محمد بینظیر شاہ کے اشعار
ہمارا امتحاں کرتے ہو لیکن
تمہارا بھی اسی میں امتحاں ہے
مصیبت میں آنکھیں کھلیں اب تو دیکھا
چھپاتے ہیں منہ مہرباں کیسے کیسے
ہوئے پھول خشک چمن جلا کہیں نام کو نہ تری رہی
یہی اپنے زخم ہرے رہے یہی اپنی آنکھ بھری رہی
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere