بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ

شمیم حنفی

بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ

شمیم حنفی

MORE BY شمیم حنفی

    بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ

    ڈوبتی آنکھوں سے اپنے شہر کا منظر نہ دیکھ

    کیا پتہ زنجیر میں ڈھل جائے بستر کی شکن

    یہ سفر کا وقت ہے اب جانب بستر نہ دیکھ

    خاک و خوں میراث تیری خاک و خوں تیرا نصیب

    اس زیاں خانے میں اپنے پاؤں کا چکر نہ دیکھ

    تو نے جو پرچھائیاں چھوڑیں وہ صحرا بن گئیں

    اے نگار وقت اب پیچھے کبھی مڑ کر نہ دیکھ

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    شمیم حنفی

    شمیم حنفی

    RECITATIONS

    شمیم حنفی

    شمیم حنفی

    شمیم حنفی

    بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ شمیم حنفی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY