہی
اندھیرا اجالا
یہ ایک جیب کترے کی کہانی ہے، جو اپنے کام میں جتنا پرفیکٹ ہے خاندان کے معاملے میں اتنا ہی ناکام۔ اس کی بیٹی ایک دوسرے جیب کترے کے بیٹے کے ساتھ بھاگ جاتی ہے اور بیٹا بھی ایک دوسرے جیب کترے کے ساتھ ایک نازیبا حالت میں پولس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔
بے حد معمولی
’’نسلی برتری پر یقین کرنے والے ایک ایسے شخص کی کہانی، جس کی بیوی ایک بھکارن کے بچوں کو پالنے کے لیے گھر لے آتی ہے۔ پروفیسر دارا مرزا کا یقین ہے کہ عظیم شخصیتیں صرف برتر نسلوں میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ وہیں ان کی بیوی کا ماننا ہے کہ کسی کی عظمت یا کامیابی کی سرا اس کی نسل میں نہیں، پرورش میں ہوتی ہے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
