بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

شکیب جلالی

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

    ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

    رہ تو گئی فریب مسیحا کی آبرو

    ہر چند غم کے ماروں کا چارہ نہ ہو سکا

    خوش ہوں کہ بات شورش طوفاں کی رہ گئی

    اچھا ہوا نصیب کنارا نہ ہو سکا

    بے چارگی پہ چارہ گری کی ہیں تہمتیں

    اچھا کسی سے عشق کا مارا نہ ہو سکا

    کچھ عشق ایسی بخش گیا بے نیازیاں

    دل کو کسی کا لطف گوارا نہ ہو سکا

    فرط خوشی میں آنکھ سے آنسو نکل پڑے

    جب ان کا التفات گوارا نہ ہو سکا

    الٹی تو تھی نقاب کسی نے مگر شکیبؔ

    دعووں کے باوجود نظارہ نہ ہو سکا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY