ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

افتخار عارف

ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    آنسو بھی تو ماؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    رستہ دیکھنے والی آنکھوں کے انہونے خواب

    پیاس میں بھی دریاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں

    پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    ایک ذرا سی جوت کے بل پر اندھیاروں سے بیر

    پاگل دیئے ہواؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے

    پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    ہم نے چپ رہنے کا عہد کیا ہے اور کم ظرف

    ہم سے سخن آراؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں افتخار عارف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY