- کتاب فہرست 188739
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں73
ادب اطفال2087
ڈرامہ1034 تعلیم388 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1780 صحت109 تاریخ3596طنز و مزاح758 صحافت219 زبان و ادب1977 خطوط823
طرز زندگی29 طب1050 تحریکات299 ناول5076 سیاسی375 مذہبیات5031 تحقیق و تنقید7429افسانہ3040 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل121 تصوف2293نصابی کتاب571 ترجمہ4615خواتین کی تحریریں6322-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1489
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح213
- گیت68
- غزل1384
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1678
- کہہ مکرنی7
- کلیات723
- ماہیہ21
- مجموعہ5414
- مرثیہ405
- مثنوی897
- مسدس62
- نعت612
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
واجدہ تبسم کے افسانے
نتھ اترائی
رمضان شریف کی آمد آمد تھی۔۔۔ جہاں آرام، جودراصل جہاں آرا بیگم بلکہ دراصل ’’جینوں‘‘ تھیں، رمضان شریف میں بے حد پاک باز بی بی بن جاتی تھیں۔ ڈھولک اور ہارمونیم پر غلاف چڑھادیتی تھیں۔۔۔ بھلے روزے نہ رکھتیں، مجرے بھی نہ کرتیں۔۔۔ اپنے خیالوں کی جنت میں ایک
اترن
نواب کے گھر میں پلی بڑھی ایک خادمہ کی بیٹی کی کہانی، جو ہمیشہ اس بات سے دکھی رہتی ہے کہ اسے مالک کی بیٹی کی اترن پہننی پڑتی ہے۔ حالانکہ دونوں لڑکیاں ساتھ ساتھ کھیلتی، پڑھتی ہوئی جوان ہوتی ہیں۔ مگر اس کے من سے اترن پہننے کی ٹیس کبھی نہیں جاتی۔ پھر وہ دن آتا ہے جب نواب کی بیٹی کی بارات آتی ہے اور خادمہ کی بیٹی حسد اور انتقام کے جذبے میں اس سے پہلے اس کے شوہر کے ساتھ سو جاتی ہے۔
منزل
’’یہ ایسے بچے کی کہانی ہے جسے لگتا ہے کہ اس کے ماں باپ اس سے پیار نہیں کرتے۔ اس نے اپنے ماں باپ کا پیار حاصل کرنے کے لیے ان کی خدمتیں کی تھی۔ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بنٹایا تھا۔ کتا پالا تھا۔ آڑی ترچھی لکیریں کھینچی تھیں۔ بھائیوں سے دوستی کی، بلی پالی۔ مگر کوئی بھی اپنا نہ ہو سکا۔ مٹی کے کھلونوں میں جی لگانا چاہا وہ بھی دور ہو گئے۔ سب طرف سے مایوس ہوکر اس نے مرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر تبھی اس کی زندگی میں ایک لڑکی آئی اور سب کچھ بدل گیا۔‘‘
ذرا ہور اوپر
حیدرآباد کے ایک ایسے نواب کی کہانی، جو گھر میں بیوی کے ہوتے ہوئے بھی باندیوں سے دل بہلاتا ہے۔ اس پر اس کا بیوی کے ساتھ بہت جھگڑا ہوتا ہے۔ مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔ شوہر کی حرکتوں سے بیزار ہوکر بدلے کے جذبہ سے اس کی بیوی بھی گھر میں کام کرنے والوں نوکروں کے ساتھ لطف اٹھانے لگتی ہے۔
اے رود موسیٰ
یہ ایک ایسی خوددار لڑکی کی کہانی ہے، جو دنیا کی ٹھوکروں میں رلتی ہوئی ویشیا بن جاتی ہے۔ تقسیم کے دوران ہوئے فسادات میں اس کے باپ کے مارے جانے کے بعد اس کی اور اس کی ماں کی ذمہ داری اس کے بھائی کے سر آگئی تھی۔ ایک روز وہ بہن کے ساتھ اپنے باس سے ملنے گیا تھا تو انہوں نے اس سے اس کا ہاتھ مانگ لیا تھا۔ مگر اگلے روز باس کے باپ نے بھی اس سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس نے اس خواہش کو ٹھکرا دیا تھا اور گھر سے نکل بھاگی۔
شعلے
یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے، جو ایک گھر میں گورنیس کی نوکری کرتے ہوئے اپنے باس سے محبت کرنے لگتی ہے۔ جبکہ اس کی منگنی ہو چکی ہے۔ اس کا باس بھی جانتا ہے۔ مگر وہ اپنے جذبات کو چھپا نہیں پاتی۔ باس جانتا ہے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے، لیکن وہ انکار کر دیتا ہے۔ مگر جس روز اس کی ڈولی اٹھتی ہے تب وہ سجدے میں گر کر سسک سسک کر کہتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے۔
دھنک کے رنگ نہیں
’’ایک ایسے شخص کی کہانی، جو گھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس کی بیوہ ماں اور بیوہ بہن اسے ہر ممکن طریقے سے شادی کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر وہ انکار کرتا جاتا ہے۔ پھر گھر میں ایک ایسی لڑکی آتی ہے، جس سے وہ شادی کرنے پر راضی ہو جاتا ہے۔ تبھی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس سے بھی شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔‘‘
جنتی جوڑا
ایک نواب کے گھر میں رہنے والے ایک اندھے بوڑھے کی کہانی ہے، جس سے نواب کی چھوٹی لڑکی بہت محبت کرتی ہے۔ وہ اس کے کھانے پینے کا پورا خیال رکھتی ہے۔ جوان ہونے پر جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے اندھا بوڑھا اپنی حیثیت کے مطابق اس کے لیے ایک سوتی جوڑا تیاری کراتا ہے، جسے لڑکی کی ماں ٹھکرا دیتی ہے۔ مگر نواب اس جوڑے کو اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگاتے ہوئےکہتا ہے کہ یہ جنتی جوڑا ہے۔
کوئلہ بھئی نہ راکھ
ایک ایسے جوڑے کی کہانی ہے، جو ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ لڑکا جب پیسے کمانے کے لیے شہر جاتا ہے تو وہ جتنا امیر ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اپنی محبوبہ سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اور اس کی محبوبہ اتنی ہی شدت کے ساتھ اس سے محبت کرتی جاتی ہے۔ پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب وہ اپنی محبوبہ کی شادی اپنے ایک دوست سے کرا دیتا ہے۔
زکوٰۃ
’’حیدرآبادکے ایک ایسے نواب کی کہانی، جو اپنی سخاوت کے لیے مشہور تھا۔ اس نے کبھی کسی سے کچھ نہیں لیا تھا۔ ہمیشہ دیا ہی تھا۔ ایک بار ایک غریب لڑکی پر اس کا دل آ جاتا ہے۔ لڑکی کے ماں باپ پہلے تو نواب کو انکار کر دیتے ہیں مگر پھر حالات سے مجبور ہوکر اپنی لڑکی کو اس کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ ایک محفل میں جب نواب کے دوست اس کی نئی باندی کی تعریف کرتے ہیں تو وہ کہتی ہے کہ نواب صاحب سب کو دیتے ہیں مگر میں نے انہیں اپنا حسن دیا ہے، وہ بھی زکوٰۃ میں۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں73
ادب اطفال2087
-
