اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ

سلیم صدیقی

اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ

سلیم صدیقی

MORE BYسلیم صدیقی

    اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ

    زخم کھا جاؤ گے کھیلو گے جو تلوار کے ساتھ

    ایک آہٹ بھی مرے گھر سے ابھرتی ہے اگر

    لوگ کان اپنے لگا لیتے ہیں دیوار کے ساتھ

    پاؤں ساکت ہیں مگر گھوم رہی ہے دنیا

    زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے رفتار کے ساتھ

    ایک جلتا ہوا آنسو مری آنکھوں سے گرا

    بیڑیاں ٹوٹ گئیں ظلم کی جھنکار کے ساتھ

    کل بھی انمول تھا میں آج بھی انمول ہوں میں

    گھٹتی بڑھتی نہیں قیمت مری بازار کے ساتھ

    کج کلاہی پہ نہ مغرور ہوا کر اتنا

    سر اتر آتے ہیں شاہوں کے بھی دستار کے ساتھ

    کون سا جرم خدا جانے ہوا ہے ثابت

    مشورے کرتا ہے منصف جو گنہ گار کے ساتھ

    شہر بھر کو میں میسر ہوں سوائے اس کے

    جس کی دیوار لگی ہے مری دیوار کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY