- کتاب فہرست 179741
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1585 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4296 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6594افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5829-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سر سید احمد خاں کے اقوال
بے علمی مفلسی کی ماں ہے۔ جس قوم میں علم و ہنر نہیں رہتا وہاں مفلسی آتی ہے اور جب مفلسی آتی ہے تو ہزاروں جرموں کے سرزد ہونے کا باعث ہوتی ہے۔
(تقریر جلسۂ عظیم آباد پٹنہ، 26 مئی)
ہم لوگ آپس میں کسی کو ہندو، کسی کو مسلمان کہیں مگر غیر ملک میں ہم سب نیٹو (Native) یعنی ہندوستانی کہلائے جاتے ہیں۔ غیر ملک والے خدابخش اور گنگا رام دونوں کو ہندوستانی کہتے ہیں۔
(تقریر سر سید، جو انجمن اسلامیہ، امرتسر کے ایڈریس کے جواب میں 26 جنوری 1884ء کو کی گئی)
بڑے بڑے حکیم اور عالم ، ولی و ابدال، نیک و عقلمند، بہادر و نامور ایک گنوار آدمی کی سی صورت میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں مگر ان کی یہ تمام خوبیاں عمدہ تعلیم کے ذریعے سے ظاہر ہوتی ہیں۔
(تہذیب الاخلاق بابت یکم شوال 1289 ہجری)
لہجہ: اس کو بھی تہذیب میں بڑا دخل ہے۔ اکھڑ لہجہ اس قسم کی آواز جس سے شبہ ہو کہ آدمی بولتے ہیں یا جانور لڑتے ہیں، ناشایستہ ہونے کی نشانی ہے۔
سب سے بڑا عیب ہم میں خود غرضی کا ہے اور یہی مقدم سبب قومی ذلت اور نامہذب ہونے کا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو ضرور ہے کہ رفاہ عام کا جوش دل میں پیدا کریں اور یقین جانیں کہ خود غرضی سے تمام قوم کی اور اس کے ساتھ اپنی بھی بربادی ہوگی۔
جو باتیں ہمارے مخالف ہماری نسبت منسوب کرتے ہیں، ہم اس سے زیادہ الزام کے لائق ہیں ۔فرض کرو وہ باتیں ہم میں نہ ہوں مگر اور باتیں اس سے بھی زیادہ بدتر ہم میں موجود ہیں۔
( تہذیب الاخلاق، یکم رجب 129 ہجری)
ہمارے کلام میں وہ الفاظ جو مہذبانہ گفتگو میں ہوتے ہیں، نہایت کم مستعمل ہیں اور اس لیے اس کی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔
میں اپنی زبان سے وہ مراد لیتا ہوں جو کسی ملک میں اس طرح پر مستعمل ہو کہ ہر شخص اس کو سمجھتا ہو اور وہ اس میں بات چیت کرتا ہو۔ خواہ وہ اس ملک کی اصلی زبان ہو یا نہ ہو اور اسی زبان پر میں ورنیکلر کے لفظ کا استعمال کرتا ہوں۔
(تقریر بنارس، ۲۰ ستمبر 1867ء)
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
