دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا

شاد عظیم آبادی

دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا

شاد عظیم آبادی

MORE BY شاد عظیم آبادی

    دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا

    دریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا

    احوال جوانی پیری میں کیا عرض کروں اک قصہ ہے

    وہ طرز گئی وہ وضع گئی انداز گیا اسلوب گیا

    لا ریب خموشی نے تیری تاثیر دکھا دی مستوں کو

    بے باک جو مے کش تھا ساقی اس بزم سے وہ محجوب گیا

    بے راحلہ و بے زاد سفر رحمت پہ بھروسا فرما کر

    جو ملک عدم میں بسنے کو اس طرح گیا وہ خوب گیا

    بد حال بہت تھا اس پر بھی اے یار کسی نے لی نہ خبر

    بڑ مار کے تیرے کوچے سے آخر کو ترا مجذوب گیا

    رضواں نے کیا در خلد کا وا حوریں ہوئیں صدقے آ آ کر

    غلماں نے قدم چومے اس کے جو تیری طرف منسوب گیا

    طاقت جو نہیں اب حیرت سے تصویر کا عالم رہتا ہے

    وہ آخر شب کی آہ گئی وہ لغرۂ محبوب گیا

    یاں اپنی سزا بھگتی اس نے رحمت کی نظر ہوگی اس پر

    ہر چند خطا کار الفت کوچے سے ترے معتوب گیا

    حیرت ہے عبث اے جو ان بیش بہا منصوبوں پر

    اس طرح کے موتی تب نکلے جب زیر زمیں میں ڈوب گیا

    کیا اس کا سبب میں عرض کروں کچھ واقعے ایسے پیش آئے

    میں روتا ہوا آیا تھا یہاں چپ یاں سے گیا مرعوب گیا

    کوچے میں ترے اب شادؔ نہیں لے پاک خدا نے کی یہ زمیں

    صد شکر سرائے فانی سے آخر وہ سگ معیوب گیا

    مآخذ:

    • Book: Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 31)
    • Author: Shad Azimabadi
    • مطبع: Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت: 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites