وطن پرستی
عالمی شہرت یافتہ شہنائی نواز بسم اللہ خاں کے بےمثال فن سے متاثر ہو کر ایک امریکی صحافی نے آپ سے کہا بسم جی! آپ جیسے بے مثال فنکار کا اصل مقام بھارت نہیں امریکہ ہے بس جاؤ گے ہمارے دیش میں؟ آپ حکومت کے مہان ہوں گے۔ شان و شوکت شہرت عزت و عظمت سب آپ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہوں گی۔
بسم اللہ خاں نے مسکراکر جواب دیا’’نہیں! میں اپنے بنارس میں ہی خوش ہوں‘‘
’’لیکن کیوں!‘‘ صحافی نے دوسرا سوال کیا۔
اگر ایسا ہے تو ہمارے پاس ایسی ٹکنالوجی ہے جس کی مدد سے ہم وہاں کی ایک ایک اینٹ اٹھا کر لائیں گے اور یہاں لاکر آپ کو ویسا ہی گھر امریکہ میں بنادیں گے آپ صرف ہاں کہو۔‘‘ وہ عظیم فنکار پھر مسکرایا اور صحافی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا۔
’’بھائی جان مرا گھر تو آپ اٹھا لائیں گے۔ مگر میری گنگا میا اور بشیشور بھگوان کو کیسے اٹھا کر لاؤگے!؟
ہر روز علی الصبح پانچ بجے میری شہنائی کا پہلا سرگنگا ماں کے آنچل میں گونجتا ہے اور یہ میرے پیر بھگوان بشیشور کے لئے ہوتا ہے۔ سترسال کے اس معمول کو میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں!؟
امریکی صحافی کے پاس اب بولنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ وہ خاموش ہو گیا۔
پانچوں وقت کی نماز پابندی سے ادا کرنے اور روزے رکھنے والے ایک سچے پکے مسلمان کی اپنے وطن، تہذیب وتمدن اور روایات کی یہ پاسداری وطن کی مٹی سے وفا داری اور مضبوط رشتے کی روشن تاریخ ہے۔
مذہب کے مختلف ہو جانے سے تہذیبی روایات اور وطن پرستی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ وطن پرستی وفاداری دیانتداری سے بھی اوپر عبادت گذاری ہوجاتی ہے۔ بقول شاعر اعظم محمد اقبال،
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.