اک فلک اور ہی سر پر تو بنا سکتے ہیں

رفیق راز

اک فلک اور ہی سر پر تو بنا سکتے ہیں

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    اک فلک اور ہی سر پر تو بنا سکتے ہیں

    کرۂ ارض کو بہتر تو بنا سکتے ہیں

    روح میں جس نے یہ دہشت سی مچا رکھی ہے

    اس کی تصویر گماں بھر تو بنا سکتے ہیں

    اشک سے خاک ہوئی تر یہی بس کافی ہے

    ایک بے جان سا پیکر تو بنا سکتے ہیں

    ہم اگر اہل نہیں پیڑ کے پھل کھانے کے

    شاخ سر سبز کو خنجر تو بنا سکتے ہیں

    سچ ہے ہم گریہ کناں کچھ بھی نہیں کر سکتے

    ریگزاروں کو سمندر تو بنا سکتے ہیں

    آتش و نور سے بجلی کے رہیں کیوں محروم

    ہم سر دشت نیا گھر تو بنا سکتے ہیں

    گرچہ پرواز کی قوت نہیں خواہش ہے بہت

    ہم خیالات کو شہپر تو بنا سکتے ہیں

    لالہ گوں منظر شاداب سرابوں میں بھی

    قلزم خوں ہو میسر تو بنا سکتے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اک فلک اور ہی سر پر تو بنا سکتے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY