- کتاب فہرست 180334
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6484افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4202خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
جوگندر پال کے افسانچے
درختوں میں بھی جان ہوتی ہے
درخت کاٹنے والے نے کلہاڑے کو دونوں ہاتھوں سے سر سے اوپرلے جا کر پورے زور سے درخت کے تنے پر چوٹ کرنا چاہی مگر درخت کی شاخیں کلہاڑے سے وہیں الجھ گئیں اور درخت کاٹنے والے نے کلہاڑے کو وہاں سے نکالنا چاہا تو وہ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر اس کے پیروں پر آ گرا
پہچان
’’انسان کے علاوہ دوسرے جانداروں میں بھی نام رکھنے کا رواج کیوں نہیں؟‘‘ ’’دوسرے جانداروں کو ڈر ہے کہ ناموں سے پہچان میں دھوکا ہو جاتا ہے۔‘‘ ’’دھوکا ہو جاتا ہے؟‘‘ ’’ہاں، ہماری پہچان نام کی محتاج ہے اور ان کی پہچان، کردار کی۔‘‘
شکلیں
’’کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ سبھی بچے ایک جیسے نظر آتے ہیں؟‘‘ ’’ہاں اور بوڑھے بھی۔‘‘ ’’ہاں بوڑھے بھی واقعی ہم شکل معلوم ہوتے ہیں کتنے تعجب کی بات ہے !‘‘ ’’نہیں، اس میں تعجب کیسا؟ بچوں کی میں ابھی آئی نہیں ہوتی اور بوڑھوں کی میں آ کے جا چکی ہوتی
ویشیائیں
میں نے رخسانہ کے ساتھ رات گزارنے کے بعد اسے دام ادا کئے بغیر کھسک جانا چاہا ۔ وہ بولی، ’’میرے پیسے مار کے جارہے ہو تو جاؤ لیکن یاد رکھو، اگلے جنم میں اوپر والا تمہیں میری بیوی بنائے گا اور تمہیں ساری عمر میرے ساتھ مفت سونا پڑے گا۔‘‘
کچا پن
’’بابا، تم بڑے میٹھے ہو۔‘‘ ’’یہی تو میری مشکل ہے بیٹا۔ ابھی ذرا کچا اور کھٹا ہوتا تو جھاڑ سے جڑا رہتا۔‘‘
بھوت پریت
چند بھوت حسب معمول اپنی اپنی قبر سے نکل کر چاندنی رات میں گپیں ہانکنے کے لئے کھلے میدان میں اکٹھا ہو کر بیٹھ گئے اور بحث کرنے لگے کہ کیا واقعی بھوت ہوتے ہیں۔ ’’نہیں،‘‘ ایک نے ہنس کر کہا ،’’سب من گھڑت باتیں ہیں۔‘‘ ایک اور بولا، ’’کسی بھی بھوت کو علم
اجنبی
پہلی ملاقات میں ہی مجھےاور اسے بھی پتا چل گیا کہ وہ اور میں جنم جنم کے شناسا ہیں اور ہم نے اکٹھا رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ اوربرس ہا برس اکٹھا رہ رہ کر ہم ایک دوسرے سے اتنے ناواقف ہو گئے کہ مجھے اور اسے بھی معلوم ہوا، ہم ایک دوسرے سے کبھی نہیں ملے۔
ماضی
پورے تیس برس بعد میں اپنے گاؤں جا رہا ہوں اور ریل گاڑی کی رفتار کے صوتی آہنگ پر کان دھرے ان دنوں کا خواب دیکھ رہا ہوں جو میں نے بچپن میں اپنے گاؤں میں بتائے تھے۔رات گہری ہو رہی ہے اور خواب گھنا۔ میں گھنٹوں کی نیند کے بعد ہڑبڑا کر جاگ پڑا ہوں اور دیکھتا
ہیڈ لائٹس
اندھیری رات تھی اور میں اپنی موٹر گاڑی کو ایک بل کھاتی ہوئی انجانی سڑک پر لئے جا رہا تھا اور مجھے ایک وقت پر صرف وہیں تک نظر آ رہا تھا جہاں تک ہیڈ لائٹس کی روشنی پڑ رہی تھی۔ میرے آگے آگے دوڑتی ہوئی کوئی تین ساڑے تین سو گز کی روشنی اور یوں میں اندھیرے
نقطۂ نظر
میں اندھا تھا۔ لیکن جب ایک برٹش آئی بنک سے حاصل کی ہوئی آنکھیں میرے راکٹس میں فٹ کر دی گئیں تو مجھے دکھائی دینے لگا اور میں سوچنے لگا کہ غیروں کا نقطۂ نظر اپنا لینے سے بھی اندھا پن دور ہو جاتا ہے۔
نئے رہنما
نہیں، ہم قحط یا وبا سے بھی اتنا خوف محسوس نہیں کرتے۔ ہاں، سیلاب سے بھی ہزاروں ناحق لقمۂ اجل بن جاتے ہیں مگر ہم سیلاب سے بھی اس قدر نہیں لرزتے جس قدر اس بات سے کہ ہمارے سیاستداں اچانک کسی وقت کیا مصیبت کھڑی کر دیں گے۔
تعاقب
میں ایک خوبصورت عورت کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ تھوڑے فاصلے پر وہ ایک تنہا مقام پر رک گئی اور میری طرف مڑ کر گویا ہوئی، آؤ اب میرے ساتھ ساتھ چلو۔ میں بھی تمہارے آگے اسی لئے چل رہی تھی کہ تمہارا پیچھا کر سکوں۔
ظروف
’’تعجب ہے! صندوق کے باہر جوں کا توں قفل لگا رہا اور اس کے اندر ہی اندر سارے بیش بہا ہیرے جواہرات غائب ہو گئے؟‘‘ ’’یہی تو ہوتا ہے۔ ہاں !یقین نہ ہو تو مر کر دیکھ لو۔‘‘
پروڈکشن
مجھے ہر انسان مصنوعی کیوں معلوم ہوتا ہے؟ کیوں کہ وہ ہے ہی مصنوعی۔ ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ بچہ آج اپنے ماں باپ کی محبت کے باعث پیدا نہیں ہوتا، بس ان کے جسموں کی خود کار حرکت سے وجود میں آجاتا ہے۔
سننے کی بات
اس نے ساری عمر کسی کی نہ سنی، صرف اپنی کہی اور اس طرح وہ بوڑھا اور ناکارہ ہو گیا۔ اور اب اس کے کان سننے سے معذور ہو گئے ہیں۔ مگر وہ انہیں ہر دم بے سود کھڑا کئے رکھتا ہے کہ کچھ تو سنائی دے۔
کنواریاں
ساگر کی بے چین لہریں ساحل کی طرف اچھل آئی تھیں اور مسرت سے جھاگ ہو ہو کر بے تحاشہ دوڑنے لگی تھیں اور خشکی نے نظر بچا کے اپنے انگنت بازو ان کی طرف بڑھا دیئے تھے اور انہیں ایک دم اپنے اندر اتار لیا تھا اور بوڑھا ساگر بے چارہ اپنی کنواری بیٹیوں کو اپنی
پس ماندگی
ڈاکٹر اپنے مریض کو ڈانٹ رہا تھا۔ ’’تم ابھی تک بیسویں صدی میں رہ رہے ہو۔ تمہارا علاج کیوں کر کروں؟ کئی بار سمجھا چکا ہوں کہ کھلی ہوا میں سانس مت لیا کرو۔ بیماریوں سے بچے رہنا ہے تو مصنوعی آکسیجن کو ایک منٹ کے لئے بھی اپنی ناک سے الگ مت کرو۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
