بھٹک رہے ہیں غم آگہی کے مارے ہوئے

شہباز خواجہ

بھٹک رہے ہیں غم آگہی کے مارے ہوئے

شہباز خواجہ

MORE BYشہباز خواجہ

    بھٹک رہے ہیں غم آگہی کے مارے ہوئے

    ہم اپنی ذات کو پاتال میں اتارے ہوئے

    صدائے صور سرافیل کی رسن بستہ

    پلٹ کے جائیں گے اک روز ہم پکارے ہوئے

    شکست ذات شکست حیات بھی ہوگی

    کہ جی نہ پائیں گے ہم حوصلوں کو ہارے ہوئے

    اے میرے آئینہ رو اب کہیں دکھائی دے

    اک عمر بیت گئی خال و خد سنوارے ہوئے

    متاع جاں ہیں مری عمر بھر کا حاصل ہیں

    وہ چند لمحے ترے قرب میں گزارے ہوئے

    زمیں پہ ذرۂ بے نام تھے مگر شہبازؔ

    بلندیوں پہ پہنچ کر ہمیں ستارے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY