- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
ڈرامہ926 تعلیم344 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3296طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4320 سیاسی354 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6625افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4255خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4882
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1210
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سید احتشام حسین کے اقوال
غزل اپنے مزاج کے اعتبار سے اونچے مہذب طبقہ کی چیز ہے۔ اس میں عام انسان نہیں آتے۔
سب سے زیادہ جو بت انسان کی راہ میں حائل ہوتا ہے وہ آباء و اجداد کی تقلید اور رسم و رواج کی پیروی کا بت ہے جس نے اسے توڑ لیا اس کے لئے آگے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔
اگر اطاعت پر ضبط نفس کا احتساب جاری نہ رہے تو خودی کا متلاشی خطرناک راستوں پر جا سکتا ہے۔
ادب کی سماجی اہمیت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک ہم ادیب کو باشعور نہ مانیں۔
زندگی کو نئے تجربوں کی راہ پر ڈالنا، بندھے ٹکے اصولوں سے انحراف کرکے زندگی میں نئی قدروں کی جستجو کرنا بت شکنی ہے۔
سماجی کشمکش سے پیدا ہونے والے ادب کا جتنا ذخیرہ اردو میں فراہم ہو گیا ہے اتنا شاید ہندوستان کی کسی دوسری زبان میں نہیں ہے۔
شاید یہ بحث کبھی ختم نہ ہوگی کہ نقاد کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ بحث ختم ہو یا نہ ہو، دنیا میں ادیب بھی ہیں اور نقاد بھی۔
شاعر اور ادیب نقاد کی انگلی پکڑ کر نہیں چل سکتا اور نہ نقاد کا یہ کام ہے کہ وہ ادیب کی آزادی میں رکاوٹ ڈالے۔
زبان پہلے پیدا ہوئی اور رسمِ خط بعد میں۔ میں اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ زبان اور رسمِ خط میں کوئی باطنی تعلق نہیں ہے بلکہ رسمی ہے اور اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو زبان اور رسمِ خط کے متعلق جو بحث جاری ہے وہ محدود ہو سکتی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
-
