- کتاب فہرست 188990
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3626طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2300نصابی کتاب562 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1683
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5417
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ72
- واسوخت29
انتظار حسین کے اقوال
جب سب سچ بول رہے ہوں تو سچ بولنا ایک سیدھا سادہ اور معاشرتی فعل ہے لیکن جہاں سب جھوٹ بول رہے ہوں وہاں سچ بولنا سب سے بڑی اخلاقی قدر بن جاتا ہے۔ اسے مسلمانوں کی زبان میں شہادت کہتے ہیں۔
قوموں کو جنگیں تباہی نہیں کرتیں۔ قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب جنگ کے مقاصد بدل جاتے ہیں۔
آج کا لکھنے والا غالب اور میر نہیں بن سکتا ۔ وہ شاعرانہ عظمت اور مقبولیت اس کا مقدر نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ ایک بہرے ،گونگے، اندھے معاشرے میں پیدا ہوا ہے۔
جس زمانے میں تاروں کو دیکھ کر زمین کی سمت اور رات کا سمے معلوم کیا جاتا تھا، اس زمانے میں سفر شاید تعلیم کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
جو معاشرہ اپنے آپ کو جاننا نہیں چاہتا وہ ادیب کو کیسے جانے گا۔ جنہیں اپنے ضمیر کی آواز سنائی نہیں دیتی انہیں ادیب کی آواز بھی سنائی نہیں دے سکتی۔
تاج محل اسی باورچی کے زمانے میں تیار ہو سکتا تھا، جو ایک چنے سے ساٹھ کھانے تیار کر سکتا تھا۔
رشتوں کی تلاش ایک درد بھرا عمل ہے۔ مگر ہمارے زمانے میں شاید وہ زیادہ ہی پیچیدہ اور درد بھرا ہوگیا ہے۔
چار آدمیوں کی صحبت ادیب کے تخلیقی کام میں کھنڈت ڈالتی ہے۔ لڑاکا بیوی، باتونی انٹلکچول، لائق معلم، ادب کی سرپرستی کرنے والا افسر۔
ہر متروک لفظ ایک گمشدہ شہر ہے اور ہر متروک اسلوبِ بیان ایک چھوڑا ہوا علاقہ۔
اگر ہمیں کوئی نیا نظام بنانا ہے تو پرانے نظام کو یاد رکھنا چاہیے۔ اگر ہم نے پرانے نظام کو بھلا دیا تو پھر ہمیں یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ کس قسم کی باتوں کے لئے جد و جہد کرنی چاہیے، اور ایک دن نوبت یہ آئے گی کہ ہم جد و جہد سے بھی تھک جائیں گے اور مشین کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔
الف لیلہ کو بس یوں سمجھ لیجئے کہ سارے عربوں نے یا ایک پوری تہذیب نے اسے تصنیف کیا ہے۔
بات یہ ہے کہ معلومات حواس سے بے تعلق رہیں اور افکار و خیالات خون کا حصہ نہ بنیں، یعنی فکر اور احساس کا سنجوگ نہ ہو سکے تو پھر یہ علم خشک علم رہتا ہے، حکمت نہیں بنتا۔ اس میں وہ تولیدی قوت پیدا نہیں ہوتی کہ خیال سے خیال پیدا ہو اور عملی زندگی کے ساتھ اس کے وصل سے کچھ نئے رنگ، کچھ تازہ خوشبوئیں جنم لیں۔
عورت یعنی چہ؟ محض جنسی جانور؟ پھر مرد کو بھی اسی خانے میں رکھئے۔ یہ کوئی الگ جانور تو نہیں ہے، اسی مادہ کا نر ہے۔
ایک بے ایمان قوم اچھی نثر نہیں پیدا کر سکتی تو اچھی شاعری کیا پیدا کرے گی۔ ویسے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے معاشرہ میں اچھے نثرنگار یا شاعر سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے۔ ہوتے تو ہیں مگر وہ ایک مؤثر ادبی رجحان نہیں بن سکتے اور ادب ایک معاشرتی طاقت نہیں بن پاتا۔
شاعری، کم از کم بڑی شاعری محض شعور کا معاملہ نہیں ہوتی۔ وہ چھوٹے شاعر ہوتے ہیں جنھیں پوری خبر ہوتی ہے کہ وہ شعر میں کیا کر رہے ہیں۔ بڑا شاعر خبر اور بے خبری کے دوراہے پر ہوتا ہے۔
ہر گنہگار معاشرہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنے عضو ضعیف پر ڈالتا ہے۔ گنہگار معاشرہ میں ادیب کی حیثیت عضو ضعیف کی ہوتی ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ ہم غالب سے کتنے مختلف زمانے میں جی رہے ہیں۔ اس شخص کا پیشہ آبا سپہ گری تھا۔ شاعری کو اس نے ذریعہ عزت نہیں سمجھا۔ غالب کی عزت غالب کی شاعری تھی۔ شاعری اس کے لئے کسی دوسری عزت کا ذریعہ نہ بن سکی۔ اب شاعری ہمارے لئے ذریعہ عزت ہے۔
دنیا آدمی کے ساتھ لگی ہوئی ہے، لیکن جب آدمی دنیا کے ساتھ لگ جائے اور دنیوی ضروریات معاشرہ کے اعصاب پر سوار ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی قدر مر گئی ہے۔ اس واقعہ کی خبر یا تو کسی ولی کو ہوتی ہے یا ادیب کو ہوتی ہے۔
اردو ادب کے حق میں دو چیزیں سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوئیں۔ انسان دوستی اور کھدر کا کرتا۔
نئی غزل وضع کرنے کا ٹوٹکا یہ ہے کہ نئی اشیا کے نام شعر میں استعمال کیجئے۔ جیسے کرسی، سائیکل، ٹیلیفون، ریل گاڑی، سگنل۔
لفظ جب ڈوبتا ہے تو اپنے ساتھ کسی احساس یا کسی تصور کو لے کر ڈوبتا ہے اور جب کوئی اسلوب بیان تقریر اور تحریر کے محاذ پر پٹ جاتا ہے، تو وہ تصویروں، اشاروں، کنایوں تلازموں اور کیفیتوں کے ایک لشکر کے ساتھ پسپا ہوتا ہے۔
چیزوں کو پرکھنے، اچھے اور برے میں تمیز کرنے اور خوبصورتی اور بدصورتی میں فرق کرنے کے ہمارے اپنے معیار نہیں رہے ہیں، یا یہ کہ اپنے معیاروں پر اعتبار نہیں رہا ہے۔
جب کسی زبان سے علامتیں گم ہونے لگتی ہیں تو وہ اس خطرے کا اعلان ہے کہ وہ معاشرہ اپنی روحانی واردات کو بھول رہا ہے، اپنی ذات کو فراموش کرنا چاہتا ہے۔ اردو میں حقیقت نگاری کی تحریک اصل میں اپنی ذات کو فراموش کرنے کی تحریک تھی۔
زمانے کی قسم آج کا لکھنے والا خسارے میں ہے اور بے شک ادب کی نجات اسی خسارے میں ہے۔ یہ خسارہ ہماری ادبی روایت کی مقدس امانت ہے۔
آدمی اور آدمی کے درمیان رشتہ نہ رہے یعنی اجتماعی فکریں ختم ہو جائیں اور ہر فرد کو اپنی فکر ہو تو ادب اپنی اپیل کھو بیٹھتا ہے۔
اس صدی (بیسوی) کی تیسری اور چوتھی دہائی کا اردو افسانہ حقیقت نگاری اور جذباتیت کے گھپلے کی پیداوار ہے۔ اس عمارت کی اینٹ ٹیڑھی رکھی گئی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پریم چند اردو افسانے کی ٹیڑھی اینٹ ہیں۔
جذباتیت حقیقت نگاری کی مابعد الطبیعات ہے۔ حقیقت نگار جب حقیقت سے گریز کرتے ہیں تو جذباتیت میں پناہ لیتے ہیں۔
ادب اور موٹر کار دو الگ الگ قدریں ہیں۔ ادب ایک ذہنی رویہ ہے، جینے کا ایک طور ہے، موٹر کار جینے کا ایک دوسرا اسلوب ہے۔
کہتے ہیں کہ موجودہ بر اعظموں کے منجملہ پہلے ایک اور بر اعظم تھا جو سمندر میں غرق ہوگیا۔ اردو کی پرانی داستانوں اور پرانی شاعری میں جو رنگا رنگ اسالیب بیان اور ان گنت الفاظ نظر آتے ہیں، وہ پتا دیتے ہیں کہ اردو زبان بھی ایک پورا بر اعظم غرق کئے بیٹھی ہے۔
سر انگشت حنائی کا تصور بھی اچھا ہے کہ یوں دل میں لہو کی بوند بھی نظر آتی ہے اور دماغ میں حسن کا تصور بھی قائم رہتا ہے۔
اشتہاروں کی طاقت یہ ہے کہ آج کوئی فرم یہ ٹھان لے کہ اسے غلیلوں کا کاروبار کرنا ہے تو وہ اسے کرکٹ کے برابر بھی مقبول بنا سکتی ہے۔
رسم الخط کی تبدیلی محض رسم الخط کی تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے باطن کو بھی بدلنے کا اقدام ہوتی ہے۔
جب روزہ مرہ کے کاموں میں تخلیقی عمل رک جائے یا مندا پڑ جائے تو اسے کلچر کے زوال کی علامت سمجھنا چاہیے۔
پرانی دنیا میں عشق جز وقتی مشغلہ نہیں تھا ۔اس کی حیثیت ضمنی اور غیر ضروری کام کی نہیں تھی۔ عشق کے آغاز کے ساتھ سارے ضروری کام معطل ہو جاتے تھے اور آدمی کی پوری ذات اس کی لپیٹ میں آجاتی تھی۔ یہ صنعتی عہد کا کارنامہ ہے کہ عشق کو ذات کی واردات اور زندگی کا نمائندہ جذبہ ماننے سے انکار کیا گیا۔
اشتہارات دل و دماغ پر یلغار کرتے ہیں اور عقل کے گرد گھیرا ڈالتے ہیں۔ وہ جدید نفسیاتی اسلحہ سے مسلح ہوتے ہیں جن کے آگے کوئی مدافعت نہیں چلتی اور دل و دماغ کو بالآخر پسپا ہونا پڑتا ہے۔
ہم لکھنے والے ایک بے ایمان معاشرہ میں سانس لے رہے ہیں۔ ذاتی منفعت اس معاشرہ کا اصل الاصول بن گئی ہے اور موٹر کار ایک قدر کا مرتبہ حاصل کر چکی ہے۔
آج کے لکھنے والوں کے لئے ماضی کوئی واضح اور معین رشتہ نہیں رہا ہے۔ بلکہ رشتوں کا ایک گچھا ہے جس کے مختلف سرے ان کے ہاتھ میں آ آکر پھسل جاتے ہیں۔
جب ہم کسی اجنبی تہذیب کی ایک تلمیح کو قبول کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس باطنی واردات پر ایمان لے آئے ہیں جس سے وہ تلمیح عبارت ہے۔
ہماری روز مرہ کی زندگی میں تخلیقی عمل کی رو ماند پڑ گئی ہے۔ ایک دسترخوان پر موقوف نہیں، ہمار ا لباس، ہمارے کھیل، ہماری دست کاریاں، ہمارے پیشے یعنی ہماری ہر سرگرمی میں تخلیقی عمل کی رو کچھ سست پڑ گئی ہے۔ جب یہ صورت ہو تو کسی غیر کلچر کے لئے اس پر یلغار کرنا سہل ہو جاتا ہے۔
ادیب بھی آدمی ہوتے ہیں۔ اردگرد کے حالات اس کے طرزِ عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب ہر شخص کو اپنی فکر ہو تو ادیب کو بھی اپنی فکر پڑتی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
