جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا

عزیز لکھنوی

جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا

عزیز لکھنوی

MORE BYعزیز لکھنوی

    جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا

    نور جل جائے ابھی چشم تماشائی کا

    رنگ ہر پھول میں ہے حسن خود آرائی کا

    چمن دہر ہے محضر تری یکتائی کا

    اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن

    بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

    اف ترے حسن جہاں سوز کی پر زور کشش

    نور سب کھینچ لیا چشم تماشائی کا

    دیکھ کر نظم دوعالم ہمیں کہنا ہی پڑا

    یہ سلیقہ ہے کسے انجمن آرائی کا

    کل جو گلزار میں ہیں گوش بر آواز عزیزؔ

    مجھ سے بلبل نے لیا طرز یہ شیوائی کا

    مأخذ :
    • کتاب : Jadeed Shora-e-Urdu (Pg. 421)
    • Author : Dr. Abdul Wahid
    • مطبع : Feroz sons Printers Publishers and Stationers

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY