- کتاب فہرست 179254
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
سید احتشام حسین کے اقوال
غزل اپنے مزاج کے اعتبار سے اونچے مہذب طبقہ کی چیز ہے۔ اس میں عام انسان نہیں آتے۔
سب سے زیادہ جو بت انسان کی راہ میں حائل ہوتا ہے وہ آباء و اجداد کی تقلید اور رسم و رواج کی پیروی کا بت ہے جس نے اسے توڑ لیا اس کے لئے آگے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔
اگر اطاعت پر ضبط نفس کا احتساب جاری نہ رہے تو خودی کا متلاشی خطرناک راستوں پر جا سکتا ہے۔
ادب کی سماجی اہمیت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک ہم ادیب کو باشعور نہ مانیں۔
سماجی کشمکش سے پیدا ہونے والے ادب کا جتنا ذخیرہ اردو میں فراہم ہو گیا ہے اتنا شاید ہندوستان کی کسی دوسری زبان میں نہیں ہے۔
زندگی کو نئے تجربوں کی راہ پر ڈالنا، بندھے ٹکے اصولوں سے انحراف کرکے زندگی میں نئی قدروں کی جستجو کرنا بت شکنی ہے۔
شاید یہ بحث کبھی ختم نہ ہوگی کہ نقاد کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ بحث ختم ہو یا نہ ہو، دنیا میں ادیب بھی ہیں اور نقاد بھی۔
شاعر اور ادیب نقاد کی انگلی پکڑ کر نہیں چل سکتا اور نہ نقاد کا یہ کام ہے کہ وہ ادیب کی آزادی میں رکاوٹ ڈالے۔
زبان پہلے پیدا ہوئی اور رسمِ خط بعد میں۔ میں اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ زبان اور رسمِ خط میں کوئی باطنی تعلق نہیں ہے بلکہ رسمی ہے اور اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو زبان اور رسمِ خط کے متعلق جو بحث جاری ہے وہ محدود ہو سکتی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
