- کتاب فہرست 188733
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2088
ڈرامہ1035 تعلیم388 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1781 صحت109 تاریخ3599طنز و مزاح758 صحافت219 زبان و ادب1978 خطوط823
طرز زندگی29 طب1051 تحریکات299 ناول5076 سیاسی375 مذہبیات5035 تحقیق و تنقید7431افسانہ3040 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل121 تصوف2294نصابی کتاب571 ترجمہ4617خواتین کی تحریریں6322-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1489
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1384
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1678
- کہہ مکرنی7
- کلیات724
- ماہیہ21
- مجموعہ5415
- مرثیہ405
- مثنوی897
- مسدس62
- نعت612
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
پریم چند کے اقوال
میں ایک مزدور ہوں جس دن کچھ لکھ نہ لوں اس دن مجھے روٹی کھانے کا کوئی حق نہیں۔
سونے اور کھانے کا نام زندگی نہیں ہے۔ آگے بڑھتے رہنے کی لگن کا نام زندگی ہے۔
ہمیں حسن کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ ابھی تک اس کا معیار امیرانہ اور عیش پرورانہ تھا۔
ہندوستانی، اردو اور ہندی کی چار دیواری کو توڑ کر دونوں میں ربط ضبط پیدا کر دینا چاہتی ہے۔ تاکہ دونوں ایک دوسرے کے گھر بے تکلف آ جا سکیں۔ محض مہمان کی حیثیت سے نہیں بلکہ گھر کے آدمی کی طرح۔
سچی شاعری کی تعریف یہ ہے کہ تصویر کھینچ دے۔ اسی طرح سچی تصویر کی صفت یہ ہے کہ اس میں شاعری کا مزہ آئے۔
جس طرح انگریزوں کی زبان انگریزی، جاپان کی جاپانی، ایران کی ایرانی، چین کی چینی ہے، اسی طرح ہندوستان کی قومی زبان کو اسی وزن پر ہندوستانی کہنا مناسب ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔
ہندوستان کی قومی زبان نہ تو وہ اردو ہو سکتی ہے جو عربی اور فارسی کے غیر مانوس الفاظ سے گراں بار ہے اور نہ وہ ہندی جو سنسکرت کے ثقیل الفاظ سے لدی ہوئی ہے۔ ہماری قومی زبان تو وہی ہو سکتی ہے جس کی بنیاد عمومیت پر قائم ہو۔
ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت اور ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے۔ سلائے نہیں، کیوں کہ اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔
ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مصوری سے نفرت رکھتے ہیں۔ میری نگاہ میں ایسے آدمیوں کی کچھ وقعت نہیں۔
اس وقت ہندوستان کو شاعری سے زیادہ مصوری کی ضرورت ہے۔ ایسے ملک میں جہاں صدہا مختلف زبانیں رائج ہیں، اگر کوئی عام زبان رائج ہو سکتی ہے تو وہ تصویر کی زبان ہے۔
آرٹسٹ ہم میں حسن کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور محبت کی گرمی۔ اس کا ایک فقرہ، ایک لفظ، ایک کنایہ اس طرح ہمارے اندر بیٹھتا ہے کہ ہماری روح روشن ہو جاتی ہے۔
ہمارے لئے وہ شاعرانہ جذبات بے معنی ہیں جن سے دنیا کی بے ثباتی ہمارے دل پر اور زیادہ مسلط ہو جائے۔ اور جن سے ہمارے دلوں پر مایوسی طاری ہو جائے۔
اخلاقیات اور ادبیات کی منزل مقصود ایک ہی ہے، صرف ان کے طرز خطاب میں فرق ہے۔ اخلاقیات دلیلوں اور نصیحتوں سے عقل اور ذہن کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ادب نے اپنے لیے کیفیات اور جذبات کا دائرہ چن لیا ہے۔
ہم ادیب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی بیدار مغزی، اپنی وسعت خیالی سے ہمیں بیدار کرے۔ اس کی نگاہ اتنی باریک اور اتنی گہری ہو کہ ہمیں اس کے کلام سے روحانی سرور اور تقویت حاصل ہو۔
ہر ایک زبان میں ایک فطری رجحان ہوتا ہے۔ اردو کو فارسی اور عربی سے فطری مناسبت ہے۔ ہندی کو سنسکرت اور پراکرت سے۔ اس رجحان کو ہم کسی طاقت سے بھی روک نہیں سکتے، پھر ان دونوں کو باہم ملانے کی کوشش میں کیوں ان دونوں کو نقصان پہنچائیں۔
ادیب کا مشن محض نشاط اور محفل آرائی اور تفریح نہیں ہے۔ وہ وطنیت و سیاست کے پیچھے چلنے والی حقیقت نہیں بلکہ ان کے آگے مشعل دکھاتی ہوئی چلنے والی حقیقت ہے۔
بھارت ورش میں زبان کی غلاظت اور بشرہ کا جھلاپن حکومت کا جزو خیال کیا جاتا ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2088
-
