گاج ہر دل پہ گرے تو کیا کریں کس سے کہیں
گاج ہر دل پہ گرے تو کیا کریں کس سے کہیں
مال و زر اپنا لٹے تو کیا کریں کس سے کہیں
چھوڑ دیں دنیا نہیں ایسا کوئی بندھن مگر
عمر کے اس دائرے کو کیا کریں کس سے کہیں
یوں تو ہے موقع نیا نغمہ بنے دل کش کوئی
دھن وہی ہر ساز پہ ہو کیا کریں کس سے کہیں
دکھ کٹے زحمت کٹے کٹ جائے بد حالی سبھی
وقت کاٹے نا کٹے تو کیا کریں کس سے کہیں
اس زمیں سے آسماں تک ہے بلا کی روشنی
بن کے آتش دل جلے تو کیا کریں کس سے کہیں
جوش بھی تھا ولولے بھی کر گزرنے کے مگر
بس نہ کچھ اپنا چلے تو کیا کریں کس سے کہیں
- کتاب : Ehsaas (Pg. 17)
- Author : Jatinder Vir Yakhmi
- مطبع : Flate No. 11,4B Culptro State J.V.L.R. Andheri (Est) MUmbai-400 093 (2004)
- اشاعت : 2004
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.