- کتاب فہرست 188652
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں70
ادب اطفال2074
ڈرامہ1034 تعلیم385 مضامين و خاكه1554 قصہ / داستان1770 صحت109 تاریخ3591طنز و مزاح759 صحافت217 زبان و ادب1986 خطوط823
طرز زندگی28 طب1047 تحریکات301 ناول5026 سیاسی374 مذہبیات5011 تحقیق و تنقید7420افسانہ3039 خاکے/ قلمی چہرے293 سماجی مسائل121 تصوف2294نصابی کتاب572 ترجمہ4592خواتین کی تحریریں6340-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1487
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1355
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1670
- کہہ مکرنی7
- کلیات710
- ماہیہ21
- مجموعہ5401
- مرثیہ404
- مثنوی895
- مسدس62
- نعت611
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت28
رشید جہاں کے افسانے
دلی کی سیر
یہ فریدآباد سے دہلی کی سیر کو آئی ایک عورت کے ساتھ ہوے واقعات کا قصہ ہے۔ ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ دہلی کی سیر کے لیے آتی ہے۔ دہلی میں اس کے ساتھ جوکچھ واقع ہوتا ہے واپس جاکر انہیں وہ اپنی سہیلیوں کو سناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہوئے سبھی واقعات اتنے دلچسپ ہوتے ہیں کہ اس کی سہیلیاں جب بھی اس کے گھر جمع ہوتی ہیں، ہر بار اس سے دہلی کی سیر کا قصہ سنانے کے لیے کہتی ہیں۔
وہ
’’یہ ایک جسم بیچنے والی عورت کی کہانی ہے، وقت کے ساتھ جس کی ساری چمک دمک ختم ہو گئی ہے۔ وہ برص کی مریض ہے جس کی وجہ سے لوگ اس سے کتراتے اور نفرت کرتے ہیں۔ کوئی بھی اس سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا۔‘‘
ساس اور بہو
یہ ایک ایسی گھریلو عورت کی کہانی ہے، جو اپنی ساس کی ہر وقت شکایتیں کرتے رہنے کی عادت سے پریشان ہے۔ وہ اپنی طرف سے ساس کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ مگر ساس اس کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی کمی نکال ہی دیتی ہے۔ وہ کئی بار اپنے بیٹے سے دوسری شادی کرنے کے لیے بھی کہتی ہے۔ لیکن بیٹا اپنی ماں کی تجویز کو ہنس کر ٹال دیتا ہے۔
آصف جہاں کی بہو
یہ ایک ایسے کنبہ کی کہانی ہے جہاں لڑکی ہونے کی دعا مانگی جا رہی ہے۔ آصف جہاں ایک کلکٹر کی بیوی ہے۔ اس کے یہاں نو اولادیں ہوئی تھیں، پر ان میں سے بس ایک ہی جی سکی تھی۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے لیے اپنی نند کی بیٹی مانگ لے۔ مگر نند جب بھی امید سےہوتی ہےتو ہر بار لڑکا ہی ہوتا۔ پر اس بار خدا نے آصف جہاں کی سن لی اور اس کی نند کے یہاں بیٹی پیدا ہوئی۔
غریبوں کا بھگوان
’’کہانی ایک ایسی بیوہ کی ہے، جو اپنے بڑے بیٹے کی موت پر پاگل ہو جاتی ہے۔ اس کی بیماری میں وہ ہر کسی سے مدد مانگتی ہے مگر کوئی بھی اس کی مدد نہیں کرتا۔ وہ مندر جاتی ہے تو اسے وہاں سے نکال دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ امیروں کا مندر ہوتا ہے۔ وہاں سے نکل کر وہ غریبوں کے بھگوان کی تلاش میں بھٹکنے لگتی ہے۔ مگر کوئی بھی اسے غریبوں کے بھگوان کا پتہ نہیں دیتا۔ آخر میں ایک ڈاکٹر اسے بتاتا ہے اس دنیا میں کون غریبوں کا بھگوان ہے۔‘‘
c
کہانی میں رمضان کے مہینے میں ہونے والے افطار کے ذریعے مسلم معاشرے کی طبقاتی تقسیم کو دکھایا گیا ہے۔ ایک طرف بھیک مانگنے والے ہیں جو مرنے سے پہلے پیٹ کی آگ کی وجہ سے جہنم جیسی زندگی جی رہے ہیں، دوسری طرف اچھی زندگی جینے والے ہیں جن کے پاس ہر طرح کی سہولتیں ہیں اور وہ دنیا میں جنت جیسا سکھ بھوگ رہے ہیں۔
چور
ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے جو ایک ایسے شخص کے بچہ کا علاج کرتی ہے جس نے دوپہر ہی اس کے گھر میں چوری کی ہے۔ کئی بار وہ سوچتی ہے کہ وہ پولس کو بلاکر اسے گرفتارکرا دے۔ اس کا فوجی بھائی بھی اسی وقت اس کے کلینک میں چلا آیا تھا۔ مگر اس نے یہ سوچ کر اس چور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی کہ سماج میں ہر جگہ تو چور ہیں۔ آپ کس کس کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔
شیلا
جہاں موٹی، گوری، منجھولی شیلا میں اور کمزوریاں تھیں وہاں اس کی خوش مزاجی بھی شامل تھی، ’’ہاں‘‘ کے سوا دوسرا لفظ تو وہ جانتی ہی نہیں تھی اور، ’’نہیں‘‘ کااستعمال اس نے شاید کبھی کیا ہو۔ کسی کے ہاں ڈنر پر اگر کوئی مہمان آخری وقت پر انکار کردے تو جگہ بھرنے
میرا ایک سفر
’’یہ کہانی ہندستانی معاشرے میں مذہب اور ذات پات کی تفریق کو اجاگر کرتی ہے۔ وہ ریل کےتیسرے درجہ کے ڈبے میں سفر کر رہی تھی جب باتوں ہی باتوں میں ڈبے میں بیٹھی ہندو اور مسلمان عورتوں کے درمیان مذہب اور چھواچھوت کو لیکر جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ کافی دیر تک وہ یوں ہی بیٹھی ہوئی جھگڑے کو دیکھتی رہتی ہے۔ مگر جب لڑتی ہوئی عورتیں اسے بھی اپنی زد میں لینے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ اٹھ کر ایک ایسی دھمکی دیتی ہے کہ سبھی عورتیں آپس میں ایک دوسرے سے معافی مانگنا شروع کر دیتی ہیں۔‘‘
نئی بہوکے نئے عیب
لوآج صبح ہی سے انہوں نے پھرشورمچانا شروع کردیا۔ ’’اے بہن کیاپوچھتی ہو کہ تمہاری ساس کیوں خفا ہورہی ہیں۔ ان کی عادت ہی یہ ہے کہ ہرآئے گئے سب کے سامنے میرا رونا لے کربیٹھ جاتی ہیں۔ ساری دنیا کے عیب مجھ میں ہیں۔ صورت میری بری۔ پھوہڑمیں۔ بچوں کورکھنا
مجرم کون
ایک ایسے جج کی کہانی ہے، جو کسی اور کی بیوی سے محبت کر بیٹھتا ہے اور اسے اس کے شوہر سے الگ کر دیتا ہے۔ جب اس کی عدالت میں ایسا ہی ایک مقدمہ آتا ہے تو وہ عاشق کو تین سال کی سزا سنا دیتا ہے۔ اس پر سزا کاٹ رہے عاشق کی معشوقہ آگ لگا کر خودکشی لیتی ہے۔ ایک روز کلب میں بیٹھے ہوئے جج کے کچھ دوست اسی معاملے پر بحث کر رہے ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اصلی مجرم کون ہے؟
join rekhta family!
-
کارگزاریاں70
ادب اطفال2074
-
